’رقص سیکھنا چاہا تو دوست رشتے دار سب خلاف ہو گئے‘

پاکستان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کلاسیکل رقص کو اپنا کر مطمئن ہیں لیکن انہیں معاشرے سے کچھ شکاتیں بھی ہیں۔

(تصویر شازیہ تسنیم)

گھنگرو کی جھنکار کے ساتھ متوازن تال اور جسمانی عمل کا ایک خوب صورت امتزاج کا نام ہے کلاسیکی رقص۔

اس رقص کا ذکر ہوتے ہی فنون لطیفہ کا ایک ایسا مجموعہ ذہن میں آتا ہے جو کبھی سمندر کی لہروں کی طرح مستحکم، موم کی طرح پگھلتا ہوا، کسی خوبصورت راگ کی طرح سریلا یا  پھر مخمل کی طرح ملائم ہوتا ہے۔

یہ رقص ادکاری، موسیقی اور معنی خیز اشاروں کا ایک مرکب ہے جو معاشرتی مسائل اور ناانصافیوں کی تصویرکشی کرتا ہے۔ 

کلاسیکی رقص خواتین کی شناخت کو مستحکم کرنے کا ایک منفرد ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسی تکنیک ہے جس کے پیشہ ورانہ استمال سے خواتین اپنی زندگیوں میں درپیش چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتی ہیں۔

اس آرٹ کے ذریعے خواتین ان معاشرتی مسائل اور ناانصافیوں کی تصویر کشی کر سکتی ہیں جو انہیں درپیش رہتے ہیں۔ ویسے تو کلاسیکی رقص ہمارے معاشرے میں ایک ٹیبو بن کے رہ گیا ہے لیکن کچھ لڑکیاں ہیں جو اسے پروفیشنل طور پر سیکھ رہی ہیں۔

وہ اسے ایک فن کے طور پر سیکھنا چاہتی ہیں جیسے اداکار، گلوکاری یا ماڈلنگ کا فن۔ وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ اس کے مواقعے بہت کم ہیں  لیکن وہ پھر بھی کلاسیکی رقص کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ 

نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کی طالبہ ارم بشیر کا شمار بھی ان خواتین میں ہوتا ہے جو اپنی فنی صلاحیتوں کو زندگی کا مقصد بنانا چاہتی ہیں۔ ارم کہتی ہیں انہیں بچپن سے ہی کلاسیکی رقص سکھنے کا شوق تھا۔ وقت کے ساتھ ان کا شوق شدت اختیار کر گیا۔

’ہر کسی کی زندگی میں کوئی ایسی شخصیت ہوتی ہے جو اسے متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح میں نے بھی جب پہلی بار ناہید صدیقی کو پرفارم کرتے دیکھا تو ان کی مہارت سے بہت متاثر ہوئی۔ اسی وقت میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے یہ فن سکھنا ہے۔‘

ارم کا کہنا ہے کہ ’ایک لڑکی ہونے کے ناطے کلاسیکی رقص سیکھنے کی خواہش کا اظہار مشکل تھا مگر میں نے ٹھان لی تھی کہ میں ہر حال میں اس فن کو سیکھوں گی۔ جب میں نے کلاسیکی رقص میں تعلیمی ڈگری لینے کا فیصلہ کیا تو میرے اہل خانہ اور دوستوں کا ملا جلا ردِ عمل آیا۔

’بیشتر رشتے دار میرے فیصلے کے خلاف بلکہ ناراض تھے۔ اگرچہ پاکستان میں اس فن کو بطور پیشہ کامیابی ملنا مشکل ہو گا، مگر میں اپنے فیصلے سے مطمئن ہوں۔‘

نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کی ایک اور طالبہ ثمینہ سحر کلاسیکی رقص کے بارے میں مثبت سوچ رکھتی ہیں۔ ثمینہ اس آرٹ کو فروغ سے دینا چاہتی ہیں اور اس حوالے سے منفی سوچ کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ 

وہ کہتی ہیں: ’شروع شرع میں کلاسیکی رقص میرے لیے صرف ایک تفریح اور مشغلہ تھا۔ پھر میری دلچسپی بڑھنے لگی اور میں نے اسے باقاعدہ استاد سے سیکھنا شروع کیا۔

’رقص ایک اداکار کو مکمل کر دیتا ہے اور کلاسیکی رقص اس فن کو تراشنے میں مزید مدد گار ہوتا ہے، اسی لیے ایک اداکار کو رقص لازمی سیکھنا چاہیے کیوں کہ فلم، سٹیج اور اب تو منی سکرین کے کاموں بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

کلاسیکی رقص کے پیشہ ورانہ مواقعے بہت کم ہونے کے باوجود جدید دور کی لڑکیوں میں کلاسیکی رقص سیکھنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

کیا لڑکیوں کو اس میدان میں آنا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے اساتذہ بہت پر امید نظر آتے ہیں۔

عظمیٰ سبین ایک مایہ ناز کتھک ٹیچر ہونے کے ساتھ پاکستان کی پہلی خاتون تھیئٹر سٹیج لائٹ پروڈیوسر بھی ہیں۔ ان کے خیال میں کلاسیکی رقص فنون لطیفہ کا ایک اہم حصہ ہے اور فنون لطیفہ کے طلبہ، خاص کر لڑکیوں، کو اس کی تعلیم لازمی لینی چاہیے۔

وہ کہتی ہیں: ’اس فن کے فروغ کے لیے لڑکیوں کو آگے آنا چاہیے، جتنی زیادہ لڑکیاں اس طرف آہیں گی اس فن کو زیادہ فروغ ملے گا۔ میں سمجھتی ہوں کہ آنے والے دنوں میں کلاسیکی رقص کا مستقبل بہت سنہری ہو گا۔‘ 

خواتین ہی نہیں، مردوں کو بھی مشکل

مشرقی معاشرے میں مرد رقاصوں کو بھی تنقید کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے کام اس وقت تک قابل قبول ہیں جب تک وہ ثقافتی سرگرمیوں تک محدود ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے فن و مہارت کے سبب سٹیج اور ٹی وی پر مقبولیت حاصل کرنے والے کتھک رقاص محسن بابر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

اپنے کیریئر کے آغاز میں پیش آنے والی رکاوٹوں کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’میرے گھر والے، رشتے دار، دوست میرے فیصلے سے نہ اس وقت خوش تھے جب میں نے کتھک کی تعلیم لینا شروع کیا اور نہ ہی اب۔ میں نے اس آرٹ کی علمی شروعات میں بہت کچھ سہا اور سنا، مگر مایوس نہیں ہوا۔‘

محسن کے مطابق کلاسیکی رقص نظریاتی اور عملی دونوں ہے اور اسی لیے مستند بھی ہونا ہے۔ ’صرف 11 برس کی عمر میں میں نے کتھک سیکھنا شروع کیا۔ مجھے ناچنے کا شوق تھا جو بعدازاں جنون میں تبدیل ہو گیا۔

’میں اپنے پیشے کے انتخاب سے مطمئن ہوں، اگر مطمئن نہیں ہوں تو وہ اس بات سے کہ یہاں اس فن کو کسی بھی قسم کی حمایت اور اہمیت حاصل نہیں۔ اگراس آرٹ کو بھی مکمل حمایت اور اہمیت ملے تو یہ بہتر روزگار فراہم کرسکتا ہے، کتھک عشق و جنوں ہے میرا اور یہی میری اولین ترجیح ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن