سینیٹ اوپن بیلٹ کیس: ’سیاسی اتحاد خفیہ نہ رکھے جائیں‘

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے ووٹنگ خفیہ رکھنے کے حق میں دلائل دیے۔

سپریم کورٹ کی عمارت کا ایک منظر (فائل تصویر: اے ایف پی)

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سیاسی اتحاد خفیہ نہ رکھیں جائیں۔

دوسری جانب پانچ رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’انتحابی اتحاد کبھی خفیہ نہیں ہوتے، جہاں کسی انفردای شخص سے اتحاد ہو وہاں خفیہ رکھا جاتا ہے۔‘

جسٹس عمر بندیال نے مزید ریمارکس دیے کہ ’جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ پارٹی سسٹم مضبوط ہو، جب تک ہم عرصہ دراز سے جاری طریقہ کار میں تبدیلی نہیں لائیں گے، جمہوریت کی مضبوطی خواب رہے گی۔‘

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پیر کو پانچ رکنی لارجر بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی، جہاں سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے ووٹنگ خفیہ رکھنے کے حق میں ہی دلائل دیے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’کم از کم تحقیقات تو ہونی چاہییں کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی یا نہیں ہوئی؟ آج تک ہارس ٹریڈنگ پر کوئی سزا ملی نہ نااہلی ہوئی۔ بادی النظر میں ہارس ٹریڈنگ کے شواہد پر ووٹ دیکھا جانا چاہیے۔‘

رضا ربانی نے دلائل کے دوران کہا کہ ’قابل شناخت بیلٹ پیپرز آرٹیکل 226 کی خلاف ورزی ہوں گے۔ الیکشن کمیشن پر کوئی الزام نہیں لگانا چاہتا لیکن قابل شناخت بیلٹ پیپرز ڈیپ سٹیٹ کی پہنچ میں ہوگا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’قابل شناخت بیلٹ پیپر کی وجہ سے ایک نئی قسم کی بلیک میلنگ اور ہارس ٹریڈنگ شروع ہوجائے گی۔‘

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ’کیا تھیلوں میں بند بیلٹ پیپرز تک رسائی ہوتی ہے اور کیا بیلٹ پیپر پولنگ سٹیشن پر ہی سیل کیے جاتے ہیں؟‘

جس پر رضا ربانی نے جواب دیا کہ ’سیل کیے جانے کے باوجود ڈیپ سٹیٹ کی ان تک رسائی ہوتی ہے، یہ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ ڈیپ سٹیٹ کی رسائی اب ملک سے بھی باہر ہوگئی ہے۔ ڈیپ سٹیٹ اراکین سینیٹ اور اسمبلی کو بلیک میل کرے گی۔ اب تو انسان موجود نہ بھی ہوں تو اس کی بھی ویڈیو بن جاتی ہے۔ریاست تو اپنے 20 ریٹرننگ افسران کو تحفظ نہیں دے سکی۔‘

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’کسی کی بھی ویڈیو بنانا اتنا آسان کام نہیں ہے، جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے۔‘

جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید ریمارکس دیے کہ ’دنیا کی تاریخ اختلاف رائے کرنے والوں سے بھری پڑی ہے۔ اختلاف رائے کرنے والے نتائج کی پرواہ نہیں کرتے۔ ڈکٹیٹر کے خلاف بھی لوگوں نے کھل کر اختلاف رائے کیا ہے۔ آئین میں اختلاف رائے پر کوئی نااہلی نہیں ہوتی۔‘

رضا ربانی نے دلائل دیے کہ آرٹیکل 226 میں ترمیم کے بغیر اوپن بیلٹ نہیں ہو سکتا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’آرٹیکل 226 دوبارہ اسمبلی کے ایجنڈے پر آچکا ہے اور ایوان میں اس آرٹیکل میں ترمیم کا بل زیر التوا ہے جبکہ 1962 کے آئین میں بھی خفیہ ووٹنگ کی شق شامل تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رضا ربانی نے دلائل کے دوران مزید کہا کہ ’1973 کے آئین میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے علاوہ ہر الیکشن خفیہ نہیں تھا۔ 1985 میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے الیکشن بھی خفیہ ووٹنگ سے کرنے کی ترمیم ہوئی۔ 18ویں ترمیم میں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے ایکشن دوبارہ اوپن بیلٹ سے لیے گئے جبکہ وزیراعظم کا الیکشن اوپن بیلٹ سے کروانے کا مقصد پارٹی ڈسپلن تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کے الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہوتے ہیں۔ یہ عہدے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوتے ہیں اور سیاسی وابستگی سے بالاتر عہدے کے لیے ووٹنگ کا عمل خفیہ رکھا گیا۔‘

رضا ربانی کے مطابق: ’سینیٹ وفاقی اکائیوں کے تحفظ کے لیے ہے نہ کہ سیاسی جماعتوں کے تحفظ کے لیے۔ سینیٹ الیکشن میں پارٹی امیدوار کو ووٹ نہ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی۔ لازمی نہیں کہ صوبائی اسمبلی میں اکثریت لینے والی جماعت کی سینیٹ میں بھی اکثریت ہو۔‘

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ’جس کی چھ نشستیں بنتی ہوں اسے دو ملیں تو نتیجہ کیا ہو گا۔ کیا کم نشستیں ملنے پر متناسب نمائندگی کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟‘

اس سوال کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ ’سینیٹ الیکشن ریاضی کا سوال نہیں بلکہ سیاسی معاملہ ہے۔ ریاضی اور سینیٹ انتحابات کی جمع تفریق میں فرق ہے۔‘

رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کراچی میں جلد مردم شماری کے لیے فنڈز دے گی جبکہ ایم کیو ایم بدلے میں پی ٹی آئی کو سینیٹ میں ووٹ دے گی تو کیا عدالت اس کو کرپشن کہے گی؟‘

جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’ہم تمام حالات مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے۔‘

مزید دلائل کے لیے عدالت عطنمیٰ نے سماعت منگل (23 فروری) تک کے لیے ملتوی کر دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان