لاک ڈاؤن میں بھی گھر گھر جا کر طلبہ کو تعلیم دینے والے استاد

انڈونیشیا میں سکول بند ہونے کے بعد دور دراز پہاڑوں پر یا دیہات میں رہنے والے بچوں کے لیے آن لائن پڑھائی جاری رکھنا ناممکن ہو گیا۔ ایسے میں ستاون سالہ ہینریکس سوروتو نے گھر گھر جا کر طلبہ کو ٹیوشن دینا شروع کر دیا۔

کرونا وبا نے دنیا بھر کے سکول بند کروا دیے لیکن یہ انڈونیشیا کے ہینریکس سوروتو جیسے اساتذہ کی لگن کو متزلزل نہ کر سکی۔

انڈونیشیا میں سکول بند ہونے کے بعد آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع ہوا تو وسطیٰ جاوا کے ان بچوں کے لیے پڑھائی جاری رکھنا ناممکن ہو گیا جو دور دراز پہاڑوں پر دیہات میں رہتے تھے۔

ایسے دیہات میں یا تو انٹرنیٹ سرے سے ہی نہیں اور یا پھرغریب والدین انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

ستاون سالہ سوروتو نے اپنے طلبہ کی محرومیوں کو پڑھائی میں آڑے نہیں آنے دیا۔ انہوں نے خود گھر گھر جا کر طلبہ کو ٹیوشن دینا شروع کر دی جو آن لائن کلاس نہیں لے سکتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوروتو نے اے ایف پی سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ وہ حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طلبہ کو ٹیوشن پڑھانے نکل پڑتے ہیں، البتہ ان کا اصرار تھا کہ وہ اس کام کے دوران سماجی دوری کے اصولوں پر مکمل عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’صحت مند رہنے کے لیے ہم ضابطوں کا خیال رکھتے ہیں اس لیے کرونا وائرس کی فکر نہیں رہتی۔‘

کرونا وبا سے انڈونیشیا میں تقریباً سات کروڑ طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوئی ہے البتہ سوروتو جیسے کئی اساتذہ نے دور دراز علاقوں میں اپنی جانیں داؤ پر لگا کر فرائض نبھانے کی کوششیں کیں۔

ان کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران سارا دن گھر سے باہر گزارتے ہوئے خود بھی بیمار پڑنے کا خوف تو رہتا تھا لیکن ’پڑھانے کا فرض میرا خوف ختم کر دیتا تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا