براڈ شیٹ کے بیانات سے پاکستان میں سیاسی تنازع، معاملہ ہے کیا؟

براڈ شیٹ کے سی ای او کے بیانات سامنے آنے کے بعد گذشتہ کئی روز سے حکومتی عہدیداروں اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں میں تنقید کا تبادلہ جاری ہے۔

براڈ شیٹ کی جانب سے تصفیحہ سے متعلق تیار کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مشرف دور کی حکومت اور نیب کی جانب سے انہیں شریف خاندان کی بدعنوانی کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی (ا ایف پی فائل)

غیر ملکی اثاثہ جات ریکوری فرم براڈ شیٹ کے ثالثی دستاویز اور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کاوے موسوی کے دیے گئے بیانات سے پاکستان میں ایک نیا تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

براڈ شیٹ کی جانب سے تصفیحے سے متعلق تیار کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مشرف دور کی حکومت اور نیب کی جانب سے انہیں شریف خاندان کی بدعنوانی کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور اس دوران کمپنی کے سی ای او کاوے موسوی سے مختلف شخصیات نے ملاقاتیں کیں اور ان سے کیا گفتگو ہوئی۔

یہ معاملہ پاکستانی حکومت کی جانب سے براڈ شیٹ کو دو کروڑ87 لاکھ ڈالر جرمانے کی ادائیگی سے شروع ہوا اور اس کے بعد یہ سیاسی منظر نامے پر ایسے چھایا ہوا ہے جیسے گذشتہ دور حکومت میں پانامہ پیپرز کا معاملہ ابتدا میں ہلچل کا باعث بنا تھا۔

اس بارے میں تفصیلات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان بھی اس معاملے کو پانامہ لیکس سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ دوسری جانب براڈ شیٹ کے سی ای او کاوے موسوی سے میل ملاقاتوں اور ان کے بیانات پر بھی بحث ومباحثے جاری ہیں۔

موسوی سے کس کس نے اور کیوں ملاقاتیں کیں؟

اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والی براڈ شیٹ فرم اور حکومت پاکستان، نیب کے درمیان ثالثی دستاویزات کی کاپی میں تحریری تذکرہ کیا گیا ہے۔

ان دستاویزات کے مطابق جب نواز شریف وزیر اعظم کے عہدے پر موجود تھے، تو موسوی سے انجم ڈار نے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت پاکستانی حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے کام کر رہے ہیں۔ اپنی تصدیق کے لیے انجم ڈار نے موسوی کو نواز شریف کے ساتھ بنی اپنی تصاویر دکھائیں۔ انہوں نے لندن میں ثالثی اور پاکستان میں بدعنوانی کی تحقیقات سے متعلق متعدد معاملات سے متعلق نیب کے کچھ دستاویزات بھی فراہم کیے۔

انجم ڈار نے ظاہر کیا کہ وہ نواز شریف کے رشتہ دار ہیں اور براڈ شیٹ کو کچھ دو کروڑ ڈالر کی رقم میں ادائیگی کرکے تنازع حل کرسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے لیے براڈ شیٹ کو اس طرح کے تصفیے کی ادائیگی کرنے کے لیے رقم مل سکے گی جس کے عوض انہیں اور دوسروں کو مبینہ طور پر کمیشن کے طور پر خاطر خواہ رشوت اور کک بیک کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں موسوی نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی کہ انجم ڈار نے انہیں رشوت کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے مبینہ ایک ارب ڈالر سعودی عرب سے سنگاپور بھیجے گئے تھے۔ ان کی کمپنی کے بند ہونے کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ نیب نے غیرقانونی طور پر معاہدے کی 2003 میں خلاف ورزی کی تھی۔

موسوی نے بڑی رقم زیر بحث آنے کے باوجود اس پیش کش کو مسترد کر دیا۔ مزید یہ کہ  موسوی نے انجم ڈار کو بتایا کہ کسی بھی تصفیے سے متعلق معاملات پیشہ ور وکلا کو اختیار کے ساتھ سنبھالنا ہوں گے تاکہ شفاف اور حلال ذرائع سے کسی معاہدے پر گفتگو کی جاسکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دستاویزات میں بتایا گیا کہ اس کے بعد موسوی اور کسی مسٹر علی کے درمیان پہلی ملاقات جولائی 2018 کے آخر میں آکسفورڈ میں مسٹر پکس کی رہائش پر ہوئی۔ اس ملاقات میں مسٹر موسوی کو مسٹر علی نے بتایا تھا کہ وہ نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں۔ مسٹر علی نے یہ بھی کہا کہ وہ مبینہ طور پر وزیر خزانہ، انٹلیجنس ایجنسی اور اٹارنی جنرل کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ان کی ابتدائی میٹنگ کے بعد 31 جولائی 2018 کو مسٹر علی نے مسٹر موسوی کو ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ ان سے مل کر اچھا لگا۔ ’کیا آپ عمران خان سے میری ملاقات سے قبل کچھ پوائنٹ پر مشتمل ایجنڈا مرتب کریں گے؟ میں بھی وہی کروں گا۔ کل صبح ہم نقطہ نظر کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔‘

اس کے بعد مسٹر موسوی نے مسٹر علی کے ساتھ فالو اپ ملاقات کی جس میں مسٹر علی نے شریف خاندان سے متعلق بدعنوانی کی تاریخ کا خاکہ پیش کیا جو براڈ شیٹ نے لندن ثالثی کے حصے کے طور پر تجزیہ کیا تھا۔

مسٹر علی نے موسوی کو مزید بتایا کہ شریف اور بھٹو خاندانوں کی ’اتنے برسوں سے جاری تاریخی بدعنوانی سے نجات دلانے کے لیے‘ کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسٹر علی یہ نکات نئے وزیر اعظم کے سامنے رکھیں گے، جنہوں نے ’ملک کی تاریخ اور بدعنوانی کی ثقافت کو تبدیل کرنے اور بہت صاف غیر قانونی کاموں کے بعد صاف شفاف حکومت متعارف کروانے کے وعدے پر مہم چلائی تھی۔‘

براڈ شیٹ کے دستاویز میں کہا گیا ہے کہ موسوی کی علی سے حتمی ملاقات کے بعد اور دونوں معاہدوں کا مسودہ پاکستان بھیجے جانے کے بعد پاکستانی عہدیداروں کا ایک وفد برطانوی حکام سے ملاقاتوں کے لیے لندن گیا۔ مسٹر موسوی کو وفد کی آمد کے بارے میں ایک مسٹر مالک نے بتایا تھا، انہوں نے بتایا کہ وہ مبینہ طور پر خفیہ ایجنسی کی تحقیقاتی برانچ کا حصہ ہیں۔ اس کے بعد مسٹر موسوی نے 13 اکتوبر 2018 کو ہیمپسٹڈ میں کیفے روج پر مبینہ طور پر کسی میجر جنرل مالک سے ملاقات کی۔ تاہم موسوی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ جنرل مالک کا فوج سے کوئی تعلق نہ ہو۔

’میں نے واقعے کے فورا بعد حکام کو رپورٹ کر دیا تھا تاہم اس کے بعد کسی کارروائی کی انہیں اطلاع نہیں۔

جنرل مالک کو پوری براڈ شیٹ کی صورت حال اور دونوں ڈرافٹ معاہدوں کے علاوہ سنگاپور میں شریف خاندان کی رقوم کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر جنرل مالک نے مسٹر موسوی کو بتایا کہ براڈ شیٹ مسٹر علی کے ساتھ اپنا وقت ضائع کر رہی ہے کیونکہ اب پاکستانی حکومت میں شامل دیگر افراد اس معاملے کو سنبھال رہے ہیں اور یہ معاہدہ دو نئے معاہدوں پر ہوسکتا ہے۔

جنرل مالک نے مسٹر موسوی کو کہا کہ براڈ شیٹ دونوں معاہدوں پر دستخط کرکے ان کا نفاذ کرسکتی ہے۔ انہوں نے یہ دیکھنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی کہ کیا براڈ شیٹ پاکستان کو اس بات کا تعین کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ حکومت کے ذریعہ مسٹر علی کے ساتھ پہلے دو ثالثی ایوارڈز کے سلسلے میں رشوت مانگی گئی تھی۔ اس شخص نے مبینہ طور پر کہا کہ فوج ریکو ڈیک کان معاہدے کو بحال کرنے کی خواہاں ہے اور اگر وہ اس معاملے میں ان کی مدد کریں گے تو مبینہ طور پر خاطر خواہ انعامات ادا کیے جائیں گے۔

انہیں سننے کے بعد مسٹر موسوی نے واضح طور پر کہا کہ وہ جس گفتگو کی پیروی کر رہے تھے وہ پاکستانی عہدیداروں کو رشوت دینے کی کسی مجرمانہ سازش سے کم نہیں تھا اور نہ ہی وہ اور نہ ہی براڈ شیٹ کسی بھی حالت میں اس معاملے پر مزید بات چیت کرسکتی ہے، چاہے اس سے کتنی رقم حاصل ہو۔ ان کی ملاقات اچانک ختم ہوگئی اور اس کے بعد سے مسٹر موسوی نے جنرل مالک سے بات نہیں کی۔ 

تاہم سکیورٹی ذرائع ایک صحافی سے گفتگو میں ایسی کسی ملاقات کو ’فرضی‘ قرار دے چکے ہیں۔ 

سیاسی بیان بازی

یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد گذشتہ کئی روز سے حکومتی عہدیداروں اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں میں تنقید کا تبادلہ جاری ہے۔ اس میں مزید شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ پانامہ پیپرز نے ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن کو عیاں کیا تو اب براڈ شیٹ نے منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کو بڑے پیمانے پربے نقاب کردیا۔ یہ اشرافیہ انتقامی کارروائی کے کارڈ کے پیچھے نہیں چھپ سکتی۔

اس کے بعد مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیر اعظم عمران خان کے براڈ شیٹ سے متعلق ٹویٹ کو ان کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ براڈ شیٹ نے پاکستان کے فرسودہ نظام کو بے نقاب کیا اور ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ منی لانڈرنگ آج ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مشرف دور میں کمپنی کو مقدمہ بنانے کے لیے سیاسی حریفوں کی لسٹ دی گئی۔ ‘

ان کے الزامات پر وزیر اعظم کے مشیر احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے مسلم لیگ ن کی ترجمان کو ہتک عزت کا نوٹس بھیج دیا۔ نوٹس میں کہا گیا کہ مریم اونگزیب معافی مانگیں پچاس کروڑ ہرجانہ ادا کریں کیونکہ انہوں نے پریس کانفرنس میں بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا کہ الزامات سے شہزاد اکبر کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

 

مریم اورنگزیب نے شہزاد اکبر پر موسوی سے 50 فیصد کمیشن مانگنے کا الزام لگایا تھا۔

بیرسٹر شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سیاسی اشرافیہ منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ کرپشن سے لوٹے پیسوں سے اپنا دفاع بھی کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ براڈ شیٹ کیس میں سیاسی اشرافیہ ہی بے نقاب ہوئی۔

’نواز شریف اور مریم نواز براڈ شیٹ کیس عوام میں لائے اور ان کی چوری پکڑی گئی۔ میں مریم اورنگزیب و دیگر پارٹی قائدین کو چیلنج اور 72 گھنٹے کا وقت دیتا ہوں کہ وہ انجم ڈار کی طرف سے کاوے موسوی کو رشوت کی پیشکش کی تحقیقات کے لیے لندن پولیس کو درخواست دیں۔ ان میں ہمت نہیں تو یہ کام میں کرنے جا رہا ہوں، براڈ شیٹ کن لوگوں کی تحقیقات کر رہی تھی، اس بارے میں جانیں گے کہ دو سو لوگوں کی لسٹ عمران خان یا شہزاد اکبر نے نہیں دی، یہ ایک معاہدے کے تحت بنائی گئی تھی۔‘

شریف خاندان پر تحقیقات چھوڑنے کے لیے رشوت کی پیش کش کرنے کے الزامات عائد کیے جانے پر براڈشیٹ ایل ایل سی کے سی ای او کاوے موسوی نے ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان سے ثالثی کے حکم نامے کو شائع کرنے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو دو کروڑ 90 لاکھ ڈالرز کا شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست