نیب، براڈ شیٹ اور احتساب، یہ نمائش سراب کی سی ہے

پیارے پاکستانیو! تمھیں قومی احتساب بیورو نامی ایک سراب کے پیچھے دو دہائی پہلے لگایا گیا تھا۔ تمھیں کہا گیا تھا کہ ہم آپ کو پانی پہ چلنے کا کرتب دکھائیں گے، جلد سوئس بینکوں کی چابیاں عوام کے ہاتھ میں ہوں گی۔

(کینوا)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


میر تقی میر اردو کے وہ شاعر گزرے جنہیں خود غالب نے استاد تسلیم کیا۔ آسان الفاظ اور چھوٹی بحر میں مکمل خیال پیش کرنے کا سلیقہ شاید میر سے بہتر کسی کے پاس نہیں۔ آپ دنیا کے کسی معاملے کا خیال دماغ میں لائیں اور پھر میر کی شاعری کھول بیٹھیں، وہ چار لفظوں کی ترکیب سے پورا معاملہ لپیٹ اور سمیٹ کر سامنے رکھ دیتے ہیں۔

ان دنوں براڈ شیٹ کا شور ہے۔ میں نے لگ بھگ 70 صفحات پر مبنی برطانوی عدالت کا فیصلہ پڑھا، پاکستان کی شکست پڑھی، ورق ورق پہ لکھی رسوائی پڑھی اور پڑھتے ہی عالم بے بسی میں میر تقی میرکی کتاب کھول لی۔

میر کی شاعری کے پہلےدو صفحے عشق، شراب، رقیب اورگلاب سے مزین تھے۔ یہاں مجھے پاکستانیوں کی لوٹی ہوئی دولت کا ملال تھا۔ میں کرپٹ ٹولے کے ہاتھوں پاکستان کی عالمی بے عزتی پہ سیخ پا تھی اور میر تقی میر مجھے دہلی کے کسی سبز باغ کی سیر کو اکسا رہے تھے۔

اس سے پہلے کہ میں پوری قوم کی طرح احتساب کے نعرے کے سامنے ڈھیر ہو جاتی اگلے صفحے پہ میر صاحب نے ہاتھ تھام لیا اور کان میں سرگوشی کر گئے۔

یہ نمائش سراب کی سی ہے

پیارے پاکستانیو! تمھیں قومی احتساب بیورو نامی ایک سراب کے پیچھے دو دہائی پہلے لگایا گیا تھا۔ تمھیں کہا گیا تھا کہ ہم آپ کو پانی پہ چلنے کا کرتب دکھائیں گے، جلد سوئس بینکوں کی چابیاں عوام کے ہاتھ میں ہوں گی۔

عزیز ہم وطنو! جب تمھیں آخری بار اس پیار سے مخاطب کیا گیا تھا تب سابق جنرل پرویز مشرف نے ٹی وی پہ آ کر وعدہ کیا تھا کہ وہ تمھارے حق میں بہترین ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ وطن کی سرحدوں، وطن کے خزانے اور وطن کے لوگوں کا محافظ بنے گا۔ یہ احتساب کا مقبول نعرہ تمھیں تب ہی دیا گیا تھا۔

تمھیں کہا گیا کہ اب نام کے شریفوں اور نام نہاد شریفوں کی خیر نہیں،

اب کک بیکس لینے والے 10 پرسنٹ بھی نہیں بچیں گے

اور بینکوں سے قرضے لے کر کھا جانے والے

ان کو تو ہم گھر تک چھوڑ کر آئیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرپشن کے خلاف نعرے لگے۔ لوٹ کھسوٹ کی رقم اور ہرجانہ دے کر بچ نکلنے والے ڈاکووں کو اردو، انگریزی لغت سے ڈھونڈ کر نئے نام دیئے گئے۔ احتساب کی عدالتیں لگیں اور درجنوں ججز، پراسیکیوٹرز، عدالتی عملے، وائٹ کالر کرائمز کے ماہر وکلا کا کام چل پڑا۔

اے معصوم لوگو! یہی وہ دن تھے جب اگلے پچھلے سارے حساب برابر کرنے کے لیے نیب نے براڈ شیٹ نامی کمپنی کی خدمات لی تھیں۔ یہ کچھ کچھ ویسی ہی خدمات تھیں جیسی ابھی پچھلے برس حکومت پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے گھر والوں کی سراغ رسانی کے لیے ایک ایجنسی سے حاصل کی تھیں۔

فی الحال ذکر ہے براڈ شیٹ کا، جنہیں شریف، بدمعاش، جاگیردار، سرمایہ دار غرض پیسے اور طاقت سے جڑے بڑے بڑے ناموں، سیاست دانوں کی ایک لمبی چوڑی ہٹ لسٹ دی گئی۔ پاکستانیوں کی لوٹی گئی رقم واپس دلوانے پہ انہیں 20 فیصد ادائیگی کا معاہدہ ہوا۔

نیب نے شاید پوری دنیا کو ہی پاکستان سمجھ رکھا تھا، سو معاہدہ پورا نہ کیا یہاں تک کہ ساڑھے چار ارب روپے کا ہرجانہ ابھی گذشتہ ماہ بھرنا پڑ گیا۔ وہ ادارہ جسے کرپٹ سرکاری افسران، سیاست دان وغیرہ سے خزانے اور ہرجانے وصول کرنے تھے خود پیسے دے دے کر جان خلاصی پہ مجبور ہوگیا۔

اے دیدہ ورو! سیاست دانوں کے احتساب کا نام لے کر جس لکی ایرانی سرکس کا آغاز کیا گیا تھا اس سرکس کے شعبدے باز کلائمیکس پہ پہنچنے سے پہلے ہی رسی سے لڑکھڑا کر کب کا گر چکے۔

ارے نادانو! آج 22 سال بعد تمھیں ایک بار پھر سوئس بینکوں، پانامہ کے اکاونٹس اور لندن فلیٹس کی چابیاں دکھا کر گھمایا جا رہا ہے۔ بلین ڈالرز کے نوٹوں کی خوشبو سے ریجھایا جا رہا ہے، احتساب اور این آر او کے نعروں سے بہلایا جا رہا ہے۔

احتساب کے نام پہ شعبدے باز پھر تم سے کہہ رہے ہیں کہ دیکھو دیکھو ہم پانی پہ چل کر کرتب دکھائیں گے، چابی گھمائیں گے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ اور ہاں یاد آیا ! آئی ایم ایف کے منہ پہ بھی ماریں گے۔

ملک میں حساب کتاب، انصاف، احتساب اور سزا و جزا کے درجنوں کٹہرے ہیں، نمبر ون کے خمار میں ڈوبے مختلف ناموں کے کئی تحقیقاتی اور انٹیلی جنس ادارے ہیں، قانون بنانے، اس کا مذاق اڑانے اور اسے نافذ کرنے والوں کی بھی کمی نہیں مگر پھر بھی پچھلے 73 برس سے بھیڑیئے ملک و قوم کی بوٹی نوچ کر ہڈیا ں تک چبا گئے، یہاں رام آسکا نہ راون۔

 احتساب نامی سراب پچھلے بیس بائیس برسوں سے بہہ رہا ہے۔ کچھ اسے صحرا کی مٹی سمجھ کر بھاگ رہے ہیں کچھ سمندر کی لہریں جان کر تیرنے کی کوشش میں ہیں۔ نہ بھاگنے والے کسی منزل کو پاسکے نہ تیرنے والوں کو اس سراب کا کنارہ ملا۔

ہاں جو کچھ ملی وہ رسوائی ہے، جگ ہنسائی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ