عورت مارچ سے قبل ٹوئٹر پر مارچ

عورت آزادی مارچ 2021 کے نام سے ٹرینڈ میں اسلام میں عورت کے کردار کے بارے میں متضاد رائے دی جا رہی ہے۔

عورت آزادی مارچ کا اس سال کا نیا پوسٹر جس میں جبری گمشدگیوں سے پریشان بلوچستان کی خواتین کو پروفائل کیا گیا ہے  (عورت مارچ سوشل میڈیا)

پاکستان میں عموما آٹھ مارچ کی تیاریاں تو ہر سال کی طرح ان دنوں میں شروع ہو جاتی ہیں لیکن دو ہفتوں کی دوری کے باوجود اس خواتین کے اس متنازع احتجاج نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر سر اٹھایا ہے۔

عورت آزادی مارچ 2021 کے نام سے ٹرینڈ میں اسلام میں عورت کے کردار کے بارے میں متضاد رائے دی جا رہی ہے۔ آٹھ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں عورت مارچ ملتان نے مختاراں مائی نے ایک ویڈیو میں بتایا کہ وہ کیوں ہر مارچ میں شرکت یقینی بناتی ہیں۔ ’میں ہر مارچ میں شرکت چاہے ملتان، کراچی یا اسلام آباد ہو کرتے ہوں تاکہ دیہی علاقوں کی نمائندگی کرسکوں۔‘

عورت مارچ کے منتظمین کی جانب سے اس سال کے مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں شاید تحریک متحرک کرنے کے لیے ایونٹ سے چند روز پہلے پیغامات جاری کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی حوالے سے ’عورت مارچ 2021‘ کا منشور اور پوسٹرز بھی جاری کیے گئے ہیں۔

پیغامات کے سلسلے میں رباب زہرا کا مارچ سے متعلق ایک وضاحتی ویڈیو بھی جاری کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو کا عنوان ہے ’عورت مارچ سے متعلق کچھ جھوٹ اور سچ۔‘

اس سال عورت مارچ کے منتظمین نے عورتوں کی صحت کے مسائل کو اجاگر کرنے کا خیال منتخب کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پورسٹر بھی جاری کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر کی ایک صارف وردا نے ٹرنیڈ میں حصہ لیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے 2019 کے مارچ میں شرکت کی تھی اور واپسی پر لیہ کے علاقے میں سرگرمیاں شروع کیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ دو سال بعد وہ علاقے میں خواتین کے لیے کمیونٹی سینٹر بنانے میں کامیاب ہوئیں ہیں۔

عورت مارچ کے مخالفین بھی اس ٹرینڈ میں حصہ لے کر اپنی رائے دے رہے ہیں۔ ایک صارف عبداللہ ارشاد نے کہا کہ عورتوں کو عورت مارچ کی بجائے اپنی اولاد پر توجہ دینی چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ