’آپ چھوٹے ہیں‘: پولیس اہلکار کی نصیحت پر ڈاکو نے ہتھیار ڈال دیے

ایک دکان میں ڈاکا ڈالنے کے بعد مسلح نوجوان ایک بینچ پر اپنا پستول اپنی کنپٹی سے لگائے بیٹھ گیا تو پولیس اہلکار نے تشدد کا سہارا لیے بغیر اسے ہتھیار ڈالنے پر راضی کر لیا۔

مشتبہ مسلح  نوجوان  ایک بینچ پر بیٹھا تھا جہاں پولیس افسر نے اسے ہتھیار ڈالنے پر قائل کر لیا (سکرین گریب)

امریکی ریاست اوہائیو میں ایک پولیس اہلکار کو ایک نوجوان ڈاکو کے مقابلے میں ضبط کا مظاہرہ کرنے اور اسے ہتھیار ڈالنے پر راضی کرنے پر ہیرو کا درجہ دیا جا رہا ہے، باوجود اس کے کہ اس نوجوان نے خود کو گولی مارنے کی دھمکی دی تھی۔

راشان ہارپر نامی یہ 20 سالہ نوجوان جیکسن ٹاؤن شپ کے علاقے میں ہونے والی ایک ڈکیتی میں ملوث تھا، جسے گرفتار کرنے کے بعد ان پر خفیہ ہتھیار رکھنے اور دھمکی آمیز رویے سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمہ قدرج کر لیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے ہارپر سے تشدد کا سہارا لیے بغیر بات چیت شروع کر دی۔ اہلکار نے انہیں ہتھیار ڈالنے پر راضی کرنے کے لیے ان سے بات کی۔ ہارپر اس پستول سے ایک عینی شاہد پر فائر بھی کر چکے تھے۔

پولیس کے بیان کے مطابق یہ ڈرامائی واقعہ اس وقت پیش آیا حب پولیس کو جیکسن ٹاؤن شپ کے علاقے میں واقع ایک جنرل سٹور پر ڈکیتی کی اطلاع ملی۔

ایک 51 سالہ عینی شاہد خاتون نے اس فرار ہوتے ہوئے ڈکیت کا پیچھا کیا اور پولیس کو اس کے موجود ہونے کی جگہ کا بتایا۔

ایک موقعے پر ہارپر کو اس تعاقب کا علم ہو گیا اور انہوں نے مذکورہ خاتون پر فائر کھول دیا جو ان کی گاڑی کی سائیڈ پر لگا۔

51 سالہ عینی شاہد نے نیوز فائیو کلیولینڈ کو بتایا: ’وہ مجھ پر فائر کر رہا تھا، ان کے پاس پستول تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس کے بیان کے مطابق اس حرکت کے بعد ہارپر اپنی گاڑی سے فرار ہو کر ایک گالف کورس میں جا گھسے، جہاں انہیں ایک بینچ پر اپنا پستول اپنی کنپٹی سے لگائے بیٹھے دیکھا گیا۔

پولیس اہلکار نے طاقت کے استعمال کی بجائے ہارپر سے بات چیت کی کوشش شروع کر دی۔

پولیس اہلکار نے ہارپر سے کہا: ’ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کو تکلیف نہیں دیں گے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔ اسے پھینک دیں۔‘

جس پر مشتبہ نوجوان نے پولیس اہلکار کو بتایا کہ انہیں دماغی مسائل کا سامنا ہے اور وہ اس کی دوا لینا چھوڑ چکے ہیں۔

 پولیس اہلکار اس نوجوان سے مذاکرات کی کوشش کرتا رہا اور اپنا پستول پھینک دینے کی شرط پر اسے ماہر معالج سے مدد لینے کی پیشکش کی۔

اہلکار نے ہارپر سے کہا:  ’آپ اپنا پستول پھینک دیں، میں اپنا پستول پھینک دوں گا اور میں پاس آ کر آپ سے بات کروں گا۔ میرا وعدہ ہے ہم آپ کی مدد کریں گے، یہ طریقہ درست نہیں ہے۔‘

جب یہ مکالمہ جاری تھا تو ہارپر نے پولیس اہلکار کو اپنی عمر بتائی۔

اہلکار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ہارپر سے کہا: ’میری بات سنیں دوست، آپ کو مجھ سے بات کرنی ہوگی۔ آپ صرف 20 سال کے ہیں، آپ ابھی بہت چھوٹے ہیں۔ ہم یہ نہیں کرنا چاہتے، اپنا پستول پھینک دیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ بات بگڑے، آپ بھی ایسا نہیں چاہتے۔ آپ صرف 20 سال کے ہیں۔‘

ہارپر نے اپنا پستول پھینک دیا جس کے بعد پولیس اہلکار نے انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے یہ ڈکیتی کیوں کی ہے؟ اطلاعات کے مطابق 20 سالہ ہارپر نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’غلط فیصلے‘ کیے ہیں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر طاقت کے استعمال ہر شدید تنقید کی جاتی ہے، جن میں پولیس کے ہاتھوں قتل کے کئی مشہور واقعات شامل ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ