باز سے تلور کا شکار رہائشیوں کے مطابق علاقے میں ترقی کا سبب بنا

رحیم یار خان کے رہائشی 32 سالہ علی احمد کہتے ہیں ’میرے خاندان میں پچھلی تین نسلوں میں کسی شخص نے سکول نہیں دیکھا، لیکن میرے بچے سکول جاتے ہیں۔ہم شدید سردی اور گرمی میں مٹی سے بنی جھوپنڑیوں میں رہتے تھے۔ اب ہم ایک کالونی میں رہتے ہیں۔‘

’عرب ملکوں سے آنے والی اہم شخصیات ہر سال فروری اور مارچ کے دوران پاکستان کے صحراؤں میں تلور آزاد کرتی ہیں۔ وہ شکار کے لیے آتے وقت پرندے ساتھ لاتے ہیں۔ چھوڑے گئے پرندوں کی تعداد شکار ہونے والے پرندوں سے زیادہ ہوتی ہے۔' (ہوبارا  فاونڈیشن)

جنوبی پنجاب کے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں خلیجی ممالک سے تلو ر کا شکار کرنے والوں کی ہرسال آمد، ان قصبوں کے حالات سنوارنے میں مدد دیتی ہے جہاں تلور کا شکار (باز کی مدد سے کیا جانے والا شکار) کیا جاتا ہے۔

تاہم تحفظ جنگلی حیات کے حامیوں نے پرندوں کی تعداد میں سالانہ اضافے کے حوالے سے کسی سروے کی عدم موجودگی میں ان کا شکار جاری رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق فطرت کے تحفظ کے لیے عالمی اداروں نے کم یاب تلور کو خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

دنیا بھر میں تلو ر کی تعداد 50 ہزار سے ایک لاکھ تک ہے۔ جزیرہ نماعرب میں یہ پرندہ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے حکومت  پاکستان سے سفارش کی ہے کہ تلور شکار کے اجازت ناموں کا اجرا بند کر دیا جائے اور اس پرندے کے شکار پر فوری مکمل پابندی عائد کی جائے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ محدود پیمانے پر تلور کے شکار کی اجازت صرف پرندے کی تعداد کا سالانہ سروے ہونے کے بعد دی جائے۔ سروے میں متعلقہ فریق شامل ہوں جو ملک میں پرندے کی تعداد اور اس میں اضافے کے رجحان کا تعین کریں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اوربحرین سے شاہی خاندان کے افراد پاکستان آ کردسمبر سے فروری کے دوران باز کی مدد سے تلو ر کا شکا ر کرتے ہیں۔

امریکی جریدے دی اکانومسٹ کی 2019 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہر شکاری پارٹی اپنا کیمپ مختص کروانے کے لیے ایک لاکھ ڈالر ادا کرتی ہے، جب کہ دس دن شکار کے لیے کارآمد پرمٹ ایک لاکھ ڈالر ادائیگی کے عوض مہیا کیا جاتا ہے۔ اس پرمٹ پر ایک سوپرندوں کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ شکاریوں کے ساتھ آنے والے ہر باز کے لیے ایک ہزار ڈالر ادا کرنے ہوتے ہیں۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق شکاریوں کی آمد سے ان دور دراز قصبوں کی ترقی میں مدد ملی جہاں وہ عارضی طور پہ قیام کرتے ہیں۔ ان قصبوں میں لاکھوں ڈالرز سے تعلیم اور صحت کے مراکز سمیت پانی کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔

ہوبارافاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان (ایچ ایف آئی پی) کے حکام کا مؤقف ہے کہ تلو ر کا محدود پیمانے پر شکار اس کی نسل کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پنجاب کے شہر رحیم یار خان کے رہائشی 32 سالہ علی احمد نے عرب نیوز کو بتایا:  ’میرے خاندان میں پچھلی تین نسلوں میں کسی ایک شخص نے سکول نہیں دیکھاتھا، لیکن میرے بچے سکول جاتے ہیں۔ہم شدید سردی اور گرمی میں مٹی سے بنی جھوپنڑیوں میں رہتے تھے۔ اب ہم ایک کالونی میں رہتے ہیں جہاں زندگی کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا متحدہ عرب امارات سے شیخوں کی آمد کی بدولت ہوا جو شکار کے لیے آتے ہیں۔ان لوگوں نے یہاں کئی ترقیاتی منصوبے مکمل کروائے ہیں او ر ہماری زندگی آسان بنا دی ہے۔‘

مقامی خاتون نیناکماری نے بتایا کہ ان کے بیمار ہونے پر انہوں نے اپنی 12 سالہ بیٹی کو رحیم یار خان میں شیخ زیدمیڈیکل کمپلیکس میں داخل کروایا جو اماراتی حکومت نے بنوایا ہے۔ فون پر انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں کھانا اور ادویات مفت ملتے ہیں۔

ہوبارافاؤنڈیشن انٹرنیشل پاکستان کے حکام نے عرب نیوز کے ساتھ بات چیت میں اتفاق کیا ہے کہ عرب ملکوں کی اہم شخصیا ت کی جانب سے مخصوص علاقوں میں ہی شکار سے تلور کو تحفظ ملا ہے، دوسری صورت میں اس پرندے کی نسل خطرے کا شکار ہوتی۔

فاؤنڈیشن کے اعلیٰ عہدے دار لیفٹیننٹ کرنل رانا کمال الدین نے بتایا : ’عرب ملکوں سے آنے والی اہم شخصیات ہر سال فروری اور مارچ کے دوران پاکستان کے صحراؤں میں تلور آزاد کرتی ہیں۔ وہ شکار کے لیے آتے وقت پرندے ساتھ لاتے ہیں۔ چھوڑے گئے پرندوں کی تعداد شکار ہونے والے پرندوں سے زیادہ ہوتی ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات