سول سروس اصلاحات: نئی بوتل پرانی شراب

حیرانی ہوتی ہے کہ سول سروس میں اصلاحات لانے والی ٹاسک فورس نو سو دنوں سے زیادہ کام کرنے کے بعد صرف یہ زیبائشی تبدیلی لاسکی ہے۔

(اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


تحریک انصاف حکومت نے سول سروس اصلاحات کے نام پر حال ہی میں ترقیوں، نظم و ضبط اور جبری ریٹائرمنٹ کے بارے میں نئے قوانین لانے کا اعلان کیا ہے۔ ان قوانین کے تحت سرکاری ملازمین کی ترقیوں، سروس سے برخاستگی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے بارے میں قوانین اور جبری ریٹائرمنٹ کو قانونی شکل دے دی گئی ہے۔  لیکن اگر ان نئے قوانین کا بغور جائزہ لیں تو ان میں بظاہر کوئی نئی اور دوررس تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔

یہ تبدیلیاں بظاہر مشرف دور کے قوانین سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ حیرانی ہوتی ہے کہ سول سروس میں اصلاحات لانے والی ٹاسک فورس نو سو دنوں سے زیادہ کام کرنے کے بعد صرف یہ زیبائشی تبدیلی لاسکی ہے۔ کیا اتنے لمبے عرصے اور ایک کل وقتی مشیر، قومی خزانے کے کثیر خرچ کے بعد اصلاحات کے بارے میں یہی سوچ سکے۔

اس پرانی شراب کو نئی بوتل میں پیش کرنے کے لیے اس قدر اہتمام کی کیا ضرورت تھی؟ ایسا لگتا ہے کہ اصلاحات کے لیے موجودہ حکومت کے قائم کردہ بےتحاشہ ادارے جن میں ٹاسک فورس، سیکرٹریز کمیٹی، خصوصی معاون برائے اسٹیبلشمنٹ، وزیر تعلیم کی سربراہی میں قائم کابینہ کمیٹی شامل ہیں فکر نو کی شدید کمی ہے۔

سول سروس میں یقینا اصلاحات کی اشد ضرورت ہے مگر حکومت کی منشا ان اصلاحات کے ذریعے من پسند افسروں کی ترقی اور غیر پسندیدہ کی جبری ریٹائرمنٹ کا اہتمام کرنا ہو تو اس قسم کی اصلاحات کبھی پائیدار نہیں ہو سکتیں۔ ان اصلاحات کا انجام ہم مشرف اور نواز شریف کے حالیہ دور اور پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت میں دیکھ چکے ہیں جس میں من پسند افراد کو تیز رفتار ترقیاں دی گئیں اور قابل مگر ناپسندیدہ افسران کو مختلف من گھڑت الزامات جن میں نااہلیت، بدعنوانی اور جھوٹی انٹیلی جنس رپورٹس شامل تھیں کی بنیادوں پر ترقیوں سے محروم کیا گیا۔

سول سروس کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ اس میں سیاسی مداخلت کا سلسلہ ختم ہو اور ترقیوں اور ریٹائرمنٹ کے لیے ایک منصفانہ نظام بنایا جائے جس میں انسانی تعصب، محکمہ جاتی وفاداری، سیاسی مداخلت اور انٹیلی جنس اداروں کا کم از کم کردار ہو۔

اگر ہماری افواج میں ترقیوں کا ایک غیر متنازعہ نظام موجود ہے اور سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل تک کی ترقی فوج کا ادارہ بغیر سیاسی قیادت کی مداخلت یا ان افسروں کے بارے میں حکومت کے مختلف خیالات کے باوجود کرسکتا ہے تو اسی طرح کا نظام جس میں صرف افسر کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بنیاد پر ترقی یا تنزلی ہو، سول سروس میں کیوں نہیں متعارف کرایا جا سکتا۔

اس منصفانہ اور جدید خطوط پر مبنی نظام کو متعارف کرانے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی فرسودہ ساخت میں بنیادی تبدیلی لائی جائے۔ صرف انسانی وسائل کو صحیح طور پر استعمال کرنے والے اور اس میدان کے ماہرین اس محکمے میں شامل ہونے چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ڈی ایم جی کے افسروں سے بھرا پڑا ہے اور یہ محکمہ بظاہر صرف اسی گروپ کے مفادات کی حفاظت پر مامور ہے۔ اس محکمے کے سربراہ جن کا تقریبا ہمیشہ ڈی ایم جی سے تعلق ہوتا ہے عموما انسانی وسائل کے استعمال اور اس کی پرورش کی کسی بھی تربیت سے نہیں گزرے ہوئے ہوتے۔ کئی دفعہ تو اس محکمے کے سربراہ کچھ ماہ کے لیے اس محکمے میں آتے ہیں اور پھر پہلی بہتر وفاقی یا صوبائی آسامی نظر آتے ہی آگے چلے جاتے ہیں۔

منصفانہ ترقیوں اور نااہل افسروں کی چھانٹی موجودہ ساخت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن احسن طریقے سے سرانجام نہیں دے سکتا۔ اس محکمہ کے اہلکار ڈی ایم جی کے غلبے کی وجہ سے منصفانہ فیصلے نہیں کر پاتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسے ایک گروپ  کے شکنجے سے مکمل آزادی دلائی جائے۔

اس محکمے کے سربراہ کے لیے انسانی وسائل کے شعبے کے کسی ماہر کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو تمام گروپس کے افسران کے ساتھ منصفانہ سلوک کر سکیں اور تعیناتیاں اور ترقیاں گروپ وفاداری کی بجائے اہلیت پر مبنی ہوں۔ اسی طرح اس محکمے کے باقی اہم افسران بھی انسانی وسائل کے شعبے کے ماہرین ہونے چاہیں تاکہ وہ حکومت کو کسی تعصب کے بغیر ترقیوں اور موجود انسانی وسائل کے استعمال کے بارے میں اپنی بےلاگ سفارشات دے سکیں۔

قوانین میں حالیہ تبدیلیاں ڈی ایم جی کے غلبے کو مزید مضبوط کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ نئے قوانین کے تحت تربیتی ادارے، جو کہ ڈی ایم جی افسران سے بھرے ہوئے ہیں، ترقیوں میں اہم کردار ادا کریں گے اور ان کی سفارشات کو اضافی اور فیصلہ کن وزن دیا جائے گا۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ یہ ادارے ڈی ایم جی گروپ کے افسران کے ساتھ ترجیحی سلوک کرتے ہوئے تربیت کے دوران ان کی قابلیت کے تعین میں کافی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ دوسرے گروپ کے افسروں کی قابلیت جانچنے کا پیمانہ انتہائی سخت ہوتا ہے۔ اگر یہ تربیتی ادارے پیشہ وارانہ تربیت کار چلا رہے ہوتے تو پھر ان اداروں کی سفارشات میں وزن ہوتا مگر ان کی موجودہ ساخت میں یہ ممکن نہیں۔

چونکہ سیاسی حکومتوں کو اپنے منشور اور ایجنڈا پر عمل کرانے کے لیے سول سروس کی ضرورت پڑتی ہے اور اسی تعلق کی وجہ سے سول سروس کچھ حد تک سیاسی ہو جاتی ہے۔ اس تعلق کو ختم کرنے کے لیے ہمارے قوانین میں مناسب تبدیلی کر کے اس بات کا اہتمام کیا جا سکتا ہے کہ ہر سیاسی حکومت اپنی مدت کے دوران ہر شعبے کے ماہر اور اپنی مرضی کے اہلکار ہر وزارت میں لاسکے جو اس کے انتخابی وعدوں پر عمل کرانے میں مدد کر سکیں۔ ان اہلکاروں کی مدت ملازمت حکومت ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو جانی چاہیے۔ یہی طریقہ پاکستان میں پہلے سے سیاسی سفیروں کی تعیناتی کے بارے میں اختیار کیا جا رہا ہے۔

یہ طریقہ کار امریکہ میں لمبے عرصے سے کامیابی سے چلایا جا رہا ہے اور ہمیں اپنے حالات کے مطابق اسی طرح کا کوئی نظام لانے کی ضرورت ہے۔ اس سے سول سروس بھی سیاسی ہونے سے بچ جائے گی اور حکومت وقت اپنے منشور اور انتخابی وعدوں پر عمل کرتے ہوئے عوام کو بہتر سہولیات مہیا کر سکے گی۔ اس نظام سے شاید ہم فواد حسن فواد اور اعظم خان جیسے قابل افسران کو سیاسی قیادت کے بہت قریب، ان کے آلہ کار اور نیب کا شکار ہونے سے بچا سکیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ