کیپٹن صفدر کیس: نیب کو نجی وکیل رکھنے کی اجازت

پشاور ہائی کورٹ نے کیپٹن(ر) محمد صفدر کی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے نیب کو پرائیویٹ وکیل رکھنے کی اجازت دے دی۔

کیپٹن (ر) صفدر اپنے حامیوں کے ہمراہ نظرآ رہے ہیں (اے ایف پی)

پشاور ہائی کورٹ نے جمعرات کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن(ر) محمد صفدر کی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو پرائیویٹ وکیل رکھنے کی اجازت دے دی۔

محمد صفدر کو نیب کے آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں ضمانت ملی ہے۔ گذشتہ ہفتے اس کیس کی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کرنے پر عدالت نے سوال اٹھائے تھے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ اگلی سماعت پر نیب تفیصل سے بتائے کہ اس نے پرائیویٹ وکیل کی خدمات کیوں حاصل کیں اور آیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟

عدالت نے نیب کے پرائیویٹ وکیل ستار خان سے پوچھا کہ کیا نیب کی جانب سے پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کرنا سپریم کورٹ کے2016  کے ایک فیصلے کی خلاف ورزی نہیں؟

اس پر ستار نے بتایا کہ نیب نے پرائیویٹ وکیل کی خدمات قومی احتساب بیورو آرڈینینس کی دفعہ آٹھ کے تحت لی ہیں۔

عدالت نے 2016 کے جس مقدمے کی جانب اشارہ کیا، وہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا تھا، جس کے مطابق حکومتی اداروں میں پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا رجحان ختم ہونا چاہیے کیونکہ حکومت کے پاس پبلک پراسیکیوٹر موجود ہوتے ہیں جن کو قومی خزانے سے تنخواہ ملتی ہے۔

فیصلے میں مزید لکھا تھا کہ نجی ادارے پرائیویٹ وکیل کی خدمات تو حاصل کر سکتے ہیں لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس اپنے سرکاری وکلا ہوتے ہیں اور اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اس کے وکلا مقدمات کی پیروی کے قابل نہیں تو ایسے 'نااہل وکلا' کو کیوں بھرتی کیا جاتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس میں کہا تھا، ’اس صورتحال میں بوجھ عوام پر آتا ہے کہ حکومت پہلے اپنے وکلا کو تنخواہ دے پھر پرائیویٹ وکلا کی خدمات بھی حاصل کرے۔ قومی خزانے کو اس طرح نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔‘

آج کی سماعت میں کیا ہوا؟

محمد صفدر کے وکلا نے آج عدالت سے استدعا کی کہ نیب عدالت کو بتائے کہ ان کے خلاف انکوائری میں اب تک کیا ہوا۔

مریم صفدر کے وکیل بیرسٹر مدثر امیر نے عدالت کو بتایا کہ محمد صفدر کے خلاف ایک کیس لاہور اور ایک پشاور میں چل رہا ہے جو ’بدنیتی‘ اور ’سیاسی انتقام‘ پر مبنی ہے، ’نیب محمد صفدر کو صرف جیل میں ڈالنا چاہتا ہے۔‘

مدثر امیر نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے محمد صفدر کی 12 جائیدادوں کی فہرست دی، جن کی تمام تفصیلات نیب کو فراہم کر دی گئیں تاہم نیب کے پاس کچھ نہیں جو وہ پیش کرے۔

نیب کے پرائیویٹ وکیل ستار خان نے جائیداد سے متعلق چارٹ عدالت میں پیش کیا لیکن جج لال جان خٹک نے نقطہ اٹھایا کہ چارٹ پر کوئی دستخط موجود نہیں۔

ادھر محمد صفدر کے وکیل نے بتایا کہ انہیں اس چارٹ کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ چارٹ کی کاپی انہیں بھی فراہم کی جائے تاکہ وہ اس کا جواب جمع کرا سکیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی، تاہم سماعت کے لیے اگلی تاریخ نہیں دی۔

پرائیویٹ وکلا کی خدمات کیوں؟

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اور پاکستان بار کونسل کے ایگزیکٹیو چیئرمین محمد فہیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ایسا زیادہ تر ان وکلا کو خوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جس سے اس دارے کو کوئی فائدہ ملتا ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم کچھ مقدمات میں حکومت اس پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کرتی ہے جس کا متعلقہ مقدمے میں تجربہ زیادہ ہو اور وہ حکومت کو مقدمے کی پیروی میں مدد فراہم کرتا ہو۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا محمد صفدر کا کیس اتنا مشکل ہے کہ اس کے لیے نیب نے پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کیں تو انھوں نے بتایا کہ نیب اپنے کیسز میں پہلے خود تفتیش کرتا ہے، جس کی بنیاد پر اس کے وکلا مقدمے کی پیروی کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا، ’میں نہیں سمجھتا کہ نیب کے اپنے وکیل اس مقدمے کی پیروی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ نیب جو تفتیش کرتا ہے وہی اس کے وکلا عدالت میں سامنے رکھتے ہیں۔‘

نیب کے ایک سرکاری وکیل نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اس مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں لیکن یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ پرائیویٹ  وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی اس میں کیا ضرورت تھی۔

انھوں نے بتایا کہ سرکاری وکیل بھی نیب کی تفتیش پر اپنا مقدمہ تیار کرتے ہیں اور نجی وکیل بھی اسی تفتیش کو بنیاد بنا کر کیس لڑتے ہیں، ایسے میں فرق کیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب نیب خیبر پختونخوا کی ترجمان سلمٰی بیگم سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے نیب کوئی موقف نہیں دے سکتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان