پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی گارڈز کی فائرنگ، اقوام متحدہ کی مذمت

اقوام متحدہ نے ایرانی صوبے سیستان بلوچستان میں پاسدران انقلاب کے محافظوں کی فائرنگ سے کم از کم 12 ہلاکتوں کی تحقیقات پر زور دیا ہے۔

پاکستان ایران سرحد پر پاکستانی سکیورٹی اہلکار نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی فائل فوٹو)

اقوام متحدہ نے ’پاکستان کی سرحد پر تیل لے جانے والے نہتے افراد اور بلوچ اقلیتی مظاہرین پر ایران کی جانب سے طاقت کے مہلک استعمال‘ کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ہونے والی تمام ہلاکتوں کی تحقیقات پر زور دیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر(یو این ایچ سی ایچ آر) نے جمعے کو کہا کہ ایران کے سرحدی حکام کی جانب سے بظاہر طاقت کا منظم اور مہلک استعمال قابل مذمت ہے۔

اقوام متحدہ انسانی حقوق آفس کے ترجمان روپرٹ کولویل نے جینیوا میں رپورٹروں سے بات چیت میں کہا ’ہم ایران میں پاسدان انقلاب کی جانب سے طاقت کے بل بوتے پر کی جانے والی خلاف ورزیوں، ریاستی فورسز کی تیل لے جانے نہتے افراد اور بلوچ اقلیتی مظاہرین کے خلاف کارروائی کی مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر دو بچوں سمیت کم از کم 12  افراد مارے گئے۔‘

ترجمان نے کہا کہ 22 فروری کو ایرانی پاسداران انقلاب کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ فورس نے پاکستان کی سرحد پر جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان میں فائرنگ کر کے تیل لے جانے والے 10 افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس سے پہلے پاسداران انقلاب نے سراوان جانے والی سڑک کو دو روز تک بند رکھا۔

ان ہلاکتوں کے خلاف صوبے بھر کے شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی پاسداران انقلاب اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین اور قریب کھڑے افراد پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مزید دوافراد ہلاک جب کہ درجنوں شدید زخمی ہوگئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان نے مزید کہا کہ مقامی حکام کے مطابق کورن شہر میں مظاہرے کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق، جس کی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر آفس نے تصدیق نہیں کی، ان واقعات میں مجموعی طور پر 23 لوگ ہلاک ہوئے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق آفس کے ترجمان نے مزید کہا کہ پورے بلوچستان سیستان میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، بظاہر اس اقدام کا مقصد ان معلومات تک رسائی روکنا تھا کہ علاقے میں کیا ہو رہا ہے۔

انٹرنیٹ پر یہ پابندی انسانی حقوق کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے ایرانی حکام پر انٹرنیٹ سروس کی بحالی پر زور دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا