جن کو کرونا نہیں ہے

اس وائرس نے انسانی روح کو اتنا زخمی کر دیا کہ جان و مال، عیش و عشرت، سیرو تفریح کی شاید ہی کوئی وقعت رہی ہے۔

وائرس نے ہر فرد کی زندگی بدل ڈالی۔ رہن سہن، خوراک، میل جول، شادی بیاہ، ملازمت یا رشتوں کی نوعیت ہی بدل گئی ہے۔ (اے ایف پی)

دنیا کی ساڑھے سات ارب آبادی میں تقریبا ساڑھے چھ کروڑ افراد کرونا وائرس میں اب تک مبتلا ہوچکے ہیں۔ آبادی کا بڑا حصہ یوں تو کرونا سے محفوظ تصور کیا جا رہا ہے مگر وہ اس خوف میں زندہ ہیں کہ وہ بھی اس کی زد میں آ کر متاثرین میں شامل ہو جایں گے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق وائرس سے معیشت اور روزگار پر پڑھنے والے منفی اثرات سے دنیا کی 60 فیصد آبادی شدید ذہنی امراض کا شکار ہو رہی ہیں۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ منشیات، ادویات، جرائم اور شراب نوشی میں اتنا اضافہ ہو رہا ہے کہ ذہنی بیماریوں کا علاج کرنے کے لیے عارضی نفسیاتی ہسپتالوں کا مطالبہ بڑھنے لگا ہے۔

یہ تحریر آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی بےبسی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ وہ تنہائی میں اکیلے اس مرض سے جھوجھتے رہتے ہیں، دوا دینے والا سامنے نہیں آتا، غذا فراہم کرنے والے نے ٹرے دروازے کے باہر رکھ دی ہے اور لواحقین مرنے والے کا چہرہ بھی آخری بار نہ دیکھ سکے بلکہ بیشتر مرنے والوں کی باقاعدہ تدفین بھی نہ ہوسکی۔ اس کیفیت نے ذہنوں پر شدید منفی اثرات چھوڑے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق وائرس مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر دوسری مہلک بیماریوں میں مبتلا افراد کا علاج نہیں ہوسکا جو کسمپرسی کی حالت میں انتقال کرتے جا رہے ہیں۔

وائرس میں مبتلا بعض افراد کو ہسپتال میں داخلہ نہیں ملا جہاں پہلے ہی مریضوں کی بھاری تعداد موجود تھی۔ صرف ان متاثرین کے لیے ہسپتال کے دروازے کھولے جارہے ہیں جو قریب المرگ ہوتے ہیں یا آکسیجن کی مدد سے بچانے کی کوشش میں ہسپتال آجاتے ہیں وہ بھی اس صورت میں اگر متاثر 80 برس سے کم عمر کا ہوگا۔

یورپ کے بیشتر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ایسے سخت اور کرب ناک فیصلے کرنے پڑے جب وینٹی لیٹر دینے کے لیے مریض کی عمر کو مدنظر رکھنا پڑا۔ کاریں اور بھاری مشینیں بنانے والے شہرت یافتہ کارخانوں کو ہنگامی بنیادوں پر وینٹی لیٹر بنانے پڑے پھر بھی ان کی طلب پوری نہیں ہو رہی ہے۔

برطانیہ کے اخبار سنڈے ٹائمز نے چند ہفتے قبل ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کرکے ایسے خاندانوں کا تذکرہ کیا جن کو ہسپتال والوں نے مریض کی حالت جاننے کے وقت ان کی عمر کے بارے میں پہلے پوچھا تھا اور 70 سے زائد عمر کے بیماروں کو ہسپتال لانے سے منع کیا۔

کرونا مرض سے متاثرہ دس لاکھ سے زائد افراد اب تک زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جس پر لواحقین کو ماتم کرنے کا موقعہ بھی نہیں ملا۔ جو زندہ ہیں وہ دہشت کے سائے میں اب جی رہے ہیں اور وسوسوں میں اتنے گھر چکے ہیں کہ لگتا ہے شاید پوری دنیا ذہنی مریض بن جائے گی۔

وائرس نے ہر فرد کی زندگی بدل ڈالی۔ رہن سہن، خوراک، میل جول، شادی بیاہ، ملازمت یا رشتوں کی نوعیت ہی بدل گئی ہے۔ شوہر کو وائرس ہے تو بیوی کو گھر سے ہی ہجرت کرنا پڑی، بہن کو ہسپتال میں تنہا چھوڑنا پڑا یا والد کو دفن کرتے وقت بیٹا موجود نہیں تھا۔

اس وائرس نے انسانی روح کو اتنا زخمی کر دیا کہ جان و مال، عیش و عشرت، سیرو تفریح کی شاید ہی کوئی وقعت رہی ہے۔ گھروں میں کئی ماہ تک قید رہنے کے بعد باہر جانے سے دل گھبراتا ہے اور ضروری اشیا کی خریدو فروخت زیادہ آن لائن ہو رہی ہے حتی کہ بیشتر ملازم گھر سے کام کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

بریڈ فورڈ انگلینڈ کے جیمز کہتے ہیں کہ انہیں اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ۔ ’کمرے میں تنہا رہ کر ہر لمحہ یہ سوچ غالب ہو کہ مرنے کی صورت میں میرے بچوں کا کیا ہوگا اگر انہیں آخری بار میرا چہرہ دیکھنے سے بھی روکا جائے گا تو وہ ساری زندگی کیا اس کو بھول پائیں گے؟‘ وہ کہتے ہیں کہ ان کا چھوٹا بیٹا جس کی عمر 12 برس ہے دروازے پر آ کر پلیٹ میں خوراک ڈال کے رکھتے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں ہمیشہ پانی کے قطرے گرنے کے لیے تیار ہوتے۔ ان کے چہرے پر افسردگی دیکھ کر مجھے سانس لینے میں اتنی دشواری ہوتی ہے کہ بیٹا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ جاتا اور کمرے میں داخل ہونے کے لیے ماں کے ساتھ لڑائی کرنے لگتا ہے۔‘

’دوسرا بیٹا اس وقت تک گھر میں داخل ہی نہیں ہوتا جب تک میں سونے کا ڈراما نہ کرتا تاکہ وہ میری سانس لینے کی دشواری کی آواز سن کر اس کرب سے نہ گزرے۔ مجھے درد سے اتنا کرب محسوس نہیں ہوتا تھا جتنا بچوں کے چہروں پر افسردگی دیکھ کر۔ جب کھانسی زیادہ ستاتی تھی تو خدا سے دعا کرتا کہ مجھے اس دنیا سے اب اٹھالے تاکہ میرے جانے کے بعد بچے کم از کم سو سکیں۔‘

کرونا کا وائرس جتنا جان لیوا ثابت ہو چکا ہے اس سے زیادہ اس کاخوف ہے جس سے ہم سب لرز رہے ہیں۔

کشمیر کے ڈاؤن ٹاؤن میں میاں بیوی دونوں کو کرونا ہو گیا۔ گھر میں اور کوئی نہیں۔ ڈاکٹر نے الگ الگ کمروں میں رہنے کا مشورہ دیا۔ کچن پہلی منزل پر ہے لہذا بیوی نے کچن کے ساتھ والے کمرے میں چلہ کاٹنے کا فیصلہ کیا اور خاوند گراونڈ فلور میں تنہا رہنے لگے۔ بھلا ہو موبائل فون بنانے والے کا جس نے دونوں کے بیچ رابطے کو بحال رکھا۔

دونوں ایک دوسرے کو یاد دہانی کراتے رہے کہ دوائی کھائی، ٹیمپریچر دیکھا، سچوریشن کتنی ہے، خوشبو سونگھنے کی حس واپس آئی۔ بیوی کھانا پکا کر رکھتی تھی تو اپنے کمرے میں جانے کے بعد شوہر کچن کا رخ کرتے تھے۔ ایک رات شوہر کی حالت ابتر ہوگئی۔ رشتہ دار کو فون کرکے آکسیجن دستیاب ہوی مگر سلنڈر اندر لانے کے لیے کوئی نہیں تھا۔ بیوی نے ہمت کرکے شوہر کے کمرے تک سلنڈر پہنچایا اور رشتہ دار نے فون پر اس کا استعمال کرنے کی ہدایت دی۔ دو ہفتوں کے بعد جب میاں بیوی نے پہلی بار دروازے پر آ کر ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا تو دونوں زاروقطار رونے لگے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محلے والوں اور رشتہ داروں کو جب پتہ چلا تو خوف کی لہر دوڑ گئی کیونکہ تین ہفتے پہلے یہ دونوں میاں بیوی شادی کی ایک تقریب میں شریک تھے جہاں سو سے زائد خاندانوں نے شرکت کی تھی جن میں بعض تب سے کھانسی میں مبتلا ہیں۔ پڑوسیوں اور رشتہ داروں پر ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی ایسا خوف غالب ہے کہ معمولی چھینک آنے پر کرونا کا ٹیسٹ کرنے جاتے ہیں بلکہ ایک بزرگ رشتہ دارخوف طاری ہونے سے دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں اور سب سے کہتے پھرتے ہیں کہ مجھے دفن کرنے کے لیے کوئی نہیں ہوگا، کیا کوئی فاتحہ بھی نہیں پڑے گا۔

چاندنی چوک دہلی کی ریشما بیگم اپنی بیٹی کو ہسپتال لے جانے کی تیاریوں میں مصروف تھی کہ بھارت میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا۔ داماد وقت پر پہنچ نہیں پائے، پڑوس میں ایک ڈاکٹر موجود تھے لیکن وہ ریشما کے گھر نہیں آسکتے اور بیٹی چلنے کے قابل نہیں کہ ڈاکٹر کے گھر جاسکے۔ پریشانیوں نے ایسا گھیرا کہ کوئی راستہ نظر نہیں آیا۔

جگی کالونی کی حمیدہ آپا نے ہمدردی کا مظاہرہ کرکے ریشما کے گھر آ کر بچے کی ولادت میں مدد کی۔ چند روز کے بعد بیٹی کی سانس اکھڑنے لگی اور سینے میں شدید تکلیف شروع ہوگئی۔ ہسپتال میں ایک دن باہر انتظار کرنے کے بعد وارڈ میں جانے کی اجازت مل گئی۔ کرونا کا ٹیسٹ مثبت نکلا۔ ریشما نے اپنا ٹیسٹ نہیں کرایا کیونکہ نوزائد بچے کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ریشما نے بیٹی سے کہا تھا کہ مجھے بھی سینے میں ہلکا سا درد شروع ہوگیا ہے۔

دو ماہ پہلے ریشما کا انتقال ہوگیا۔ ریشما کی بیٹی خوف اور دہشت میں ہے بچے کی ٹھیک سے دیکھ بھال نہیں کر پا رہی ہے۔ وہ خود کو اپنی ماں کی موت کا ذمہ دار سمجھ رہی ہیں۔ داماد جس کارخانے میں ملازم تھا وہ بند ہوگیا۔ گھر میں اب کھانے کو کچھ بھی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ وائرس کی زد میں ابھی تک نہیں آئے ہیں وہ ایک طرح سے بے جان ہوگئے ہیں، جینے کی آرزو نہیں رکھتے، باہر جانے سے گھبراتے ہیں اور پھر مزید بے روزگاری نے غربت میں اضافہ کیا ہے۔

اسی لیے تاکید کی جاتی ہے کہ کرونا سے محفوظ رہنے کی ہدایات پر عمل کریں، قلیل پر گزارہ کرنا سیکھیں، خوراک کو ضائع نہ کریں، اپنی زندگی اور دوسروں کو بچانے کے لیے محفلوں میں جانے سے گریز کریں، ویکسین آنے تک انتظار کریں اور باقی اللہ پر چھوڑ دیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ