سینیٹ اوپن بیلٹ ریفرنس پر رائے محفوظ، صدر کو بھیجی جائے گی

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل نے سپریم کورٹ سے 28 فروری سے پہلے رائے دینے کی استدعا کی، تاکہ سینیٹ انتخابات کے انعقاد کا عمل بروقت مکمل ہو سکے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل نے عدالت عظمیٰ سے 28 فروری سے پہلے رائے دینے کی استدعا کی، تاکہ سینیٹ انتخابات کے انعقاد کا عمل بروقت مکمل ہو سکے (تصویر:سینیٹ آف پاکستان آفیشل فیس بک پیج)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس میں اپنی رائے محفوظ کر لی، جو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھیجی جائے گی۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل نے عدالت عظمیٰ سے 28 فروری سے پہلے رائے دینے کی استدعا کی، تاکہ سینیٹ انتخابات کے انعقاد کا عمل بروقت مکمل ہو سکے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے 23 دسمبر 2020 کو سپریم کورٹ کی رائے حاصل کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں صدر مملکت نے اس سوال کا جواب طلب کیا تھا کہ آیا آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ رائے شماری کی شرط کا اطلاق سینیٹ انتخابات پر ہوتا ہے یا نہیں؟

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے جمعرات کو مذکورہ ریفرنس کی سماعت کی۔

جمعرات کو سماعت کے دوران پاکستان بار کونسل اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے دلائل پیش کیے۔

پاکستان بار کونسل کے وکیل منصور عثمان اعوان نے موقف اختیار کیا کہ ’انتخابات سے قبل بدعنوانی کے طریقوں کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں اور اگر حکومت کی دلیل کو قبول کرلیا گیا تو وہ آرٹیکل 218 (الیکشن کمیشن کے قیام سے متعلق) کو ’بیکار‘ قرار دے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کرپٹ طریقوں کے الزام کو ثبوت کے ذریعہ الگ کرنا ہوگا (اور) اسے بیلٹ پیپرز سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔‘

اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’مقصد بدعنوانی کو ختم کرنا ہے،‘ جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ’بیلٹ پیپرز خود ثبوت کی ایک قسم ہیں۔‘

جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید ریمارکس دیے کہ ’اگر رقم اور بیلٹ پیپر کے مابین تعلق ثابت ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔‘

بار کونسل کے وکیل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ’سینیٹ کے لیے انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتے ہیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ کسی مخصوص نشست کے لیے انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر آرٹیکل 51 کے تحت کیسے ہوسکتے ہیں جبکہ یہ شق قومی اسمبلی کے انتخابات سے متعلق ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’مخصوص نشستوں کا کوٹہ قومی اسمبلی میں پارٹیوں کی نمائندگی کے مطابق ہے۔‘

پاکستان بار کونسل کے وکیل نے جواب دیا کہ ’الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں سے مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی فہرستیں پہلے ہی حاصل کرلیتا ہے اور پھر ان امیدواروں کی متناسب نمائندگی کی بنیاد پر جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’سینیٹ انتخابات اوپن ووٹنگ کے ذریعے کروائے جاتے ہیں تو اس سے تمام انتخابات متاثر ہوں گے۔‘

منصور عثمان اعوان کے مطابق: ’آئین میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے کسی بھی انتخابات کے انعقاد کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہر ووٹ خفیہ ہو۔‘

متناسب نمائندگی کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بلوچستان اسمبلی کی مثال دی جس کے مجموعی طور پر 65 اراکین ہیں۔

’ہر انتخاب میں دس جماعتیں اور ایک آزاد امیدوار ہوتا ہے اور صرف تین جماعتوں کو اکثریت حاصل ہوتی ہے، تو دوسری جماعتوں کا کیا ہوگا؟ وہ متحد ہوسکتی ہیں اور صورتحال کو تبدیل کرسکتی ہیں۔‘

چیف جسٹس گلزار احمد نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ ’آئین کے آرٹیکل 226 سے متعلق عدالت کے سامنے صرف ایک سوال ہے کہ صدر نے ریفرنس میں سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ اور متناسب نمائندگی کے معاملات نہیں اٹھائے۔‘

انہوں نے مزید ریمارکس دیے: ’عدالت کو ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات تک ہی محدود رہنا ہے۔ ہم اپنی حدود سے باہر نہیں جائیں گے۔‘

اس موقع پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ ’انتخابات میں کرپشن کے خاتمے کے لیے آئین میں ترمیم کیوں نہیں کی جارہی، جبکہ اس سلسلے میں پارلیمان کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔‘

انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ’سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں بدعنوانی کے عمل کو قبول کر رہی ہیں،‘ اور وکیل سے دریافت کیا: ’آپ نے ویڈیو دیکھی ہے، کیا آپ اسے دہرانا چاہتے ہیں؟‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کرپشن کے خلاف محافظ ہے، لیکن بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے خفیہ معاہدوں کی صورت میں الیکشن کمیشن کچھ نہیں کر سکتا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’آئین 1973 میں بنا، اس کے بعد کئی حکومتیں آئیں لیکن کسی نے اس مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے حکومتیں بنانے کے باوجود کچھ نہیں کیا، پارلیمنٹ نے کچھ نہیں کیا اور اب تحریک انصاف حکومت اس غلطی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

دوران سماعت لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل خرم چغتائی نے کہا کہ ’وفاقی حکومت کے پاس عدالت کی رائے لینے کا اختیار نہیں ہے۔‘

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن سو رہا ہے اور جاگنے کو تیار نہیں ہے، الیکشن کمیشن کو نہ صرف انتخابات کروانے ہیں بلکہ انتخابی عمل میں بدعنوانی کو بھی ختم کرنا تھا۔‘

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت نے کئی بار پوچھا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔‘

اس کے ساتھ ہی سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ نے رائے محفوظ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عدالتی رائے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھیجی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان