’کیا آپ کو بھی کبھی ہراسانی کا سامنا رہا؟‘: میشا کا سوال

اپنی ٹویٹ میں میشا نے تین سوالات کیے، پہلا یہ کہ ’کیا آپ کو کبھی جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے؟‘، دوسرا یہ کہ ’آپ نے اسے رپورٹ کیا یا اس پر کسی سے بات کی‘ اور اگر نہیں تو کیوں؟‘

(اے ایف پی)

علی ظفر کے خلاف ہراسانی کا الزام لگانے والی گلوکارہ میشا شفیع نے ٹوئٹر پر جنسی ہراسانی کے حوالے سے سوالات پوچھ کر شاید ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اسے اب بھی سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ ان کی اس ٹویٹ کے جواب میں کئی خواتین نے اپنے ساتھ اس زیادتی کا اعتراف کرکے اپنی کہانیاں بیان کی ہیں۔

اپنی ٹویٹ میں میشا نے تین سوالات کیے، پہلا یہ کہ ’کیا آپ کو کبھی جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے؟‘، دوسرا یہ کہ ’آپ نے اسے رپورٹ کیا یا اس پر کسی سے بات کی‘ اور اگر نہیں تو کیوں۔‘ جواب میں کئی مردوں نے الٹا انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تاہم کئی خواتین نے اس مسئلے کی معاشرے میں موجودگی کی تصدیق کی۔ پاکستان میں خواتین اکثر اس قسم کے واقعات کے بارے میں عوامی پلیٹ فارمز پر بات نہیں کرتی ہیں۔  

میشا کی ٹویٹ کے بعد صارفین کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا کچھ نے اپنے تجربات کے بارے میں بتایا تو کسی نے خود میشا پر ہی جوابی حملوں کی بوچھاڑ کر دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علیزے نامی صارف نے لکھا: ’پہلے سوال کا جواب ہاں اور دوسرے کا نہیں ہے۔ اور تیسرے کا یہ کہ اگر میں اس بارے میں بات کرتی تو لوگ مجھے ہی مورد الزام ٹھہراتے اور میرے کردار کی دھجیاں اڑا دیتے۔ اس سے میں نہ صرف پڑھنے کا موقع گنوا دیتی بلکہ جاب اور اپنے کیرئیر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی، اسی لیے میں نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا۔ بہرحال اس ملک میں کسی کو بھی (ہراسانی سے) متاثرہ شخص کو سننے میں دلچسپی نہیں ہے۔‘

زبیر نصراللہ نے میشا پر ہی طنز کے تیر چلاتے ہوئے لکھا: ’یار تم شکر کرو کہ کسی نے تمہیں ہراساں کیا۔‘


شیر افگن نامی صارف نے لکھا: ’مجھے کسی نے آج تک ہراساں نہیں کیا تو کیا میں کسی اور پر اس کا غلط الزام لگا دوں؟‘

ایٹس ناٹ اے رینٹ ہینڈل سے گئی ٹویٹ میں ایک اور صارف نے لکھا: ’ہاں مجھے ہراساں کیا گیا لیکن میں نے اسے رپورٹ نہیں کیا۔ میرے ساتھ ایسا پہلی بار اس وقت ہوا جب میری عمر محض چھ سال تھی۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے۔ مجھے انتہائی خوفزدہ ہو گئی تھی اور اتنا چیخی کہ میرے اپنے کان درد کرنے لگے۔ جب مجھے پتہ چلا کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا اس وقت کئی سال بیت چکے تھے اور میرے پاس اس کا کوئی ثبوت بھی نہیں تھا۔‘

میشا نے اپنی ٹویٹ میں یہ وضاحت نہیں کی کہ انہیں یہ سوالات پوچھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ لیکن انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں اپنے فالورز سے پوچھا کہ جنسی زیادتی یا تشدد کے شکار کس شخص کو جو بولا ہو آپ نے بات کا یقین کیا ہو۔ ایک صارف نے جواب دیا مختاراں مائی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل