کرونا تیسری لہر: ’حیران ہوتے ہیں جب کرونا کیس کم ہوں‘

پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث کرونا کیسز میں پھر سے اضافہ ہونے لگا ہے۔ ایک طرف کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب بے احتیاطی کے باعث کیسوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جارہاہے۔

(اے ایف پی)

پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث کرونا کیسز میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ ایک طرف کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب بے احتیاطی کے باعث کیسوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جارہاہے۔

بڑھتے خدشات کے پیش نظر پنجاب میں سمارٹ لاک ڈاؤن میں بھی اضافہ کردیاگیا ترجمان محکمہ صحت کے مطابق اگرچہ حکومت نے معمولات زندگی مکمل بحال کرنے کی اجازت دی مگر بے احتیاطی کے باعث تعلیمی اداروں ، بازاروں، شادی ہالوں سمیت جلسے جلوسوں میں سختی کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کی تیسری لہر میں حفاظتی تدابیر پر عمل نہ ہونے سے کیسوں میں اضافہ ہوا اور ویکسین لگوانے پر بھی کئی شہریوں کو تحفظات ہیں۔

کرونا دوبارہ کیوں پھیل رہاہے؟

چیئرمین کرونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ ڈاکٹر محمود شوکت نے اس سوال کے جواب میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایاکہ ہم ’حیران ہوتے ہیں جب کرونا کیس کم ہوتے ہیں۔‘

کیونکہ پاکستان میں ابتدا سے ہی لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کرونا وبا بھی ہے، صرف وہی محسوس کرتے ہیں جن کے گھر سے کوئی کرونا سے متاثر ہوکر سنجیدہ صورتحال سے دوچار ہوجائے۔

انہوں نے کہاکہ مکمل لاک ڈاؤن کے دوران ہی مجبوری میں لوگوں نے کسی حد تک احتیاط کیا مگر اس کے بعد کوئی احتیاط نہیں کی گئی، ماسک تک پہننے پر ناراض ہوتے ہیں اور شکایات کرتے ہیں۔

ڈاکٹر محمود شوکت کے مطابق تعلیمی ادارے ہوں، بازار، شادی ہال یا جلسے جلوس، کوئی کرونا کو سنجیدہ نہیں لے رہا، اسی لیے کبھی تعداد بڑھنے لگتی ہے اور کبھی کم ہوجاتی ہے لیکن اس کا خاتمہ ہوگیا یہ سوچ نہیں ہونی چاہیے۔

ان کے خیال میں لوگ سائیڈ افیکٹ کے خدشے سے کرونا ویکسین لگوانے سے بھی اجتناب کر رہے ہیں ایسی صورتحال میں حتمی طور پر قابو نہیں پایاجاسکتا۔

حفاظتی اقدامات:

ترجمان محکمہ صحت پنجاب حماد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایاکہ حکومت نے بے احتیاطی کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں میں حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا فیصلہ کیاہے۔ جس کلاس میں کوئی کیس آئے گا کلاس بند اور چند کیس آنے پر سکول بند کر دیا جائے گا۔ کسی گھر سے کیس آئے تو گھر سیل اور گلی میں چند کیس ہوں تو گلی اور محلہ بند کیاجارہاہے۔

انہوں نے کہاکہ لاہور کے کئی علاقوں میں پہلے ہی لاک ڈاؤن تھا لیکن کیسوں میں اضافے کے باعث 12سے زائد مزید علاقے اور گلی محلے بند کر دیے گئے ہیں۔

حماد نے کہاکہ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں تمام شاپنگ مالز، ریسٹورنٹ، دفاتر وغیرہ بھی بند رہیں گے۔ ہر قسم کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد ہے۔ تعلیمی، سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں ماسک کا استعمال لازمی قرار دے کر سختی سے عمل کرایاجارہاہے۔

سیکرٹری محکمہ صحت پنجاب محمد عثمان نے دودھ، گوشت کی دکانوں اور بیکریوں کے اوقات صبح سات سے شام سات بجے تک مقرر کر دیے ہیں۔

گروسری سٹورز آٹا چکیاں، فروٹ سبزی کی دوکانیں، تندور اور پیٹرول پمپ نو سے شام پانچ بجے تک کھل سکیں گی۔

انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں لوگوں کی آمدورفت بھی محدود کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیاہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان حماد دضا کے مطابق حکومت کی جانب سے کرونا ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے اب تک 62ہزار سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

اگلے مرحلے میں 60سال سے زائد عمر کے شہریوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ جس کے لیے رجسٹریشن شروع کر دی گئی ہے۔ 60سال سے زائد عمر کے شہری اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر میسج کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اپنے وسائل کے مطابق حکومت جس حد تک اقدامات کر سکتی ہے اس سے زیادہ کیے جارہے ہیں تاہم شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سے پاکستان میں کرونا کیسوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایک دن میں کرونا وائرس سے متاثرہ شہریوں کی شرح 4.8فیصد رہی۔

اب تک پاکستان میں کرونا کیسز کی تعداد 5لاکھ 89ہزار اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13ہزار 166ہوچکی ہےجبکہ 5لاکھ 58ہزار افراد کرونا سے نجات پاچکے ہیں۔

سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد ہوئیں مگر سندھ میں پنجاب کی نسبت زیادہ کروناکیسز 2لاکھ 59ہزارسامنے آئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان