لاہور کے لیے ’شہر ادب‘ کے اعزاز کی کہانی

لاہور شہر کو دنیا کے چند ادبی شہروں میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ یہ اعزاز یونیسکو(UNESCO) کی جانب سے دنیا کے 39 شہروں کو دیا گیا۔

یہ اعزاز 2019 کے آخر میں دیا گیا تھا لیکن اس کی تقریب گذشتہ بدھ کو الحمرا آرٹ کونسل میں منعقد کی گئی (اے ایف پی)

لاہور شہر کو دنیا کے چند ادبی شہروں میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ یہ اعزاز یونیسکو(UNESCO) کی جانب سے دنیا کے 39 شہروں کو دیا گیا۔

ویسے تو یہ اعزاز 2019 کے آخر میں دیا گیا تھا لیکن اس کی تقریب گذشتہ بدھ کو الحمرا آرٹ کونسل میں منعقد کی گئی۔

اس اعزاز کو حاصل کرنے کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے۔

ایپلیکیشن فارم کس نے اور کیسے بھرا؟

آمنہ علی اس وقت یونیسکو (UNESCO) کی نیشنل پراجیکٹ آفیسر ہیں اور پنجاب حکومت کے ساتھ کچھ منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ لیکن ان کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ انہوں نے 2019 میں ایک کنسلٹنٹ کے طور یونیسکو کا وہ فارم بھرا جس کے تحت لاہور کو شہر ادب کا اعزاز ملا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے آمنہ علی نے بتایا کہ ’میں نے جب یہ فارم بھرا اس وقت میں یونیسکو کے ساتھ کام نہیں کر رہی تھی۔‘

’یہ سلسلہ یوں شروع ہوا کہ جرمنی کا شہر ہائیڈل برگ پہلے سے ادبی شہر ہونے کا اعزاز رکھتا ہے جس کی ایک بڑی وجہ اس شہر کی علامہ اقبال کے ساتھ وابستگی ہے۔‘

آمنہ علی بتاتی ہیں کہ 2019 کے شروع میں وہاں کی کیبنٹ کے رکن وسیم بٹ جو کہ ایک پاکستانی ہیں وہ پاکستان آئے اور یہاں چیدہ چیدہ لوگوں سے ملاقات کی جس میں اس وقت کے کمشنر لاہور مجتبیٰ پراچہ، سلیمہ ہاشمی، ڈاکٹر عارفہ سیدہ زاہرہ، قاسم جعفری، امجد اسلام امجد شامل تھے۔

’وسیم بٹ نے اس ملاقات میں جرمنی کے اس شہر کی مثال دی کہ علامہ اقبال کی وجہ سے جرمنی کا شہر یہ اعزاز حاصل کر چکا ہے تو علامہ اقبال کا اپنا شہر لاہور اس اعزاز سے کیوں محروم ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ وسیم بٹ کا خیال تھا کہ لاہور بلا شبہ ایک قدیم اور ادبی شہر ہے۔ یہاں کام بہت ہو رہا ہے صرف ہمیں دکھانا نہیں آتا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس سارے ادبی کام کی ایک مرتبہ ڈاکومینٹیشن کی جائے اور اسے فروغ دیا جائے۔

فیصلہ یہ ہوا کہ ہم ادب کی کیٹیگری میں اپنا فارم بھریں گے۔

آمنہ کے مطابق مئی 2019 میں اس وقت کے کمشنر مجتبیٰ پراچہ نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ سلیمہ ہاشمی، عارفہ سیدہ زاہرہ، قاسم جعفری، امجد اسلام امجد سے رابطہ کریں اور ان سے فارم بھرنے کے لیے رہنمائی لیں۔

’ہمارے پاس وقت صرف تین ہفتے کا تھا اور فارم کوئی آسان نہیں تھا۔ اس لیے ہمیں بے شمار اداروں سے بھی رابطہ کرنا پڑا جس میں وہ ادارے بھی تھےجو نجی طور پر ادب پر کام کررہے تھے، اور جو کتابیں چھاپتے ہیں یا ان کو بیچتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ عرضی میں یہ بھی لکھنا تھا کہ آئندہ آنے والے سالوں میں ہم کیا ادبی سرگرمیاں کریں گے۔ یہ فارمز دنیا بھر سے شہر کے مئیر اور اس کے ادارے کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔ اب ہمارے ہاں کوئی مئیر موجود نہیں بلکہ کمشنر لاہور کے پاس ہی مئیر لاہور کا چارج ہے۔ اس لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کی طرف سے یہ فارم جانا تھا۔

’اس میں جرمنی کے ہائیڈل برگ شہر کی جانب سے بھی ہمیں تعاون کا ایک خط ملا جو ہم نے اپنے فارم کے ساتھ لگایا۔ 30 نومبر 2019 کو یونیسکو نے اس مقابلے کے نتائج کا اعلان کیا جس میں لاہور کو ادبی شہر ہونے کا اعزاز مل گیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ادب کی کیٹیگری میں دنیا بھر کے 39 شہروں کو ادبی شہر ہونے کا اعزاز ملا جن میں لاہور بھی شامل ہے۔ اس وقت لاہور پاکستان کا وہ واحد شہر بنا جسے شہر ادب کا اعزاز ملا ہے۔

اس اعزاز کے لیے فارم بھرنے میں کیا مشکلات پیش آئیں؟

اس اعزاز کے فارم کو بھرنے میں معاونت فراہم کرنے والی کمیٹی کی ممبر پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جب اس اعزاز کی عرضی بھرنے کے لیے کمشنر لاہور ملاقاتیں کر رہے تھے تو کسی ستم ضریف یا میرے چاہنے والے نے اس کمیٹی کے لیے میرا نام بھی دے دیا۔

’لاہور کو یہ اعزاز ملنا چاہیے تھا۔ ہمارے پاس وقت بہت کم تھا۔ ایک ہزار صفحات کا فارم تھا جسے بھرنا تھا۔ آمنہ علی نے دن رات ایک کر دیا اور پھر ایک دن مجھے فون آیا اور معلوم ہوا کہ فارم کی فائل سرخ فیتے میں کہیں گرفتار پڑی ہے جبکہ اسے جمع کروانے کی مدت میں صرف دو دن بچے ہیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ اس فارم کو پیرس جانا تھا لیکن ابھی تک وہ فارم میئرکے دفتر سے نکل کر کمشنر تک نہیں پہنچا۔ میں نے مجتبیٰ پراچہ کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہو چکے ہیں۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ اب کمشنر سے بڑے عہدے پر ہیں تو کمشنر کو فون کر کے کہیں کہ وہ فارم پر دستخط کر دیں۔ مجتبیٰ پراچہ نے کسی طرح دستخط کروا دیے اور ہم وقت سے پہلے فارم بھیجنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

اعزاز ملنے کے اعلان کو ایک سال سے زائد کا عرصہ کیوں لگا؟

ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے خیال میں ’ہمارے معاشرے میں کسی کو اس بات کے لیے آمادہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ روشن خیالی، تخلیقی ذہن اور لفظ کی حرمت کے لیے بھی کوئی انعام ہوتا ہے۔ یہ تقریب گذشتہ تین چار ماہ سے ملتوی ہو رہی تھی۔‘

اس حوالے سے موجودہ کمشنر لاہور ذوالفقار گھمن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جب یہ اعزاز ہمیں ملا تو اس کے چند ماہ بعد ہی پورا ملک کرونا کے سبب بند ہو گیا اور ہر طرح کی سرگرمیوں پر پابندی لگ گئیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب کمشنر آفس کے ہی چند ذرائع کا کہنا ہے کہ جب اس اعزاز کے لیے فارم بھیجے جا رہے تھے اس وقت سے لے کر اب تک تین کمشنر تبدیل ہو چکے ہیں۔

’ہمارے ہاں سرکاری دفاتر میں آئے دن افسر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مجتبیٰ پراچہ جنہوں نے یہ قدم اٹھایا تھا وہ تو فارم جمع ہونے سے پہلے ہی تبدیل ہو گئے تھے۔ میئر کوئی ہے نہیں۔ اگر سیاسی تعاون ملے تو ایسے کئی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں مشکلات اور تاخیر کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔‘

اعزاز کی خوشی میں ہونے والی تقریب میں کون کون تھا؟

اردو شاعری کے استاد قاسم جعفری جو اس کمیٹی میں شامل تھے اور انہوں نے فارم بھرنے کے لیے مدد کی، نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ جانتا تھا کہ ہماری عرضی قبول ہو گئی ہے اور اعزاز بھی مل گیا ہے لیکن اس  کا اعلان دیر سے کیوں ہوا اس کی وجہ شاید کرونا ہو سکتا ہے اور شاید حکومت کو بھی کوئی اس میں اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ اور تو اور ابھی جو اعلان کی تقریب ہوئی اس کی تو دعوت بھی ہمیں نہیں دی گئی۔ جو مرکزی لوگ تھے ان میں سے کوئی بھی اس تقریب میں شریک نہیں تھا۔ الحمرا میں ہونے والی اس تقریب میں صرف سرکاری افسران ہی موجود تھے لیکن مجھے اس سے تکلیف نہیں ہوئی یہ سوچ کر کہ چلیں کچھ تو اچھا ہوا۔‘

ڈاکٹر عارفہ سیدہ نے بھی تقریب میں بلائے جانے کے حوالے سے بتایا کہ ’مجھے الحمرا بورڈ کی چئیر پرسن منیزہ ہاشمی نے کال کی کہ میں نے آنا ہے اور دو لفظ کہنے ہیں۔ میں اس تقریب میں فیض کی محبت میں جاتی، ساغر صدیقی کے لیے جاتی یا خواتین جو شعر لکھ رہی ہیں یا کچھ مصنف جو افسانے لکھ رہے ہیں ان کی محبت میں جاتی لیکن میرا وہاں جانے کا جی نہیں چاہا۔‘

ڈاکٹر عارفہ نے انہیں اس تقریب میں بلائے جانے کی کہانی کچھ یوں بیان کی: ’گذشتہ ہفتے کی بات ہے کہ ایک سرکاری نمبر سے مجھے کال آئی مجھے معلوم ہوا کہ فون اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر سے آیا ہے۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ مجھ سے ملاقات کب ہو سکتی ہے اور یا میں کمشنر آفس آ سکتی ہوں، میں نے کہا نہیں میں نہیں آسکتی کیونکہ میں آن لائن کلاسسز پڑھاتی ہوں لیکن اگر کمشنر صاحب آنا چاہتے ہیں تو وہ میرے غریب خانے پر آ جائیں۔‘

’ایک دن کے بعد کا وقت طے ہوا لیکن پھر کوئی فون نہیں آیا نہ وہ خود آئے۔ اس کے بعد پھر کہا آئیں گے لیکن نہیں آئے۔ اس کے بعد تقریب سے ایک روز پہلے شام کے وقت وہ مجھ سے ملنے آئے لیکن بدھ جس دن تقریب تھی میرا وہ دن ویسے ہی مصروف گزرتا ہے اس لیے میں نے معذرت کر لی۔‘

دوسری جانب کمشنر لاہور کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس تقریب میں سب لوگ آئے تھے اور یہ اعزاز کمیٹی میں شامل کسی ایک فرد کی وجہ سے نہیں ملا بلکہ اس میں بہت سے ادارے، پبلشنگ ہاؤس، لائبریریاں اور آرکائیوو ڈیپارٹمنٹ بھی شامل ہے اور یہ سب لوگ تقریب میں موجود تھے۔

کیا لاہور واقعی میں شہر ادب ہے؟

ڈاکٹرعارفہ سیدہ زاہرہ کہتی ہیں کہ ’اس شہر کی ادبی تاریخ اچھی ہے۔ میں اس شہر کو اس لیے بھی ایک ادیب اور شاعر کا شہر سمجھتی ہوں کہ یہاں ساغر صدیقی تھے، احمد ندیم قاسمی تھے، فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو تھے۔ اس کے علاوہ فلموں کی کہانیاں لکھنے والے، موسیقی لکھنے والے اور بہت سے بڑے نام۔ ادب کو صرف افسانہ اور غزل نہیں سمجھنا چاہیے۔‘

قاسم جعفری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’اس وقت جتنے ادبی میلے ہو رہے ہیں، فیض میلہ ہوتا ہے اس کے علاوہ بڑے بڑے شاعر اور ادیب جیسے اقبال، فیض، صوفی تبسم، حفیظ جالندھری، منٹو، اشفاق احمد ایک لمبی فہرست ہے۔ اتنے بڑے نام باقی شہروں میں کم ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور سے جتنے ادبی جریدے نکلتے رہے اور نکل رہے ہیں ایسا اور شہروں میں نہیں ہے۔ کراچی دوسرے مسائل جس میں لا اینڈ آرڈر بھی شامل ہے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔‘

ان کے خیال میں یہ اعزاز ہمارے پاس رہنے کی امید بہت قوی ہے کیونکہ لاہور کا ادب ہمارے پاس سے کہیں جانے والا نہیں ہے۔

اس اعزاز کو اپنے پاس رکھنے کے لیے ہمیں کرنا کیا ہوگا؟

یونیسکو کریئٹیو سٹی مقابلے کا سلسلہ 2004 میں شروع ہوا تھا۔ اس میں سات کیٹیگریز ہوتی ہیں جن میں یونیسکو دنیا بھر کے کسی بھی شہر کو تخلیقی شہر کا درجہ دیتا ہے۔

ان میں کرافٹس، فولک آرٹس، ڈیزائن، فلم، گیسٹرونمی، میڈیا آرٹس، میوزک اور ادب شامل ہے۔ یہ مقابلہ ہر چار سال کے بعد ہوتا ہے اور جیتنے والے شہر کو اعزاز چار برس کے لیے ملتا ہے۔ اگر شہر اس اعزاز کو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھنا چاہے تو ان تمام معاہدوں کو پورا کرنا پڑتا ہے جن کا عظم انہوں نے اپنے ایپلی کیشن فارم میں کیا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شہر اعزاز ملنے کے بعد آرام سے نہ بیٹھ جائے بلکہ وہ اپنی ثقافتی روایات کو جاری رکھے۔

یونیسکو کی نیشنل پراجیکٹ مینیجر آمنہ علی نے بتایا کہ یہ اعزاز چار سال کے بعد بھی ہمارے پاس رہ سکتا ہے اگر ہم یونیسکو سے کیے گئے عزائم پر عمل کریں جن میں 'لاہور شہرِ ادب' کا تختہ لاہور میں فن، ثقافت اور ادب کے لیے مختص بنیادی ثقافتی مقامات، کالجوں، یونیورسٹیوں، کتب خانوں وغیرہ پر لگایا جائے گا۔

’مختلف تاریخی مقامات جیسے کہ لاہور قلعہ، شالیمار گارڈن، جہانگیر کا مقبرہ اور دیگر مقامات پر ادبی سرگرمیاں چلائی جائیں گی۔‘

آمنہ علی کے مطابق ’پرانے اردو بازار کو کتاب کے چاہنے والوں کے لیے ایک متحرک، ثقافتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ادب