نکولا ٹیسلا کا مداح کشمیری نوجوان جس نے انگیٹھی سے بجلی بنا ڈالی

سائنس دانوں کے مداح اور تجربہ کار بیس سالہ سہیل احمد پارے اس سے قبل جوتوں کی مدد سے موبائل فون چارج کرنے کا تجربہ بھی کر چکے ہیں۔

سہیل احمد پارے کا کمرہ الیکٹرانکس سکریپ سے بھرا پڑا ہے، ایسا لگتا ہے جسے برسوں سے اسے صاف نہیں کیا گیا۔

20 سالہ پارے کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سے 37 کلومیٹر دور اونتی پورہ ضلع پلوامہ کے چیرسو گاؤں سے ہے۔ ای۔ویسٹ (الیکٹرانک ویسٹ) سے بھرے اس کمرے میں سہیل اپنے بھائی ابرار احمد پارے اور کزن معظم اشرف وانی کے ساتھ 20 دنوں سے ایک تجربے میں مصروف رہے اور بالآخر وہ روایتی کشمیری انگیٹھی ’کنگری‘ کے ذریعے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔

کوئلے سے جلنے والی ’کنگری‘ کو سخت سردیوں کے دوران کشمیر کے بیشتر افراد استعمال کرتے ہیں۔

بچپن سے ہی اپنے کمرے میں سائنسی تجربات کرنے والے سہیل نے کنگری کی حرارت سے بجلی پیدا کرنے کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں کشمیر میں بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس سے زیادہ تر طالب علموں کو امتحانات کے دوران پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو میں نے ایک ایسے متبادل پر کام کرنے کے بارے میں سوچا جس سے بجلی پیدا ہوسکتی ہو۔ میں نے اس کے لیے تھرمو الیکٹریکل کولر جیسے آلات استعمال کیے اور خود ہی ایک منی انورٹر بنایا جس میں مجھے ریچارج ایبل سیل اور تھرمل پیسٹ استعمال کرنا پڑا اور اس طرح میں نے حرارت کی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کر دیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دنیا کے معروف سائنس دانوں کے پوسٹرز اور ان کے اقوال سہیل کے تجرباتی کمرے کی دیواروں پر چسپاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مشہور سائنس دان نکولا ٹیسلا کے بہت بڑے مداح ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا:’میں نے 2016 میں ڈیم کے بغیر دریائے جہلم پر پانی کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے کا پروجیکٹ بنایا تھا لیکن خراب صورت حال کی وجہ سے بہت کم لوگ اس پروجیکٹ کے بارے جان پائے۔‘

انگیٹھی سے بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ سہیل ایسے جوتے بنانے میں بھی کامیاب رہے ہیں جو موبائل فون چارج کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیدل چلنے یا دوڑنے سے پاؤں میکنیکل انرجی پیدا کرتے ہیں اور یہی بجلی پیدا کرنے کا بڑا ذریعہ ہو سکتا ہے۔

سہیل ان دنوں کئی ایسے پروجیکٹس میں مصروف ہیں جن پر وہ گذشتہ کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں اور وہ ان کی کامیابی کے بارے میں پر امید ہیں۔

انہوں نے کہا: ’میں تجربہ کر رہا ہوں کہ توانائی کا ایک نیا ذریعہ کس طرح تیار کیا جاسکتا ہے لیکن فوجی آپریشنز کے دوران جنوبی کشمیر میں بار بار انٹرنیٹ کی بندش یا اس کی کم سپیڈ میرے تحقیقی کام کو متاثر کررہی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل