ظفراللہ جمالی: اقتدار کے ایوانوں میں زندگی بسر کرنے والے سیاست دان

مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے میر ظفراللہ جمالی نے 23 نومبر 2002 کو بطور وزیراعظم پاکستان اپنے عہدے کا حلف لیا تھا، انہیں میانہ رو اور بردبارسیاست دان کے طور پر جانا جاتا تھا۔

میر ظفراللہ جمالی بلوچستان کی سیاست میں 1970 کی دہائی میں نمودار ہوئے اور ابتدا میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حمایتی رہے۔(تصویر: وکی پیڈیا)

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر سیاست دان اور پاکستان کے پندرہویں وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی بدھ کو طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ 

ظفر اللہ خان جمالی عارضہ قلب کے باعث راولپنڈی کے ہسپتال میں زیر علاج اور گذشتہ چند روز سے وینٹی لیٹر پر تھے۔

ضلع نصیر آباد کے علاقے روجھان جمالی میں یکم جنوری 1944 کو پیدا ہونے والے میر ظفراللہ جمالی بلوچستان کی سیاست میں 1970 کی دہائی میں نمودار ہوئے اور ابتدا میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حمایتی رہے۔

انہیں میانہ رو اور بردبارسیاست دان کے طور پر جانا جاتا تھا۔

سینیئر سیاست دان ڈاکٹرحئی بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں میر ظفر اللہ خان جمالی کی سیاست کے بارے میں بتایا۔  بقول ڈاکٹر حئی بلوچ: 'ہم مختلف جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے، وہ مسلم لیگ  میں تھے اور ہم قوم پرست سیاست کرتے تھے، اس لیے ہمارا بہت زیادہ تعلق نہیں رہا۔ تاہم میں نے انہیں ایک بردبار اور میانہ روسیاستدان کے طورپر دیکھا ہے۔'

ڈاکٹرحئی بلوچ نے بتایا کہ وہ انتظامی امور کے علاوہ  بلوچی، براہوی، سرائیکی، اردو اور انگریزی زبان پر بھی یکساں عبور رکھتے تھے۔

مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے میر ظفراللہ جمالی نے 23 نومبر 2002 کو بطور وزیراعظم پاکستان اپنے عہدے کا حلف لیا اور 26 جون 2004 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ایک سال سات ماہ اور تین روز وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

بلوچستان کا جمالی خاندان قیام پاکستان سے ہی ملکی سیاست میں سرگرم رہا ہے۔ میر ظفراللہ جمالی کے تایا جعفر خان جمالی محترمہ فاطمہ جناح کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔

ان کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ جب محترمہ فاطمہ جناح انتخابی مہم کے سلسلے میں ان کے علاقے میں آئیں تو ظفراللہ جمالی ان کے محافظ کے طورپر ان کے ساتھ تھے۔

میر ظفر جمالی نے کوئٹہ، لارنس کالج مری اور ایچی سن کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور 1965 میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔

ظفر اللہ خان جمالی نے سیاست کا آغاز 1970 میں پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے کیا اور 1977 کے الیکشن میں پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرکے مختلف وزراتوں پر فائز رہے۔

1977 میں انہوں نے پیپلز پارٹی کو خیر باد کہہ دیا اور مارشل لا کے نفاذ کے بعد جنرل ضیا الحق کے ساتھ مل گئے اور وفاقی وزیر مملکت رہے۔

1985 کے قومی انتخابات میں وہ نصیر آباد سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے اور 1988 میں جب جنرل ضیا الحق نے محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کردیا تو ظفر اللہ خان جمالی کو نگران وزیراعلیٰ بلوچستان بنایا گیا اور عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوئے تاہم ان کی وزارت کا دور محض 14 دن رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1994 میں ظفر اللہ جمالی سینیٹ کے رکن بنے اور 1997 تک سینیٹر رہے۔ 

جمالی خاندان کے افراد ہر دور میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔ ان کے چچا زاد بھائی میر تاج محمد جمالی، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر رہے جبکہ میر عبدالرحمان جمالی اور میر فائق جمالی صوبائی کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں جبکہ ان کے بیٹے فرید اللہ بھی میدان سیاست میں ہیں۔

میر ظفر اللہ جمالی کے گاؤں روجھان جمالی سے اب تک تین وزرائے اعلیٰ بلوچستان منتخب ہوچکے ہیں۔ 

بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار نے میر ظفراللہ جمالی کی سیاسی زندگی کے حوالے سے بتایا کہ ان کے خاندان کے اکثر لوگ صوبائی اور قومی اسمبلی کا حصہ بنتے رہے ہیں۔

 شہزادہ ذوالفقار نے مزید بتایا کہ یہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے بلوچ تھے، جنہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کیا گیا۔

میرظفراللہ جمالی کو ڈیرہ مراد جمالی میں ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ ان کے پسماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان