’ویلنٹائنز ڈے کا تحفہ‘: شکاری خاتون نے زرافہ مار ڈالا

جنوبی افریقہ کی شکاری خاتون نے زرافہ مار کر اس کا دل پکڑے تصویر کھنچوائی تو سوشل میڈیا نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔

میریلیز وان ڈر مروا زرافے کو ہلاک کرنے کے بعد اس کا دل تھامے ہوئے (میریلیز وان ڈر مروا)

جنوبی افریقہ میں ایک فارم کی مالکن پر زرافے کو گولی مار کے ہلاک کرنے اور اس کا دل نکال کر اس کے ساتھ تصویر بنانے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

یہ واقعہ رواں ماہ کے آغاز پر ایک ٹرافی ہنٹنگ مہم کے دوران پیش آیا۔

32 سالہ میریلیز وان ڈر مروا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں انہیں خون میں لت پت دل کو پکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصاویر کے عنوان میں انہوں نے لکھا، ’کبھی سوچا ہے کہ زرافے کا دل کتنا بڑا ہوتا ہے؟ میں اپنے اس ویلنٹائنز کے بڑے تحفے پر بے انتہا خوش ہوں۔‘

ایک اور فیس بک پوسٹ میں میریلیز  نے لکھا کہ وہ سال 2016 سے ’ایک بڑے سیاہ نر‘ زرافے کا شکار کرنے کی منتظر تھیں۔ تصویر میں وہ ایک بڑے زرافے کے بے جان جسم کے ساتھ بندوق پکڑے کھڑی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’میں نے بے شمار جانور شکار کر رکھے ہیں لیکن میں ہر بار پرجوش ہوتی ہوں۔‘

اس مہم کا انتظام ان کے شوہر نے ان کے لیے بطور ویلنٹائنز ڈے کے تحفے کے کیا تھا جو جوہانسبرگ کے شمال مغرب میں سن سٹی کے قریب کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زرافے کے بارے میں بات کرتے ہوئے میریلیز کا کہنا تھا: ’مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، بڑا، سیاہ اور عمر رسیدہ، اتنا ضعیف کے اس کے مالک کو پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ مزید تین ماہ تک زندہ رہ پائے گا۔ میرے پیارے شوہر جانتے تھے کہ یہ میرا خواب تھا اور انہوں نے ایک رومانوی فائیو سٹار ویک اینڈ سے دور جاتے ہوئے اسے ممکن بنایا۔ میں ایک بچے کی طرح تھی جو ہر دن گن کر گزار رہی تھی۔‘

زرافہ بین الااقوامی یونین آف کنزرویشن آف نیچر کے تحت ’غیر محفوظ‘ جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس 17 سالہ زرافے کو ہلاک کرنے کے بعد میریلیز کا کہنا تھا کہ وہ ’جذبات کے غلبے کا شکار ہو گئیں کیونکہ میں اس موقعے کا کئی سال سے انتظار کر رہی تھی۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ اس جانور کو قتل کرنے کا مطلب تھا کہ ایک نیا نر جانور اس کی جگہ لے کر ’غول کو طاقتور جینز فراہم کر سکتا ہے۔‘

ان کے فیس بک پیج پر کیے جانے والے درجنوں تبصروں میں ان کی پوسٹ پر سخت تنقید کی گئی ہے۔

ایک صارف نے اپنے تبصرے میں لکھا، ’میں سخت حیران ہوں کہ آپ نے دنیا کے ایک عاجز، پیارے اور خوبصورت جانور سے کیا کیا ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘

پیپل فار دا ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف اینیملز (پیٹا) گروپ اس سے قبل میریلیز کی فیس بک پوسٹس کو ’شرمناک‘ قرار دے چکا ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ان کے اکاؤنٹ کو ہٹانے کی پیٹیشن بھی دائر کر چکا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ نے میریلیز سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات