طالبان رہنماؤں کی پاکستان موجودگی افغان امن میں رکاوٹ ہے: کابل

افغان طالبان اور کابل حکومت کے مابین تعطل کے شکار مذاکرات کو آگے بڑھانے کی نئی کوشش کے سلسلے میں گذشتہ ہفتے ملا برادر کی قیادت میں طالبان کے اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا اور وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستانی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کی تھیں۔

(اے ایف پی)

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان رہنماؤں کی موجودگی افغانستان کے امن عمل کے لیے ایک چیلنج ہے۔

عرب نیوز کے مطابق کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں کراچی میں طالبان امن وفد کے سربراہ ملا عبد الغنی برادر کو طالبان گروپ کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ دیکھا گیا۔

طالبان اور افغان حکومت کے مابین تعطل کے شکار مذاکرات کو آگے بڑھانے کی نئی کوشش کے سلسلے میں گذشتہ ہفتے ملا برادر کی قیادت میں طالبان کے اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا اور وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستانی رہنماؤں سے اہم  ملاقاتیں کی تھیں۔

ویڈیو میں طالبان رہنما ایک ہجوم کو یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں موجود طالبان رہنماؤں سے مشاورت سے امن عمل کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

ویڈیو کے ردعمل میں افغان وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستانی سرزمین پر شدت پسند عناصر اور ان کے رہنماؤں کی موجودگی واضح طور پر افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور خطے میں بحران اور عدم استحکام کا باعث ہے۔ یہ افغانستان میں پائیدار امن کے حصول کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔‘

جب 16 دسمبر کو طالبان ارکان پاکستان پہنچے تو وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا یہ دورہ کابل حکومت کی مشاورت سے ہو رہا ہے تاہم ویڈیو کےمنظر عام پر آنے کے بعد افغان وزارت نے کہا کہ اس دورے کے آغاز سے افغانستان میں خونریزی کو روکنے اور پائیدار امن لانے کے لیے عملی اقدامات کے حوالے سے امیدوں میں اضافہ ہوا تھا لیکن اس فوٹیج سے پاکستانی سرزمین پر مطلوب طالبان رہنماؤں کی موجودگی کے انکشاف نے صورت حال تبدیل کر دی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا: ’یہ انتہائی افسوس اور تشویش کی بات ہے کہ کچھ طالبان رہنماؤں کو ایک ٹریننگ کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان سے افغانستان کے حوالے سے دو اہم خبریں سامنے آئیں، ان میں سے ایک افغانستان کی حکومت اور عوام کے لیے امید اور دوسری انتہائی تشویش کا باعث ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امن عمل ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے لیکن بظاہر دونوں فریق اس میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عرب نیوز کی جانب سے افغان حکومت کے اس بیان پر ردعمل جاننے کے لیے پاکستانی حکومت اور نہ ہی طالبان فوری طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے کے لیے دستیاب تھے۔

فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان تاریخی معاہدے کے بعد، افغان حکومت اور اس گروپ کے مابین امن عمل کے لیے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے اور بالآخر انٹرا افغان مذاکرات کے لیے راضی کرنے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ مذاکرات اب 5 جنوری تک معطل ہیں۔

معروف تجزیہ کار تاج محمد نے اس حوالے سے عرب نیوز کو بتایا: ’ایک ایسے وقت جب امن عمل ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، دونوں فریق ان میں تعطل کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ملا برادر کی ویڈیو کو (افغان) حکومت نے طالبان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔‘

کابل طویل عرصے سے الزام عائد کرتا رہا ہے کہ 2001 میں امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان افغانستان سے بے دخل ہونے والے طالبان رہنماؤں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔

اسلام آباد نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا