خاص لوگوں نے عام لوگوں کے ساتھ کھانا کھایا

ڈھائی سالہ اقتدار میں وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان ایک نشست نہیں ہو سکی اور دوسری جانب بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ تصوف کا علم بھی خود ہی تھام رکھا ہے۔

(فواد چوہدری ٹوئٹر)

عمران خان کے ’دو نہیں ایک پاکستان‘ میں ایک وفاقی وزیر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک حیران کن تصویر شیئر کی گئی ہے کہ یہ چند رجالِ کار ہیں جو عام لوگوں میں کھانا کھا رہے ہیں۔

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کریں 

 

سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک ایسا انقلاب ہے کہ مورخ لکھے گا کہ شیر اور بکری تو ایک گھاٹ سے پانی پیتے ہی تھے۔ یہ ایسا با برکت دور تھا کہ معلوم انسانی تاریخ میں پہلی بار چشم فلک نے خاص لوگوں کو عام لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتے دیکھا۔ مورخ اگر بغض کا شکار نہ ہو گیا تو دادو تحسین بھی بلند کرے گا کہ پہلی بار صاحب پہلی بار، واہ صاحب واہ۔

تصویر کو غور سے دیکھا، کہیں ’عام لوگ‘ نظر نہ آئے۔ سامنے والا ہال بھی بالکل سنسان دکھائی دے رہا تھا۔ جب ’عام‘ لوگوں کی تلاش میں مکمل ناکامی ہوئی تو بے تاب نگاہیں ’خاص‘ لوگوں کی طرف اٹھیں کہ ان میں ایسی کیا انفرادیت ہے جس نے اتنا خاص بنا رکھا ہے۔

کسی کے کندھے پر سرخاب کا کوئی پر نہیں تھا۔ سر پہ کہیں بال تھے اور کہیں کہیں ’فارغ البالی‘ تھی لیکن یہ تو ہر آدمی کے سر کی کہانی ہے۔ کچھ سینگ دکھائی دیتے تو شاید کچھ ’خاص‘ کا تاثر قائم ہو جاتا لیکن ایسا کچھ دکھائی نہ دیا۔ کھانا بھی منہ کے ذریعے ہی کھایا جا رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس فریضے کی ادائیگی کے لیے جسم کے کسی اور حصے کو زحمت دی جاتی۔ نوالے بھی ہاتھ سے توڑے جا رہے تھے ایسا نہ تھا کہ حکم ملتا اور لقمہ خود چل کر منہ تک پہنچ جاتا۔ نشست کا انداز بھی وہی عام لوگوں جیسا تھا۔ سر کے بل کوئی کوئی بھی نہیں کھڑا تھا۔ سبھی تشریف فرما تھا۔ نہ ہرنی جیسی چال تھی نہ ہاتھی جیسی دم۔ جو کچھ بھی تھا، انسانوں جیسا تھا۔ عام انسانوں جیسا۔

پھر ان حضرات میں ’خاص‘ کیا ہے جو انہیں ’عام‘ لوگوں سے اتنا الگ، اتنا جدا اور اتنا برتر کر دیتا ہے کہ یہ گاہے تفنن طبع کے لیے سڑک کنارے کسی ہوٹل پر کھانا کھانے رک جائیں تو یہ بھی خبر بن جاتی ہے اور رعایا کو اہتمام سے بتایا جاتا ہے کہ دیکھو ہمارے صاحب ”عام لوگوں“ میں کھانا کھا رہے ہیں؟ آئین پاکستان کے مطابق تو تمام شہری برابر ہیں۔ کیا ہم دور جدید کے کسی اینیمل فارم میں رہ رہے ہیں جہاں کہنے کو تو تمام شہری برابر ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ کچھ زیادہ ہی برابر ہوتے ہیں۔

یہ اصل میں برصغیر کا سماجی المیہ ہے۔ راجوں مہاراجوں کی اس زمین نے ہمیشہ رعایا ہی پیدا کی ہے۔ وقت کے ساتھ رعایا کے حلیے بدل گئے اور ان کے نام ’شہری‘ کی تہمت دھری جانے لگی لیکن اس سراب سے مہاراجوں اور رعایا کے مزاج کی تہذیب نہیں ہو سکی۔ پرانے وقتوں میں بادشاہ شاہی محل کے جھروکوں سے رعایا کو دیدار کراتے تھے اور رعایا اس خوش نصیبی پر ناز کرتی تھی۔ اب صرف اتنا فرق پڑاہے کہ رعایا کو بتایا جاتا ہے شاہ معظم کے دربار کے نابغوں نے ایسی جگہوں پر کھانا کھایا جو ان کے شایان شان نہیں اور جہاں صرف تم جیسے حشرات الارض ہی کھا سکتے ہیں تو اس غریپ پروری پر بغلیں بجاؤ اور اہل دربار کے لیے کوئی غزل قصیدہ کرو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غلامی کا یہی احساس رعایا سے لپٹ جاتا ہے تو پھر یہ معاشرہ اپنی چھوٹی چھوٹی سماجی تقاریب میں بھی کسی ”وی آئی پی“ کو مہمان خصوصی بنا کر اپنی خوئے غلامی کی آبیاری کرتا ہے۔ حاکم وقت اور اس کے درباری جب کھلی کچہریاں لگاتے ہیں تو وہ بھی رعایا کی اسی نفسیات کی آسودگی کی کوشش ہوتی ہے۔ پرانے وقتوں میں حاکم بھیس بدل کر راتوں کو رعایا کا حال معلوم کرنے نکلتا تھا۔ جدید دور میں حاکم گاہے چند لمحوں کے لیے رعایا کو فون کال پر دستیاب ہو جاتا ہے، کبھی کھلی کچہری لگا دی جاتی ہے اور کبھی ”اچانک دورہ“ کر لیا جاتا ہے۔ ادارہ سازی اور ادارہ جاتی انتظام کسی کو مطلوب نہیں۔ رعایا کو ادارہ سازی کی نہیں، ایک سپر ہیرو قسم کے شاہ معظم کی محبت میراث میں آئی ہے۔

علمی وجاہت یا منصب کے ساتھ بلاشبہ حفظ مراتب کے تقاضے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ یہ فطرت انسانی ہے اور اس کی نفی ممکن نہیں لیکن یہاں معاملہ حفظ مراتب کا نہیں یہاں خرابی کچھ اور ہے۔ یہ وہ گرہ ہے جو کھلنے میں نہیں آ رہی۔ یہ نظام اس گرہ پر پہرہ دے رہا ہے۔ یہاں رعایا کی یہ اوقات نہیں کہ وہ پارلیمان کے کسی ایوان تک پہنچنے کا خواب دیکھے۔ صوبائی اسمبلی سے سینیٹ تک، شراکت اقتدار کی کوئی صورت رعایا کے لیے دستیاب نہیں۔ رعایا کے پاس یہی آپشن ہے کہ کسی ایک راجے یا مہاراجے کے حصے کا بے وقوف بن کر اس کے فضائل بیان کرتی پھرے اور اپنے اپنے شاہی خاندان کی غلامی میں آپس میں ایک دوسرے سے لڑتی مرتی رہے۔ صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسے بھاری پتھر اٹھانے کی اب ضرورت نہیں۔ ملک الشعراء جانتے ہیں کہ رعایا اسی بات سے خوش ہو جاتی ہے کہ ’خاص‘ لوگوں نے آج کرم کیا اور ’عام‘ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا۔

عمران خان کی سیاست کے ابتدائی دنوں کی اٹھان بھی یہی تھی کہ اس سماج کو ان نفسیاتی گرہوں سے آزاد کیا جائے۔ شوکت خانم ہسپتال عمران خان کے خوابوں کی تکمیل تھی۔ اس کا افتتاح جب کسی مبینہ وی آئی پی کی بجائے ایک عام انسان سے کرایا گیا تو بہت اچھا لگا۔ تبدیلی کو جانے کس کی بد دعا لگی ہے کہ اب تحریک انصاف کے وزرائے کرام کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ’عام‘ لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ ہم نے تہارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، اس رعایا پروری پر تم ہمارے مقروض ہو۔

زمین اور زمینی حقیقتوں سے کامل بے نیازی ہے۔ سوشل میڈیا پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں۔ خلق خدا کو بھلے ہر سہہ پہر پیاس بجھانے کو ایک کنواں دھودنا پڑے، کسی کو پرواہ نہیں۔ ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ چل جانا ہی اب کامیابی کا پیمانہ ہے۔

ہمارا سماج نیم خواندہ ہے۔ یہاں ٹھوس اور دور رس اقدامات کی بجائے لوگوں کی نفسیات سے کھیلا جاتا ہے اور ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ کبھی بحیلہ مذہب و وطن، کبھی بنام تبدیلی۔ ایک طرف مزاج میں تلخی کا یہ عالم ہے کہ حزب اختلاف سے مکالمہ گوارا نہیں اور ڈھائی سالہ اقتدار میں وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان ایک نشست نہیں ہو سکی اور دوسری جانب بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ تصوف کا علم بھی خود ہی تھام رکھا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ