بائیڈن کے پوتن کو ’قاتل‘ کہنے کے بعد امریکہ میں روسی سفیر واپس طلب

ایک حالیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے انکشاف اور صدر بائیڈن کے صدر پوتن کو ’قاتل‘ کہنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

منگل کو امریکی چینل ’اے بی سی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر بائیڈن نے صدر پوتن کو ’قاتل‘ قرار دے دیا۔(تصاویر: اے ایف پی)

روس نے بدھ کو امریکہ میں اپنے سفیر اناتولی انتونوف کو ملک واپس بلا لیا۔

یہ قدم امریکی صدر بائیڈن کے ایک بیان کے بعد اٹھایا گیا۔ روسی وزارت داخلہ نے صدر بائیڈن کی انتظامیہ کے ابتدائی دنوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو ’ناقابل واپسی خرابی‘ کی جانب جاتے ہوئے قرار دیا اور اب ماسکو اس پر غور کر رہا ہے کہ اسے کیسے روکا جائے۔

گذشتہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں 2020 کے صدراتی انتخابات میں روس کی مشتبہ مداخلت کی کوششوں کے بارے میں انکشاف اور امریکہ کی جانب سے روسی صدر کے ناقد الیکسی نوالنی کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کی مذمت ہے۔

اس کے علاوہ منگل کو امریکی چینل ’اے بی سی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر بائیڈن نے صدر پوتن کو ’قاتل‘ قرار دے دیا۔

روسی سرکاری نیوز سروس سپتنک کے مطابق، ایک بیان میں وزارت داخلہ کی ترجمان ماریا زخاروا نے کہا: ’نئی امریکی انتظامیہ کو اقتدار سنبھالے دو ماہ  ہی ہوئے ہیں۔ اس کے سو دن ابھی پورے ہی ہونے والے ہیں، جو ایک اچھا موقع ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ بائیڈن کی ٹیم کس کام میں کامیاب ہوئی ہے اور کس میں نہیں۔‘

ان کا مزید کہا تھا کہ ایک وقفے سے امریکیوں کو دونوں ممالک کے خراب ہوتے تعلقات سے ’جڑے خطرات کو تسلیم کرنے‘ کا موقع ملے گا جنہیں ’واشنگٹن نے ہی حالیہ سالوں میں تعطل کا شکار کیا ہے۔‘

میزبان جارج سٹیفناپولس نے روس سے وابستہ سائبر حملوں اور ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے بارے میں سوال کیا جس میں کریملن کی جانب سے الیکشن میں آن لائن مداخلت کا ذکر تھا جس کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ اور دائیں بازو کے سازشی نظریات کو فروغ دیا گیا تھا۔ میزبان نے پوچھا کہ بائیڈن سمجھتے ہیں کہ روسی صدر ’قاتل‘ ہیں؟

’جی ہاں،‘ انہوں نے کہا، اور ساتھ ہی کسی شکل میں ردِعمل کی دھمکی بھی دی۔ صدر بائیڈن نے کہا، ’جلد ہی آپ دیکھیں گے کہ انہیں اس کی قیمت چکانی ہو گی۔‘

یہ بیان بازی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب واشنگٹن ایک بار پھر روس کی جانب سے انتخابات پر اثرانداز ہونے کی مشتبہ مداخلت کے انکشاف کے نتائج سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔  

منگل قومی انٹیلی جنس نے ڈائریکٹر کے دفتر سے ڈی کلاسیفائی ہو کر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2020 کے صدارتی انتخابات میں روس نے ایک بار پھر اثر انداز ہونے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق ماسکو نے یوکرین سے جڑے افراد، جن کے روسی انٹیلی جنس میں تعلقات تھے، انہیں اور ’اہم امریکی شخصیات اور میڈیا‘ کو بائیڈن کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا۔

سابق صدر ٹرمپ پر الزام تھا کہ اپنی صدارت کے دوران وہ پوتن کے ساتھ زیادہ اچھے روابط رکھتے تھے باوجود اس کے کہ روس پر انتخابات میں مداخلت کے الزامات تھے اور یہ رپورٹ بھی سامنے آئی تھی کہ روس نے امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کے لیے افغان شدت پسندوں کو رقوم دیں۔

2017 میں ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کے میزبان بل اورائلی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ روسی صدر کی بہت عزت کرتے ہیں۔

او رائلی نے کہا: ’مگر وہ ایک قاتل ہیں۔‘

اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا: ’بہت سے لوگ قاتل ہیں۔ آپ کو لگتا ہے ہمارا ملک بے گناہ ہے۔‘

روس اور امریکی کے درمیان نورڈ سٹریم ٹو نامی گیس پائپ لائن پر بھی اختلافات ہیں جو جرمنی اور روس کے درمیان ہو گی۔

بعض رپورٹوں کے مطابق امریکی اس منصوبے سے جڑے اداروں پر مزید پابندیوں پر غور کر رہا ہے۔ صدر بائیڈن اسے ’یورپ کے لیے ایک بری ڈیل‘ کہہ چکے ہیں، جبکہ قانون ساز نے بھی اس پر تنقید کی ہے جن کا کہنا ہے کہ اس سے نیٹو میں روسی رسوخ بڑھ سکتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا