پاکستان سپر لیگ کے بازی گر کون کون؟

پی ایس ایل میں شامل ٹیموں پر نظر ڈالی جائے تو چند ایسے کھلاڑی نظر آتے ہیں جنہیں ’بازی گر‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ وہ جب اپنے شباب پر آجائیں تو طوفانوں کا روپ اختیار کر لیتے ہیں۔

(تصاویر: پاکستان سپر لیگ/ پشاور زلمی)

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے ایڈیشن میں ہر ٹیم بھرپور تیاریوں کے ساتھ شریک ہو رہی ہے۔ کرکٹ اگرچہ ٹیم ورک کھیل ہے اور پوری ٹیم مل کر ہی ایک جیت کو ممکن بناتی ہے لیکن مختصر دورانیے کی کرکٹ ٹی ٹوئنٹی میں کبھی کبھی کسی ایک کھلاڑی کی ذاتی کارکردگی پوری ٹیم کا نتیجہ بدل دیتی ہے اور حریف کے دانت کھٹے کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

پی ایس ایل میں شامل ٹیموں پر نظر ڈالی جائے تو چند ایسے کھلاڑی نظر آتے ہیں، جنہیں ’بازی گر‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ وہ جب اپنے شباب پر آجائیں تو طوفانوں کا روپ اختیار کر لیتے ہیں۔

پشاور زلمی کے کامران اکمل

کامران اکمل اس لیگ کے سب سے زیادہ کامیاب بلے باز ہیں۔ ان کے کھاتے میں سب سے زیادہ رنز کے ساتھ تین سنچریاں بھی ہیں۔ کامران اکمل قدرتی طور پر سکوائر آف دی وکٹ کِٹ کھیلنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں، ان کی کلائیاں صحیح وقت پر کھلتی ہیں، ہلکا سا بلے کو حرکت دیتی ہیں اور چشم زدن میں گیند کو باؤنڈری کا راستہ دکھا دیتی ہیں۔

بے خوف بیٹنگ ان کا وہ ہتھیار ہے جس سے مخالف خوفزدہ رہتے ہیں، البتہ شاٹ سلیکشن میں وہ کبھی کبھی غلطی کر جاتے ہیں۔ اس سال بھی وہ کافی حد تک زلمی کی امیدوں کا محور رہیں گے۔

کراچی کنگز کے بابر اعظم

بابر اعظم دور حاضر کے کامیاب ترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ ہر گیند کو میرٹ پر کھیلتے ہیں اور وکٹ پر جلدی سیٹ ہو جاتے ہیں۔

ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ دوسرے جارحانہ بلے بازوں کی طرح اندھا دھند نہیں کھیلتے بلکہ اننگز بناتے ہیں اور شاٹ کو فیلڈرز کے درمیان خالی جگہ میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بابر اعظم کی خاص بات گیند کی لینتھ کو بہت جلدی پڑھ لینا ہے۔ ان کی گذشتہ سال کے فائنل کی اننگز نے کراچی کو جس طرح چیمپیئن بنایا تھا اس پر دنیا بھر سے داد و تحسین ملی تھی۔

اس سال بھی کراچی کنگز کی آنکھیں ان ہی پر ہوں گی۔

لاہور قلندرز کے بین ڈنک

منہ میں چیونگ گم اور چہرے پر سکون سجائے بین ڈنک ایک ایسے بلے باز ہیں کہ اگر قسمت ساتھ دے رہی ہو تو ان کو روکنا ناممکن ہے۔ گذشتہ سال کئی میچوں میں لاہور کی جیت کے وہی آرکیٹکٹ تھے، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پر جس طرح چھکوں کی برسات کی تھی، اس نے انہیں خطرناک ترین بلے باز بنادیا ہے۔

فلک شگاف چھکے لگانے کے بعد جس طرح وہ سادگی سے چلتے ہیں، اس نے شائقین کے دل موہ لیے ہیں۔ چیونگ گم سے غبارے پھلاتے ہوئے بین ڈنک اس سال بھی شائقین کی نظروں کے مرکز ہوں گے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے شاداب خان

اسلام آباد کی ٹیم میں اگرچہ کولن منرو، فہیم اشرف اور حسن علی وننگ پلیئرز ہیں لیکن شاداب خان حقیقی معنوں میں بازی گر ہیں۔ گذشتہ ایڈیشن میں وہ ٹاپ آرڈر بلے باز کے روپ میں سامنے  آئے اور جس طرح ہر میچ میں سکور کرتے رہے اس سال بھی وہ یونائیٹڈ کی جان ہوں گے، ان کی بازی گری تو بولنگ میں بھی نظر آئے گی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اعظم خان

مختصر عرصے میں اعظم خان کوئٹہ کے سب سے خطرناک بلے باز بن گئے ہیں۔ ٹیم میں اگرچہ کرس گیل بھی ہیں لیکن ان کی موجودگی ابھی تک گوں مگوں کی کیفیت میں ہے۔ ویسے بھی وہ پی ایس ایل میں ’ناکام‘ ہی رہے ہیں۔

اعظم خان نوجوان اور پرجوش ہیں اور ان کی بے خوف بیٹنگ کوئٹہ کے لیے بازی گر بن سکتی ہے۔

ملتان سلطانز کے محمد رضوان

ملتان سلطانز کی ٹیم میں کئی بڑے نام شامل ہیں لیکن بازی گر اس ٹیم کے محمد رضوان ہی ہوں گے، جن کی حالیہ زبردست فارم نے راتوں رات انہیں پاکستان کا ’دھونی‘ بنا دیا ہے۔ وہ ابھی تک دھونی جیسی اننگز تو نہیں کھیل پائے لیکن جس حساب سے بازیاں پلٹ رہے ہیں وہ دھونی سے بھی آگے جا سکتے ہیں۔

محمد رضوان کی قسمت کا ستارہ مزید اور چمکا تو بازی گری کا یہ کمال ملتان کو پہلی دفعہ سلطانز بھی بنا سکتا ہے۔

پی ایس ایل میں کئی اور بہت زبردست کھلاڑی ہیں جو کھیل کا رخ لمحوں میں بدل سکتے ہیں۔ ہاری ہوئی بازی جیت میں بدل دیتے ہیں لیکن بازی گروں کے اس مجموعے میں ان مذکورہ بالا کھلاڑیوں کا نہ جواب ہے اور نہ ثانی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ