کرونا پر موثر قابو پانے والے ملکوں میں پاکستان کا 69 واں نمبر

کووڈ 19 بحران کے دوران اچھی کارکردگی دکھانے میں نیوزی لینڈ، ویت نام، تائیوان سب سے آگے جبکہ امریکہ اور برطانیہ آخری نمبروں پر ہیں۔

(انفو گراف)

کرونا (کورونا) وائرس سے پھیلنے والی بیماری کووڈ 19 پر قابو پانے کے لیے 100 ملکوں کی مختلف حکمت عملی اپنانے اور ان کے نتائج پر سامنے آنے والی ایک حالیہ رینکنگ کے مطابق پاکستان 69 ویں اور بھارت 86 ویں نمبر پر آیا ہے۔

انڈیکس جاری کرنے والے ادارے لووی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق نیوزی لینڈ، ویت نام اور تائیوان نے رینکنگ میں بالترتیب پہلی تین پوزیشنز حاصل کی ہیں جبکہ برطانیہ اور امریکہ فہرست کے سب سے آخری نمبروں پر براجمان ہیں۔ فہرست میں چین کو عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا کی کمی کی وجہ سے نکال دیا گیا۔ یاد رہے کرونا وائرس کا پہلا کیس چین میں سامنے آیا تھا۔

فہرست کے پہلے 10 ممالک میں تھائی لینڈ، قبرص، روانڈا، آئس لینڈ، آسٹریلیا، لٹویا اور سری لنکا شامل ہیں، جہاں فی کس اور مجموعی طور پر کم کیسز اور کم اموات سامنے آئی ہیں۔ فہرست میں شامل 98 ممالک کا پہلے ایک سو کرونا کیسز سامنے آنے کے بعد 36 ہفتوں تک جائزہ لیا گیا اور اس میں نو جنوری 2021 تک کے دستیاب ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔

لووی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق انڈیکس میں ان ممالک میں ہر 14 دن کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد کی اوسط، ہر 10 لاکھ افراد میں تصدیق شدہ کرونا کیسز، اموات، ہر 10 لاکھ افراد میں اموات، ٹیسٹس کے مقابلے میں سامنے آنے والے کیسز کا تناسب اور ہر ہزار افراد میں ہونے والے ٹیسٹس جیسے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب دنیا بھر میں کرونا کیسز کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی 20 لاکھ سے زائد ہے۔

امریکہ ڈھائی کروڑ کیسز کے ساتھ اس فہرست میں 94 ویں نمبر پر ہے جبکہ بھارت، جہاں کیسز کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہے، 86 ویں نمبر پر ہے۔

انڈیکس کے مطابق ایشیا پیسیفک کے خطے کے ممالک وائرس پر قابو پانے میں زیادہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں جبکہ امریکہ اور یورپ جلد ہی وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے دباؤ کا شکار ہوئے۔

جنوبی ایشیائی ممالک میں پاکستان 69 ویں جبکہ ایران اس فہرست میں 95 ویں نمبر پر ہے۔ نیپال کی پوزیشن 70 اور بنگلہ دیش کی 84 ہے۔ چین اور افغانستان کا ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اس انڈیکس میں شامل نہیں کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا