کون بنے گا استاد؟

حکومت کی ترجیحات اہرام مصر کی طرح ہوتی ہیں، ایک اینٹ دوسری سے منسلک، ایک ستون پہ دوسرا ٹکا ہوا۔ تعلیم اور استاد کا پیشہ دراصل سیاست، معیشت، دفاع، مذہب، عدالت اور احتساب کی بھاری بھاری سِلوں کے درمیان پھنسا چھوٹا سا پتھر ہے۔

استادوں نے شدت پسندی کی لہر کے دوران بھی کافی نقصان اٹھایا۔ 2009 میں سوات کی ایک  ٹیچر کا سکول کی کئی ماہ تک بندش کے بعد کھلنے پر پہلا سبق (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ یہاں مصنفہ کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں

 


جن گھروں کی پڑھی لکھی خواتین سکول ٹیچر ہیں، جو ریٹائر ہوچکیں وہ بھی۔ دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں ان میں سے کتنی ایسی ہیں جو اپنے بچوں کو بھی سکول ٹیچر دیکھنا چاہیں گی؟

کتنے ایسے مرد استاد ہوں گے جن کا خواب ہوگا کہ ان کا بیٹا بھی ڈگری لے کر کسی سرکاری یا پرائیوٹ سکول میں ٹیچر بھرتی ہوجائے؟

چلیں یہ تو خالصتاً تحقیق طلب سوال ہوگئے ۔ ہم اپنا سوال یوں ڈیزائن کر لیتے ہیں کہ ایک عام پاکستانی یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے لڑکیاں کیا دوران تعلیم یہ خواب دیکھتے ہیں کہ وہ بھی اک روز سکول ٹیچر بنیں گے؟

یقیناً کہیں نہ کہیں کسی جامعہ میں تعلیم و تربیت کو بطور مضمون پڑھنے والے طالب علم ان سوالوں کے جواب کھوج رہے ہوں گے لیکن کچھ جواب وہ ہیں جو ہمیں سرکاری اور پرائیوٹ سکولوں کی اساتذہ کے چہروں پہ نظر آتے ہیں۔

سکول ٹیچنگ ڈریم جاب ہرگز نہیں۔ دنیا کے کسی کونے میں ہوتی ہوگی لیکن کم از کم ہمارے یہاں نہیں۔ پرائمری اور سیکنڈری  سکول بڑے بڑے میدان والے سرکاری ہوں یا چھوٹے چھوٹے بنگلوں میں بنے پرائیوٹ ہوں، اکتائے چہروں، اپنے شعبے سے تھکے ہوئے کندھوں والے اساتذہ سے بھرے پڑے ہیں۔

شاذو نادر ہی ایسا ہو کہ کوئی ماں اپنے رب سے گڑگڑا کر یہ التجا کرے کہ یا اللہ میرے بیٹے کو پیلے پرائمری سکول کا استاد بنا دے، جہاں مڈل کلاسی مائیں چراغ لے کر گھر بیٹھی ڈاکٹر لڑکیاں ڈھونڈنے نکلی ہوں وہاں پرائیوٹ سکول کی آٹھ ہزار روپے ماہانہ کمانے والی ٹیچر مقابلے میں پیچھے رہ جاتی ہے۔

اس لیے پہلے یہ غلط فہمی، خوش فہمی یا لاعلمی درست کرلیں کہ پاکستان میں سکول کا استاد بننا کوئی قابل رشک شعبہ ہے۔ یہ تعلیمی قابلیت، مسابقت، نوکری، ہنر اور پیشے کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں کو دستیاب آخری راستہ ہے۔

جیسے زمانے بھر کے پیشوں، شعبوں سے ٹھکرائے سکول کی نوکری کو مجبوری سمجھتے ہیں ایسے ہی سرکاری محکمہ تعلیم کو واجبی نمبروں میں پاس کیے گئے گریجویشن اور ٹیچرزٹریننگ یافتہ درمیانی عمر کے مرد و خواتین درکار ہوتے ہیں جو پورا ماہ سکول رجسٹر پہ حاضر ہوسکیں اور جماعت کے ایک کونے پہ ٹنگے تختہ سیاہ کو چاک سے سفید کرنے کا ہنر جانتے ہوں۔

یہ بیچارے اساتذہ آہ کریں فریاد کریں یا بھوک ہڑتال کی تڑی لگائیں کسی کو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اپنی نوکری بچانے، تنخواہ بڑھانے یا کنٹریکٹ مستقل کرانے کا مطالبہ لے کر سڑکوں پہ نکلیں کوئی ان کی نہیں سنتا۔ ہم میڈیا والے تو پھر بڑی طاقت رکھتے ہیں کیمرے مائیک لہراتے ہوئے چار نعرے لگائیں تو اپنے بھائی بند ہی کوریج کو نکل آتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیچرز کے بارے میں یہ کہہ کر بات ٹال دی جاتی ہے کہ ان کی تو کلاس کے بچے نہیں سنتے حکومت کیا سنے گی۔ انہیں جانتا بھی کون ہے؟ اپنے سکول کا عملہ، پڑھنے والے چھوٹے بچے، بچوں کے والدین جن میں زیادہ تر مائیں، دو چار محلے والے اور بس۔

کہیں کسی کاؤنٹرپر لکھا دیکھا کہ لائن لگی ہو تو استاد کو پہلے موقع دیں؟

ٹرین جہاز میٹرو، بسوں وغیرہ پر کبھی سنا کہ استاد سفر آدھے کرائے میں کریں؟

ہر نیلے پیلے دن پہ کپڑے لتے کی سیل لگانے والوں نے کیا کبھی اشتہار دیا کہ استاد خصوصی ڈسکاؤنٹ پائیں؟

سیاست کے سپر سٹارز کو کبھی اپنے سکول کے اساتذہ کو کریڈٹ دیتے، ان کے سامنے سر جھکائے کھڑا دیکھا؟

اساتذہ کے ریٹائرمنٹ پلان میں کتنی زرعی اراضی رکھی گئی ہیں؟

کتنی ہاؤسنگ سکیمیں اساتذہ کے لیے کم نرخوں پہ لانچ ہوئیں؟ سرکار کی جانب سے نوازنا تو دور کی بات استاد کو کم مارک اپ پہ قرض ہی دینے کا کوئی اعلان کوئی پلان؟

حکومت کی ترجیحات اہرام مصر کی طرح ہوتی ہیں، ایک اینٹ دوسری سے منسلک، ایک ستون پہ دوسرا ٹکا ہوا۔ تعلیم اور استاد کا پیشہ دراصل سیاست، معیشت، دفاع، مذہب، عدالت اور احتساب کی بھاری بھاری سِلوں کے درمیان پھنسا چھوٹا سا پتھر ہے۔

کوئی حکومت ایسی نہیں جس نے اساتذہ کو ستایا ہو اور اسے گھر جانا پڑا۔ یہ غریب کمیٹیاں ڈال ڈال کرحسرتوں کا پیٹ بھرنے والے ٹیچرز کہاں اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ چوک چوراہوں پہ آئیں اور اپنی سی منوا لیں۔ یہ کام اساتذہ کے بس کا نہیں بلکہ اصلی ’استادوں‘ کا ہے۔

اقوام متحدہ کا تعلیم پر عالمی کمیشن کہتا ہے ’تبدیلی کےاصل ایجنٹ استاد ہوتے ہیں۔‘ یہاں ’استاد‘ کا استعمال طنزیہ یا پھر سیاسی نہیں بلکہ مراد سکول میں پڑھانے والا عملہ ہے۔ ہمارے یہاں استاد، نصاب، تعلیم کا سٹرکچر سب ہی فی الحال تبدیلی کے لیے تیار نہیں۔

ہماری عزیز، سکول ٹیچنگ کے شعبے میں گذشتہ کئی برسوں سے وابستہ بشریٰ خدایار کو میں نے یہ تحریر سنائی تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی کہ آج تک ان کے کسی طالب علم نے یہ خواہش ظاہر نہیں کی کہ وہ سکول ٹیچر بننا چاہتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ