اویغور مسلمان کی چینی حراست میں رہنے والے بیٹے سے پہلی ملاقات

چین کی اویغور برداری سے تعلق رکھنے والے ایک آسٹریلوی شہری کی اپنی بیوی اور بیٹے کی سنکیانگ سے رہائی کی تین سالہ کوشش رنگ لے آئی۔

سڈنی کےایک  نواحیریستوران میں صدام اپنی بیوی اور بیٹے کی تصویر دکھا رہے  ہیں (اے ایف پی)

چین کی اویغور برداری سے تعلق رکھنے والے ایک آسٹریلوی شہری اپنی بیوی اور بیٹے کی سنکیانگ سے رہائی کے لیے تین سالہ جدوجہد کے بعد بالآخران کے ساتھ اکٹھے ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

صدام عبدالسلام اپنی بیوی اور بیٹے کی جمعرات کو سڈنی کے ہوائی اڈے پر آمد سے پہلے کبھی ان سے نہیں ملے تھے۔ صدام نے اپنی جذبانی ملاقات کی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے خاندان کو چین کے حراستی کیمپ سے واپس لانے کی مہم میں ان کی مدد کی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ’میں سب کو یہ بتانے میں بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ کل میں اپنی اہلیہ سے ملا، جنہیں میں نے تین سال سے نہیں دیکھا تھا اور اپنے بیٹے سے  بھی جس سے میں پہلے نہیں ملا تھا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ دن آئے گا اور میں ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہمیں ملانے کے لیے بہت کوشش کی۔‘ عبد السلام نے چین پر الزام عائد کیا کہ چینی حکام نے ان کی اہلیہ ندیلہ وومائر کا پاسپورٹ ضبط کرنے کے بعد ان کو 'یرغمال' بنا رکھا تھا۔

انہوں نے مئی میں امریکی ٹیلی ویژن اے بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’گذشتہ ہفتے انہیں(بیوی) کو ایک  چینی پولیس سٹیشن لے جایا گیا اور چھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ یہ یرغمال بنا کر کی جانے والی سفارتکاری ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ آسٹریلیا کی حکومت میری آسٹریلوی بیوی اور بچے کو بچانے کے لیے کیا کر سکتی ہے؟ میں نے انہیں تین سال سے نہیں دیکھا۔‘

ان کی اہلیہ ندیلہ وومائر نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پہلے بھی نظربند رکھا گیا۔ عبدالسلام ایک دہائی سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور 2013 میں آسٹریلوی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ وہ 2016 میں سنکیانگ گئے تھے اور اپنی گرل فرینڈ ندیلہ وومائر سے شادی کر لی تھی۔

عبدالسلام آسٹریلیا واپس آئے اور بعد میں چینی حکومت نے انہیں اس وقت ویزا دینے سے انکار کردیا جب ان کی اہلیہ نے ان کے بیٹے کو جنم دیا۔ یہ انسانی حقوق کا ایک  بڑا  معاملہ بن گیا جب چینی حکام نے ندیلہ وومائر کو دو ہفتے کے لیے حراست میں لے  لیا اور پھر ان کی رہائی کے بعد ان کا پاسپورٹ ضبط کرلیا۔

اسی دوران عبدالسلام  نے آسٹریلوی حکومت سے براہ راست  اپیل کی جس کے بعد  میں ان کے بیٹے لفتی کو  آسٹریلوی شہریت دے دی گئی۔ گذشتہ دو سال میں آسٹریلوی حکومت نے بیجنگ سے متعدد بار باضابطہ درخواست کی تھی وہ ندیلہ وومائر کو چین سے نکلنے کی اجازت دے۔

ان درخواستوں کے جواب میں چینی حکام نے آسٹریلوی ٹی وی پر کہا تھا ندیلہ وومائر ملک نہیں چھوڑنا چاہتیں اور ان کی شادی کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ تاہم اس دعوے کے چند گھنٹے بعد آسٹریلوی ٹی وی نے ٹوئٹرپر ندیلہ وومائر کی ویڈیو شیئر کر دی تھی جس میں ان کا کہنا تھا:  ’میں چین چھوڑنا چاہتی ہوں اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعرات کو عبدالسلام کے بیٹے لفتی اور ندیلہ وومائر شنگھائی سے طویل سفر کے بعد سڈنی پہنچے اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی تصویروں کو باقی سب تک پہنچایا۔ وہ دو ہفتے قبل برزبین پہنچے تھے اور انہیں ایک ہوٹل میں قرنطینہ کردیا گیا تھا۔

چین پر طویل عرصے سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ شمال مغربی علاقے سنکیانگ میں اقلیتی اویغور مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں اور کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ حراستی کیمپوں میں 10 لاکھ کے قریب اویغور نسل کے افراد کو قید رکھا گیا ہے۔

بیجنگ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی پالیسیاں دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ کیمپ میں ان افراد کی 'سیاسی تربیت ' کے لیے تربیتی سکول قائم ہیں اور ان میں موجود افراد کو روزگار تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا