سپریم کورٹ: بچے کے ریپ، قتل کا ملزم 14 سال بعد باعزت بری

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ 'جائے وقوعہ سے ملزم کا شناختی کارڈ برآمد کیاگیا۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ ملزم بٹوا اپنی جیب میں رکھے اور شناختی کارڈ خود بطور ثبوت چھوڑ جائے؟'

تیسری جماعت کے طالب علم دس سالہ مدثر اعظم کو  جون 2006  میں اغوا اور ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا(فائل تصویر:اے ایف پی)

سپریم کورٹ نے پیر کو ایک 10 سالہ بچے کے اغوا، ریپ اور قتل کے ملزم خادم حسین کو عدم ثبوتوں کی بنا پر 14 سال بعد بری کردیا۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی شریعت اپیلٹ بینچ نے خادم کی بریت کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ 'جائے وقوعہ سے ملزم کا شناختی کارڈ برآمد کیا گیا، کوئی سوچ سکتا ہے کہ ملزم بٹوا اپنی جیب میں رکھے اور شناختی کارڈ خود بطور ثبوت چھوڑ جائے؟' تاہم مقتول بچے کے والد محمد اعظم عدالت کے فیصلے پر مایوس نظر آئے۔

اعظم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے قانون پر اعتبار کیا لیکن آج انصاف پر سے اُن کا اعتباراٹھ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آج کمرہ عدالت میں ہی موجود تھے ’جب پانچوں جج ملزم کو ریلیف دے رہے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ 'مقدمہ پہلے راولپنڈی کی خصوصی عدالت میں چلا اور جرم ثابت ہونے پر ملزم کو تین بار سزائے موت ہوئی۔ لاہورہائی کورٹ پنڈی بینچ نے بھی سزا کو برقرار رکھا جس کے بعد وہ شریعت کورٹ گئے تو وہاں بھی سزائے موت برقرار رکھی گئی، سپریم کورٹ نے کیسے کہہ دیا کہ تینوں نچلی عدالتوں نے غلط فیصلہ دیا؟ اگر ایسا ہے تو یہ عدالتوں کی کارکردگی پر سوال ہو گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا ایک ہی بیٹا تھا، جو آج اگر زندہ ہوتا تو 25 سال کا جوان ہوتا۔‘ انہوں نے بتایا کہ خادم ان کے رشتہ دار ہیں اور گھر میں ان کا آنا جانا تھا۔ ’وہ شروع سے ہی مجرمانہ ذہنیت رکھتے تھے۔

’بچہ ان کو چاچو کہہ کر بلاتا تھا اور اسی قربت کا فائدہ اٹھا کر وہ بچے کو اپنے ساتھ لے گئے اور ریپ کے بعد قتل کر دیا، آج اعلیٰ عدالت نے ایک بار بھی نہیں سوچا اور ملزم کو بری کر دیا۔ میرے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہوئی، میرا اپنا وکیل نہیں آیا اور سرکاری وکیل نے مقدمے کو ٹھیک سے پیش ہی نہیں کیا اور نہ اسے موقع دیا گیا۔‘

واضح رہے کہ خادم پر 10 سالہ بچے مدثر کو اغوا کرکے ریپ کے بعد قتل کرنے کا الزام تھا اور انہیں ٹرائل کورٹ نے تینوں جرائم میں تین مرتبہ سزائے موت سنائی تھی جس کے بعد جب ان کی بریت کی درخواست شریعت کورٹ میں گئی جہاں سزائے موت کو برقرار رکھا گیا۔

خادم کے وکیل محمد اکرم گوندل نے عدالت میں کہا کہ ان کے موکل کو پہلے ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا بلکہ ان کے خلاف گرفتاری کے بعد شواہد بنائے گئے۔

 عدالت میں ثبوت ناکافی تھے: وکیل

وکیل محمد اکرم گوندل نے بعد ازاں انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر بتایا کہ ’لاش کی شناخت کرنے والے بچے کے چچا اور ایک محلے دار نے پولیس کو بیان دیا کہ انہوں نے مدثر کو خادم کے ساتھ موٹر سائیکل پر جاتے اور فالودہ کھاتے دیکھا تھا۔ خادم اعظم کے دور کے رشتہ دار بھی ہیں اور انہوں نے شک کی بنا پر نام مقدمے میں شامل کروایا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’جب بچے کی لاش ملی تو ساتھ ہی ایک لفافے میں شناختی کارڈ پڑا تھا جو خادم کا تھا جس کی وجہ سے پولیس خادم تک پہنچی۔‘ وکیل اکرم گوندل کے مطابق بچے کے والدین نے خادم کو بعد میں گواہان کی مدد سے مقدمے میں نامزد تو کر دیا لیکن ٹھوس ثبوت سامنے نہ آ سکے جس کی وجہ سے ان کے موکل کو سپریم کورٹ نے بری کر دیا۔

جب انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے پوچھا کہ اگر ٹھوس ثبوت نہیں تھے تو نچلی دونوں عدالتوں نے تین بار پھانسی کی سزا کیسے دی؟ جس پر وکیل نے کہا ’سپریم کورٹ نے بھی یہی کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ اور شریعت کورٹ نے معاملے کو باریک بینی سے نہیں دیکھا، اگر ثبوت ٹھوس نہ ہوں توپھر کیس کی کڑیاں جوڑ کر اصل ملزم تک پہنچا جاتا ہے۔‘

کیس کا پس منظر

یہ واقعہ جون 2006 کا ہے، جب راولپنڈی کے علاقے بنی کے رہائشی اور تیسری کلاس کا طالب علم مدثر اعظم گھر سے نکلے اور واپس لوٹ کر نہ آئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

والد اعظم نے بیٹے کو تلاش کیا لیکن اس کا سراغ نہ مل سکا۔ انڈپینڈنٹ اردو کو حاصل ہونے والی معلومات اور ایف آئی آر کے مطابق مدثر جمعے کو لاپتہ ہوئے اور اسی روز بچے کے والد کو ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس میں ان کو بتایا گیا کہ بچہ ان کی تحویل میں ہے، ایک کروڑ روپے دیں اور اپنا بچہ واپس لے جائیں۔

اس کے بعد والدین نے تھانہ بنی میں اغوا برائے تاوان کی ایف آئی آر کا اندراج کرایا۔ جمعے کی رات بچے کے والدین کو اغواکاروں کیدوبارہ ٹیلی فون کال موصول ہوئی، جس میں انہوں نے تاوان کی رقم 25 لاکھ روپے کر دی۔

اعظم نے پولیس کو سارے معاملات سے باخبر رکھا۔ پولیس نے لوکیشن ٹریس کی تو وہ اسلام آباد گولڑہ کے علاقے کی تھی۔ اس ٹیلی فون کال کے تھوڑی دیر بعد اسلام آباد پولیس نے راولپنڈی پولیس کو بتایا کہ ایک 10 سالہ بچے کی لاش گولڑہ کے علاقے سے ملی ہے اور مبینہ طور پر یہ وہی بچہ ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد اعظم راولپنڈی پولیس کے ہمراہ اسلام آباد لاش کی شناخت کے لیے گئے جہاں تصدیق ہوگئی کہ لاش مدثر کی ہے۔ بچے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوا کہ اسے ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور بچے کی موت گلا دبانے سے واقع ہوئی، جس کے بعد ایف آئی آر میں زیادتی اور قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان