پاکستانی سیاست اور عوامی محاذ

جب یہ واضح ہو کہ نظام کے دوسرے حصہ دار کسی قسم کی تبدیلی میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کی کشمکش میں مبتلا ہیں تو کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔

کب تک ہم پی ٹی آئی، پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھیں گے؟ (فائل تصویر: اے ایف پی)

سیاست دانوں کے لیے ہمیشہ ایک سوال اہم ہوتا ہے کہ پرامن تبدیلی کس طرح لائی جائے۔ پاکستان کے بہت سے دانشور اس پر زور دیتے ہیں کہ نظام کے اندر رہ کر آہستہ آہستہ اسے ٹھیک کیا جائے۔

میں خود بھی اس نظریے کا قائل رہا ہوں لیکن یہ راستہ صرف اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب تک نظام کے دوسرے حصہ دار اس بات پر قائل نہ ہوں۔ مثبت اصلاحات سب کے مفاد میں ہے۔

جب یہ واضح ہو کہ نظام کے دوسرے حصہ دار کسی قسم کی تبدیلی میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کی کشمکش میں مبتلا ہیں تو کچھ نہیں ہوسکتا۔ ایسی صورت میں دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے کہ نظام کے اندر رہ کے تبدیلی آ سکے۔

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں


امریکہ میں جنوبی اور شمالی ریاستوں میں اس وقت خانہ جنگی ہوئی، جب ان میں اس پر اتفاق نہ ہو سکا کہ سیاہ فام غلاموں کو ملکیت نہیں رکھا جاسکتا اور انہیں بھی حقوق دینے ہوں گے۔ فرانس میں بادشاہت اور مساوی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔

میں آج کل جسونت سنگھ کی لکھی ہوئی قائد اعظم کی سوانح حیات پڑھ رہا ہوں، جس میں یہ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ آل انڈیا کانگریس نے آل انڈیا مسلم لیگ کی کسی تجویز کو قبول نہیں کیا جس سے ہندو مسلم اتحاد قائم رہتا۔ بالآخر قائد اعظم کو ایک الگ ملک کا مطالبہ کرنا پڑا۔

1971 میں مجیب الرحمان بھی اسی نتیجے پر پہنچے کہ علیحدگی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ موجودہ پاکستان کے عوام ایک قوم کے طور پر رہنا چاہتے ہیں اور ملک میں ایک نئے نظام کی جدوجہد چلائیں گے مگر موجودہ سیاسی پارٹیاں اس حد تک جانے کو تیار ہیں کہ نظام ان کے مفاد میں چلتا ہے تو چلے ورنہ ملک بٹ جائے۔

آزادی کے بعد پہلے ذوالفقار علی بھٹو اور اس کے بعد عمران خان نے قوم کو اشتراکیت کے نظریے پر اکھٹا کرنے کی کوشش کی مگر دونوں بالآخر اقتدار کے لیے استحصالی قوتوں کے زیر اثر آئے۔

ان دونوں کو ابتدائی امداد اور حمایت متوسط طبقے نے دی لیکن جیسے ہی یہ اقتدار کے قریب پہنچے، ان دونوں نے استحصالی قوتوں کو اپنا شریک بنایا۔ نظام کو عوامی بنانے کی بجائے یہ دونوں استحصالی نظام کا حصہ بنے۔

مارشل لا نظام کے خلاف جو تحریکیں چلیں وہ بھی عوام کو چھوڑ کر مقتدرہ سے مفاہمت کرتی رہیں۔ یہی نہیں بےنظیر اور نواز شریف بھی اسی استحصالی نظام کی پیداوار ہیں اور کبھی سنجیدگی سے اس کے خلاف تحریک نہ چلا سکے۔ اب ان کی نئی نسل بھی اسی روش پر چل نکلی ہے۔

نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کی بات تو کر رہے ہیں مگر موجودہ ناکارہ نظام کو بدلنا نہیں چاہتے اور ووٹ کی عزت موجودہ نظام میں ممکن نہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

کب تک ہم پی ٹی آئی، پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھیں گے کہ وہ اس نظام کو بہتری کی طرف لے جائیں گے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ غیرجمہوری پارٹیاں وقت کے ساتھ جمہوری بن جائیں گی۔ مجھے ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا بلکہ دن بدن ان پارٹیوں میں غیرجمہوری رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ مجھے اور قوم کو ایک تاریخ بتائیں تاکہ اس کے بعد ان سب کے خلاف ایک باقاعدہ تحریک چلائی جائے۔ اس لیے کہ مومن ایک ہی سوراخ سے کب تک ڈسا جائے گا؟ چلیں اگر مومن کی بات نہیں مانتے تو آئن سٹائن کی بات مان لیں جس نے ہمیں بتایا کہ کوئی عمل اگر دس ہزار بار بھی دہرایا جائے تو نتیجہ وہی نکلے گا جو پہلی دفعہ نکلا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ درخواست میں ان دانشوروں سے کر رہا ہوں جو ہر دھاندلی شدہ الیکشن کے بعد اس میں کوئی مثبت پہلو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو بھٹو کے بعد اس کی بیٹی اور اب نواسے سے انقلابی بننے کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ یا وہ جو مجھے آٹھ سال یہ مشورہ دیتے رہے کہ خان صاحب سے اختلاف مت کرو، چپ چاپ اس کے پیچھے آنکھیں اور کان بند کر کے چل کر انقلاب لاؤ۔ یا وہ جو اب مریم نواز کو انقلابی سمجھ رہے ہیں۔ یہ وہی مسلم لیگ ن ہے جس نے چند دن پہلے نو سیاسی لوٹوں کو ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا ہے تاکہ اسلام آباد کی ایک سینیٹ سیٹ جیت جائیں اور اگلی باری کا موقع ملے۔

آہستہ آہستہ مفاہمت اور گفتگو کی کھڑکی بند ہو رہی ہے۔ اگر اس کھڑکی کے بند ہونے سے پہلے قومی سیاسی مذاکرات نہ کیے گئے اور عوامی جمہوریہ قائم نہ کی گئی تو پھر اس نظام کو عوامی ہتھوڑے سے مسمار کرنا ہوگا۔ یہ کام کسی جعلی لانگ مارچ یا دھرنے سے نہیں ہوگا جس میں گانے اور ناچ کا انتظام ہوگا بلکہ ہر شہر اور ہر گلی سے لوگ نکلیں گے۔

یہ عوام بنی گالہ کی دیواریں بھی توڑیں گے، جاتی عمرہ بھی محفوظ نہیں رہے گا، پاکستان بھر کے بلاول ہاؤس بھی گرا دیئے جائیں گے اور راولپنڈی والے بھی کچھ نہ بچا پائیں گے۔ یہ عوامی ریلا ملک توڑنے کے لیے نہیں بلکہ ملک بچانے کے لیے نکلے گا۔

یہ لسانی اور مذہبی طوفان نہیں ہوگا بلکہ پوری پاکستانی قوم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر استحصالی قوتوں کے خلاف نکلے گی۔ میں کسی کو یہ تمام کام کرنے پر اکسا نہیں رہا بلکہ دو سال سے اطلاع دے رہا ہوں۔

ہماری اشرافیہ نے یہ خوش فہمی پالی ہوئی ہے کہ پاکستان کے عوام انقلابی نہیں ہیں، اس لیے کبھی نہیں اٹھیں گے۔ روس، فرانس، چین اور امریکہ کی تاریخ پڑھیں تو ان کے عوام اشرافیہ کے ہم سے زیادہ غلام تھے مگر جب کھڑے ہوئے تو خون کی ندیاں بہا دیں۔ عوام کے غیض و غضب کو مت للکاریں۔ اسی میں تمام پارٹی مالکان اور اقتدار سے چمٹے خاندانوں کی بقا ہے۔


نوٹ: اس تحریر میں درج خیالات مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ