بھارت میں کرونا کے خلاف برطانوی اور مقامی ویکسین کی منظوری

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ویکسینوں کی منظوری کو 'حوصلے کی اس جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ' قرار دیا ہے۔

کولکتہ میں ایک بھارتی شہری کرونا وائرس کی ویکسین لگاتے ہوئے ( اے ایف پی)

بھارتی حکام نے اتوار کو کرونا (کورونا) وائرس کی دو ویکسینوں کی ملک میں استعمال کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

بھارت کے ڈرگ ریگولیٹری ادارے نے ہنگامی بنیادوں پر برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ آسٹرازینیکا ویکسین کے علاوہ بھارتی کمپنی بھارت بائیو ٹیک کی منظوری دی ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ڈرگ کنٹرولر جنرل ڈاکٹر وینو گوپال جی سمانی کا کہنا تھا کہ ان ویکیسنوں کی منظوری بہت محتاط معائنے کے بعد دی گئی ہے اور ان کی دو خوراکیں دی جائیں گی۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ویکسینوں کی منظوری کو 'حوصلے کی اس جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ' قرار دیا ہے۔ مودی نے اپنی ٹویٹ میں کہا: 'یہ بات ہر بھارتی شہری کے لیے بہت فخر کا باعث ہے کہ بھارت میں دو ویکیسنوں کے استعمال کی ہنگامی طور پر منظوری دے دی گئی ہے۔'

آسٹرازینیکا نے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا سے معاہدہ کیا ہے، جو دنیا میں ویکسین بنانے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ معاہدے کے تحت یہ ادارہ ترقی پذیر ممالک بشمول بھارت کے لیے ویکسین کی ایک ارب خوراکیں تیار کرے گا۔

سیرم انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او ادر پونا والا کا کہنا ہے کہ بھارت کئی ماہ تک اس ویکسین کو برآمد نہیں کر سکے گا۔ اس پابندی کا مطلب ہے کہ غریب ممالک کو اس ویکسین کی پہلی خوراک حاصل کرنے کے لیے مزید کئی مہینے انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

پونا والا کے مطابق یہ فیصلہ بھارت میں موجود غیر محفوظ آبادی کو محفوظ بنانے اور ویکسین کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

تاہم بھارت بائیو ٹیک کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس ویکسین کے ٹرائلز حال ہی میں شروع کیے گئے تھے اور اتنی کم مدت میں کسی بھی کمپنی کے لیے تمام ضروری ڈیٹا اکٹھا کرنا اور اس کا تجزیہ کرنا ناممکن ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارت میں اب تک کرونا کے ایک کروڑ تین لاکھ سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جو امریکہ کے بعد دنیا بھر میں کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 49 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ بھارتی وزارت صحت کے مطابق ابتدائی ایمونائزیشن منصوبے کے تحت اگست 2021 تک تیس کروڑ افراد کو ویکسین دی جائے گی، جن میں طبی عملہ، پولیس اور غیر محفوظ سمجھے جانے والے افراد شامل ہیں۔

بھارت میں تیار کردہ ویکسین کا نام کوواکسین ہے جو سرکاری اداروں نے بھارت بائیو ٹیک کے ساتھ شراکت سے تیار کی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق اس ویکسین کے کوئی خاص سائیڈ افیکٹس نہیں ہیں اور یہ کووڈ 19 سے مقابلے کے لیے اینٹی باڈیز پیدا کر سکتی ہے۔ نومبر میں دوسرے مرحلے کے ٹرائلز کے دوران اس کی دوسری خوراک 28 روز بعد دی گئی تھی جو کہ مکمل طور پر اثر کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت لیتی ہے۔

بھارتی حکام ابھی تک دوسری ویکسین کی منظوری کے حوالے سے غور کر رہے ہیں جن میں فائزر کی ویکسین بھی شامل ہے۔ دوسری جانب بھارت کی سٹاک ایکسچینج میں بھی دو ویکسینوں کی منظوری کے بعد تیزی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

نیشنل سٹاک ایکسچینج کے نفٹی 50 انڈیکس میں اعشاریہ چار آٹھ فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب کہ ایس اینڈ پی بی ایس سی سین سیکس میں اعشاریہ چار صفر فیصد اضافہ ہوا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ممبئی ٹریڈنگ میں بھی نفٹی بینک انڈیکس میں اعشاریہ چھ سات فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت