’پاکستان کا فخر‘: اے سی سی اے ٹاپر زارا نعیم سے ملیے

پاکستانی طالبہ زارا نعیم نے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس کے گلوبل پروفیشنل اکاؤنٹنسی کے امتحان میں ٹاپ کرکے ورلڈ ریکارڈ بنایا ہے۔

ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کے گلوبل پروفیشنل اکاؤنٹنسی کے امتحان میں ٹاپ کرکے ورلڈ ریکارڈ بنانے والی پاکستانی طالبہ زارا نعیم اپنی ذاتی کنسلٹنسی فرم قائم کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والی زارا نعیم ڈار نے دسمبر 2020 میں منعقد ہونے والے اے سی سی اے کے فنانشل رپورٹنگ کے امتحانات میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے جس کا اعلان اے سی سی  اے کی جانب سے کیا گیا ہے۔اس امتحان میں تقریباً 179 ممالک کے پانچ لاکھ 27 ہزار سے زائد طلبہ نے حصہ لیا تھا۔

اکاؤنٹنسی کے شعبے میں اے سی سی اے کی کوالیفکیشن کو عالمی معیار تصور کیا جاتا ہے اور دنیا کے 179 ممالک میں اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ زارا کے مطابق اس امتحان کو پاس کرنے کے بعد دنیا بھر میں لوگوں کے لیے انتہائی پر وقار اور تسلی بخش کیریئر کے مواقعوں کے لیے دروازے کھلتے ہیں۔

زارا نے انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ان کے والد نے ان کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی، جس کے نتیجے میں وہ تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے اپنے خواب پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زارا  اے سی سی اے کی رکن بننے کے بعد خود اپنی کنسلٹنسی فرم قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ عالمی سطح پر تسلیم کی جانے والی قابلیت اور  اے سی سی اے کی جانب سے ارکان کو پیش کی جانے والی رکنیت اور تعلقات کے باعث ان کی فرم اس قابل ہو گی کہ بین الاقوامی کلائنٹس حاصل کر سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ’اے سی سی اے قابلیت، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد کے ساتھ اس ہنر اور قابلیت کی سختی سے جانچ کرتی ہے جن کی آج کے دور میں ضرورت ہے۔‘

’یہ طلبہ کو ایک قابل اور اخلاقی مالیاتی پیشہ ور کی حیثیت سے ایک فائدہ مند کیریئر کے لیے تیار کرتا ہے۔‘

زارا کو حکومت پاکستان کی جانب سے بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے انہیں ’پاکستان کا فخر‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ’پاوری گرل‘ دنانیر مبین کی ویڈیو وائرل ہونے کے معاملے پر بھی سوشل میڈیا پر زارا نعیم کے کارنامے کو زیادہ اہمیت دینے پر بحث جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل