اقوام متحدہ: پاکستان اور بھارت کا ایک دوسرے پر دہشت گردی کے فروغ کا الزام

پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک ڈوزیئر دیا ہے جس میں اس نے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کا الزام لگایا جبکہ بھارت ایسا ہی دوزیئر سلامتی کونسل کے کچھ ارکان کو ایک دن قبل دے چکا ہے۔

جموں و کشمیر کا ہمالیائی خطہ دہائیوں سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان متنازع رہا ہے۔(اے ایف پی فائل)

پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو منگل کو ایک ڈوزیئر دیا ہے جس میں بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس سے ایک روز قبل بھارت نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کچھ ارکان کو ایک ڈوزیئر دیا تھا جس میں اس کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں مقیم شدت پسندوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گرد حملہ کرنے کی کوشش کی۔

دونوں ممالک کی جانب سے اقدامات ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب یکم جنوری سے بھارت دو سال کے لیے 15 رکنی سلامتی کونسل کا حصہ بننے جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے الزام لگایا کہ بھارت نے مبینہ طور پر دہشت گردی کا فروغ کر کے بین الاقوامی قانون، یو این کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔  

انہوں نے انتونیو گوتریس اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ’پاکستان کے خلاف بھارت کی دہشت گردی کا نوٹس لیں اور اس پر زور ڈالیں کہ وہ ایسی غیر قانونی اور جارحانہ کارروائیوں سے باز رہے۔‘

نیو یارک میں اقوام متحدہ میں بھارتی مشن کے ایک ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا: ’پاکستان چاہے تو چھتوں سے چلا لے مگر وہ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا کہ وہ دہشت گردی کا مرکز ہے۔‘

جموں و کشمیر کا ہمالیائی خطہ دہائیوں سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان متنازع رہا ہے۔ دونوں ہمسائے اس پر مکمل دعویٰ کرتے ہیں۔ 1949 میں ہونے والی جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے یہاں تب سے اقوام متحدہ کے پیس کیپر تعینات ہیں۔

بھارت نے پیر کو دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں قائم جیش محمد تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار شدت پسند گذشتہ ہفتے ایک سرنگ کے ذریعے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے اور جب ان کے ٹرک کو معمول کی جانچ کے لیے روکا گیا تو انہوں نے فائرنگ کر دی۔

پاکستان نے اس مبینہ حملے میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے الزامات بھارت کی جانب سے کشمیر کے لوگوں پر ہونے والے جبر سے نظریں ہٹھانے کی کوشش میں لگائے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامی کونسل گذشہ سال مئی میں جیش محمد کے سربراہ کو بیلک لسٹ کر چکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا