پرائم منسٹر تو بنیں

عمران خان اب کنٹینر سے اتر جائیں۔ احتساب کے اداروں کی اصلاح کریں اور احتساب جاری رکھیں۔ وزیر اعظم بن کر اہم معاملات پر حزب اختلاف کو بات چیت کی دعوت دیں۔

اگر اس سبق کو لے کر پاکستان کا سیاسی مستقبل بہتر اور مظبوط بنانا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ مل کر سب اس کو اپنا ہدف بنائیں (اے ایف پی)

اس نئے سال میں پاکستان گزرے ہوئے سال کی جستجو اور غلطیوں کا فائدہ  اُٹھائے گا۔ یہ سال سیاسی طور پر سلجھا ہوا ہو گا۔

پچھلے سال اسٹیبلشمنٹ کی کی ہوئی جمہوریت کے خلاف بڑی غلطیاں، حکومت کے بڑے دعوے اور نعرہ بازیاں اور وزیر اعظم کی اپوزیشن سے کٹُی اور چور چور کے القابات نوازنے کی پالیسی - پھر رہی اپوزیشن خود، جو اپنی سب سے بڑی سیاسی فتح کا پرچم گاڑنے کا اعلامیہ قوم کے سامنے لے آئی۔ پی ایم کی کُٹی، نیب کی کارروائیاں پر سوالیہ نشان اور مہنگائی کا بوجھ لیے 11 سیاسی جماعتوں نے حکومت کو گھر روانہ کرنے کا اعلان کیا۔  نام لے کر سلیکٹرز کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کا کہا۔

یقینا عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبی حکومت سے حالات بہتر کرنے کا کہہ رہی تھی پر پی ڈی ایم کی سب سے بڑی شکایت سلیکٹرز سے تھی- بہت سے حقائق جو کھل کر سامنے آئے ان کی بنا پر سلیکٹرز سے شکایت تو بنتی ہے۔ لیکن شکایت ہر الیکشن میں ہوتی تھیں اور کی بھی گئیں۔ ہر انتخاب میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی لاڈلہ رہا- تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہر سیاسی پارٹی نے گٹھ جوڑ کیا-

سوال اگر سیاسی جماعتوں سے بنتا ہے تو اسٹیبلشمنٹ سے کوئی کم نہں بنتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری تاریخ یہ ہے کہ جہاں اسٹیبلشمنٹ نے کسی سیاسی حکومت کو گھر بھیجنا چاہا تو اس کو فوری سیاسی بی ٹیم مل گئی۔ مثلاً جب 1999 میں کارگل کے  سانحے کے بعد نواز شریف کے خلاف جنرل مشرف کی بغاوت ہوئی تو بغاوت کے سرفہرست حامیوں میں بی بی کا نام ہے- لیکن ایک طرف فوج کی ہائی کمان کی آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی دوسری طرف بی بی کی نواز شر یف کی طرز حکومت کے خلاف چارج شیٹ۔

یہ سب بدلے گا تو پاکستان میں استحکام آئے گا نہیں تو سیاسی جنگجو ماحول کے بھینٹ بہت سا قیمتی وقت اور وسائل چڑھیں گے۔ قیمت تو پاکستان کے لوگوں کو ادا کرنی ہو گی - اور تاریخ اس کی گواہ ہے۔ جو بھی بہانہ اور وجہ اسٹیبلشمنٹ بنائے سچ تو یہ ہے کہ اقتدار پر قبضے کا فائدہ کسی کو نہیں ہوا - مسائل مزید پیچیدہ ہوئے ہیں- پی ڈی ایم کا فوج کے سیاست سے عملی طور پر خارج ہونے کا مطالبہ جائز ہے لیکن طریقہ کار کیا ہو گا وہ بڑا اہم سوال ہے جس کا جواب سب سیاسی قوتوں کو مل کر پاُکستان کی تاریخ کے اوراق میں پنہاں حقائق سے ڈھونڈنے ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر اس سبق کو لے کر پاکستان کا سیاسی مستقبل بہتر اور مظبوط بنانا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ مل کر سب اس کو اپنا ہدف بنائیں۔ کوئی کسی دوسرے سے بہتر نہیں۔ ہر ایک نے کرسی حاصل کرنے کے لیے فوج کی بیساکھیاں استعمال کیں۔ عمران خان نے بھی۔ سب گناہ کی سیڑی پر چڑھے ہیں۔

اب آگے کیسے جایا جائے؟ کچھ اقدامات کی ضرورت ہے-

عمران خان اب کنٹینر سے اتر جایں۔ احتساب کے اداروں کی اصلاح کریں اور احتساب جاری رکھیں۔ وزیر اعظم بن کر اہم معاملات پر حزب اختلاف کو بات چیت کی دعوت دیں۔ اداروں کو احتساب، صاف اور شفاف کرانے دیں۔ الیکشن قوانین میں حزب اختلاف کے ساتھ مل کر مثبت تبدیلی لایں۔ اپنی حکومتی کمزوریوں کو دور کریں اور اپنی کامیابی کی بات کریں-

پی ڈی ایم اپنی ڈگر پر گامزن ہے- کچھ سخت موقف میں شاید تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ عمران خان کا استعفا ابھی بھی درکار ہے اور سخت شکایت سلیکٹرز سے بھی ہے لیکن استعفے اور الیکشن بائیکاٹ سے ابھی کچھ دور ہیں۔

پی ڈی ایم نے بائیکاٹ کو پیچھے چھوڑ کر اب ہر الیکشن میں حصہ لینے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومتی حلقوں میں شادیانے بجائے گئے۔ آج کل پریس کانفرنس جوق در جوق منعقد کی جاتی ہیں اور پھر جیت اور ہار پر خوب لفاضی ہوتی ہے۔ پی ڈی ایم کے شروع کے پُرجوش اور اٹل فیصلے اور پرشگاف جنگی نعرے البتہ ابھی جاری ہیں۔

لیکن گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ یہ بات بنی رہ سکتی ہے اور جمہوریت اور احتساب دونوں میں بہت بہتری لائی جا سکتی ہے۔ پھر فوج کو سیاست سے اور سیاست دانوں کو اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھی کے استعمال سے دور رکھا جا سکتا ہے۔

عمران خان پرائم منسٹر تو بنیں!

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ