نوجوان لڑکیوں کے نام کھلا خط

تمہارے بھائی کو تو 12 سال کی عمر میں موبائل فون مل گیا تھا لیکن تمہیں 16 سال کی عمر میں بھی موبائل رکھنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ کیوں؟

(اے ایف پی)

پیاری لڑکی،

امید کرتی ہوں کہ تم خیریت سے ہو گی۔ تم سوچ رہی ہو گی کہ میں کون ہوں اور تمہیں یہ خط کیوں لکھ رہی ہوں۔ میں بھی تمہاری طرح اس معاشرے میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی۔ ہمارے درمیان واحد تعلق ہماری جنس کا ہے اور اسی کی مناسبت سے میں آج تمہیں یہ خط لکھ رہی ہوں۔

آج مارچ کی تین تاریخ ہے۔ چار دن بعد دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جائے گا۔ پاکستان میں اس دن کئی شہروں میں عورت مارچ ہو گا۔ اس مارچ کا مقصد لڑکیوں اور عورتوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے لیے برابر کے مواقع مانگنا ہے۔

لوگ اس مارچ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے عورتوں کو پہلے ہی بہت سے حقوق حاصل ہیں اور یہ مارچ نہ ان کے کسی کام آ رہا ہے اور نہ آئے گا۔ ہم ان باتوں کو دل پر نہیں لیتے۔ تم بھی نہ لینا۔ ہم ایک پدرشاہی معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ یہاں عورت کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو اسی طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔

یہ جو لڑکیاں اور عورتیں عورت مارچ میں نظر آتی ہیں، انہوں نے سالوں جبر برداشت کیا ہے۔۔۔ پدرشاہی کے ہاتھوں، مردوں کے بنائے ہوئے قوانین کے ہاتھوں، خاندانوں کی نام نہاد عزت کے ہاتھوں، سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں یا بس ایسے ہی کسی کی انا کے ہاتھوں۔

یہ اب تھک چکی ہیں۔ یہ اپنے لیے برابر کے مواقع چاہتی ہیں بالکل ویسے ہی جیسے اس معاشرے میں کسی بھی آدمی کو دستیاب ہیں۔ یہ خود کو ایک مکمل انسان سمجھتی ہیں، اتنا ہی مکمل جتنا خدا نے انہیں بنایا ہے۔ لیکن یہ معاشرہ انہیں مکمل انسان نہیں سمجھتا۔ یہ معاشرہ انہیں برابر کے حقوق نہیں دیتا۔ یہ معاشرہ مرد کو عورت سے برتر سمجھتا ہے اور اس برتری کو ثابت کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتا ہے۔

پیاری لڑکی، ان میں سے بہت سی عورتیں اپنی زندگیاں گزار چکی ہیں۔ ان میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کے اردگرد ایسے ساتھی اور ماحول موجود تھا جس نے انہیں کبھی آدھا محسوس نہیں ہونے دیا پر وہ جانتی ہیں کہ ہر عورت کو نہ تو ایسے ساتھی ملتے ہیں اور نہ ماحول۔ وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ اس ملک میں ایسی بہت سی لڑکیاں اور عورتیں ہیں جو چاہنے کے باوجود بھی اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتیں، یہ ان جیسی عورتوں کے لیے اپنے گھروں سے نکلتی ہیں اور مارچ کرتی ہیں تاکہ انہیں بتا سکیں کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔ اگر وہ اپنے لیے آواز نہیں اٹھا سکتیں تو کیا ہوا، یہ ان کے لیے اپنی آواز بلند کریں گی۔

پتہ نہیں تم اس مارچ کے بارے میں کیا نظریہ رکھتی ہو، پر یقین مانو جیسے جیسے تم اپنی زندگی میں آگے بڑھو گی تمہیں اس مارچ کی مزید سمجھ آتی رہے گی۔ تم اپنی زندگی میں اب تک بہت کچھ دیکھ چکی ہو گی اور آگے بھی دیکھو گی جس کے بعد تم خود سے سوال کرو گی کہ یہ نا انصافی تمہارے ساتھ ہی کیوں ہو رہی ہے۔

تمہارا بھائی رات دیر تک گھر سے باہر رہ سکتا ہے لیکن تمہیں دن میں بھی اپنی مرضی سے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیوں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تمہارے بھائی کو تو 12 سال کی عمر میں موبائل فون مل گیا تھا لیکن تمہیں 16 سال کی عمر میں بھی موبائل رکھنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ کیوں؟

لڑکیوں کو خاندان کی منشا سے زیادہ پڑھنے کے لیے اجازت کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟

تم اپنے بال اپنی مرضی کے مطابق کیوں نہیں کٹوا سکتیں؟

تم اپنی مرضی کا لباس کیوں نہیں پہن سکتیں؟

تم اپنی مرضی کے مضامین کیوں نہیں پڑھ سکتیں؟

تم اپنی زندگی کے فیصلے اپنی مرضی سے کیوں نہیں کر سکتیں؟

تمہاری زندگی پر ہمیشہ کسی نہ کسی کا اختیار کیوں رہتا ہے؟

پھر شاید تم بھی کبھی جھنجھلاؤ۔ خود سے یا گھر والوں سے سوال پوچھو۔ ان ناانصافیوں کے خلاف کھڑی ہو جاؤ یا انہیں اپنی قسمت سمجھ کر ان پر راضی ہو جاؤ۔  ہر انسان کی اپنی جنگ ہوتی ہے۔ کچھ حالات کو قبول کر لیتے ہیں، کچھ ان کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے لیے راستہ بنانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی راستہ بناتے ہیں۔ یہ عورتیں یہی کام کر رہی ہیں۔

ان عورتوں نے معاشرے کی طرف سے ہمارے لیے بنائی گئی بندشیں کئی بار توڑی ہیں۔ انہوں نے اس کی کسی نہ کسی شکل میں قیمت ادا کی ہے۔ کچھ نے بہت کم تو کچھ نے بہت زیادہ۔ شائد تم بھی ان جیسے حالات سے گزرو۔

اگرچہ ہم جب اپنے لیے راستہ بناتی ہیں تو اپنے پیچھے آنے والی لڑکیوں کے لیے بھی کہیں نہ کہیں کوئی آسانی پیدا کرتی ہیں۔ اس کے باوجود تمہارے راستے میں کئی مشکلات آئیں گی، کچھ وہی پرانی جو ان عورتوں کی زندگی میں بھی آئیں تو کچھ نئی۔

پر تم گھبرانا مت۔ آگے بڑھتی رہنا۔ تم تھکو گی، ٹوٹو گی، روؤں گی، پر دیکھو آگے بڑھتی رہنا۔ تم کچھ غلط نہیں کر رہی۔ تم اپنی مرضی سے اپنی زندگی جی رہی ہو۔ اپنی مرضی کرتی رہنا اور اپنے لیے اپنا راستہ بناتی رہنا اور ان سب کے لیے بھی جنہوں نے تمہارے بعد اس راستے سے گزرنا ہے۔

اس مشکل میں بظاہر تمہیں اپنا آپ اکیلا لگے گا، ہر تم اکیلی نہیں ہو۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ پس ہمت رکھو اور آگے بڑھتی رہو۔

منجانب،

تمہاری ہم جنس

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ