’بھارت ویزے دے ورنہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ منتقل کرنے کا کہیں گے‘

پاکستان نے آئی سی سی پر واضح کر دیا ہے کہ اپنی ٹیم کے علاوہ شائقین، صحافیوں اور پی سی بی حکام کے لیے بھارتی ویزوں کی ضمانت چاہتا ہے۔

ہماری حکومت نے ہمیں کبھی بھی بھارت میں کھیلنے سے منع نہیں کیا: احسان مانی (اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے اگر نئی دہلی نے آئندہ ماہ تک پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزوں اور حفاظتی انتظامات کے بارے میں یقین دہانی نہ کرائی تو وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

احسان مانی نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو ایک انٹریو میں بتایا: ’ہماری حکومت نے ہمیں کبھی بھی بھارت میں کھیلنے سے منع نہیں کیا۔ ہم نے آئی سی سی سے اتفاق کیا ہے کہ ہم اس (بھارت میں ہونے والے میگا ایونٹ) میں حصہ لینے جا رہے ہیں اور ہم اس کی مخالفت نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’آئی سی سی کی سطح پر میں نے واضح کر دیا ہے کہ ہمیں بھارتی حکومت کی جانب سے نہ صرف اپنے سکواڈ کے ویزوں کے لیے تحریری یقین دہانی چاہیے بلکہ ہم پاکستانی شائقین، صحافیوں اور بورڈ کے عہدے داروں کے لیے بھی ویزوں کی ضمانت چاہتے ہیں۔‘

آسٹریلیا کو گذشتہ سال ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی کرنا تھی لیکن کووڈ 19 کے باعث اسے ملتوی کرنا پڑا۔ نئے شیڈول کے مطابق اب بھارت 2021 ایڈیشن کی میزبانی کر رہا ہے اور اگلے سال آسٹریلیا ٹورنامنٹ کا انعقاد کرے گا۔

مانی نے کہا کہ آئی سی سی نے ابتدائی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو بتایا تھا کہ وہ دسمبر تک بھارت سے ویزا کلیئرنس حاصل کر لے گا۔

’آئی سی سی نے بھی اس معاملے میں سستی کا مظاہرہ کیا کیونکہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ (ویزوں کا معاملہ) 31 دسمبر، 2020 تک حل ہو جائے گا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔‘

تقریباً دو ماہ گزرنے کے بعد احسان مانی نے دو بار یہ معاملہ آئی سی سی کے سامنے اٹھایا اور بتایا کہ انہیں مارچ کے آخر تک حتمی فیصلے سے آگاہ کیا جائے بصورت دیگر وہ اس ایونٹ کو متحدہ عرب امارات منتقل کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی سی بی چیئرمین نے مزید بتایا: ’یہ پہلے ہی طے ہوچکا تھا کہ اگر بھارت ایونٹ کا انعقاد نہیں کرسکا تو اسے متحدہ عرب امارات منتقل کردیا جائے گا۔ قانونی اور آئینی طور پر ٹورنامنٹ میں حصہ لینا ہمارا حق ہے اور کوئی بھی ہمیں ٹورنامنٹ سے بے دخل نہیں کر سکتا۔‘

مانی نے کہا کہ ذاتی سطح پر انہیں بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر ایس گنگولی سے کوئی اختلاف نہیں۔ ’اگر وہ (گنگولی) بھارت میں ٹورنامنٹ کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اس میں بھی کوئی پریشانی نہیں۔

’اگر وہ ہر سٹیک ہولڈر کو راضی کر سکیں تو ہی یہ ممکن ہو سکے گا۔ لیکن آئی سی سی کے پاس بیک اپ منصوبہ بھی ہے کہ اگر وہ (بھارت) اس کا انعقاد نہ کر سکے تو یہ ایونٹ متبادل مقام پر منعقد ہوگا۔‘

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات نے کرکٹ کو متاثر کیا ہے اور 2007 سے لے کر آج تک ان روایتی حریفوں کے درمیان باہمی سیریز نہیں ہوئی۔ تاہم آئی سی سی ٹورنامنٹس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ضرور سامنا کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ