عمران خان مشکل میں ہیں

بلدیاتی انتخابات بھی آنے والے ہیں جہاں پنجاب میں ن لیگ انتہائی مضبوط اور کلین سویپ پوزیشن میں ہے۔ بلدیاتی الیکشن کا معرکہ اگر پنجاب میں ن لیگ جیت لیتی ہے تو یہ مِنی جنرل الیکشن کے برابر تصور کیا جائے گا اور حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہو سکتی ہے۔

چار مارچ 2021 کی اس تصویر میں کراچی میں ایک شخص وزیراعظم عمران خان کی ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر سن رہا ہے، جب سینیٹ الیکشن میں   پی ڈی ایم امیدوار یوسف رضا گیلانی کی  جانب سے حکومتی امیدوار کو شکست کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے (تصویر: اے ایف پی)

وقتی طور پر اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو ایک بڑا جھٹکا تو لگا ہے، سنگین سیٹ بیک ہے جس کی اس قدر جلد توقع نہیں کی جا رہی تھی۔

خود پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یوسف رضا گیلانی کی غیر متوقع کامیابی کے خمار میں چڑھتی رولر کوسٹر اس طرح اچانک بلندی پر پہنچ کر یوں تیزی سے حادثے کا شکار ہو کر زمیں بوس ہو جائے گی۔ لیکن اپوزیشن اتحاد کی اِس وقتی کلینیکل ڈیتھ کو اگر وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت، تحریک کی مکمل موت سمجھ رہے ہیں تو یہ سیاسی ناسمجھی ہوگی اور حریف کو انڈر ایسٹیمیٹ (Under estimate)  کرنے کے مترادف ہوگا۔

یوں سمجھ لیجیے کہ فی الحال پی ڈی ایم کی کلینیکل ڈیتھ ہوئی ہے، جسے تنفس (چاہے مصنوعی ہی سہی) اور کچھ معمولی سے کرنٹ کے ذریعے واپس اپنی سانسوں اور قدموں پر بحال کیا جا سکتا ہے۔

جب کوئی وسیع اتحاد ہیوی ویٹ جماعتوں پر مشتمل ہو اور ان فریقین کا آپس میں ایک تاریخی اختلاف اور اعتماد کا فقدان رہا ہو تو ایسی صورتحال کا سامنا ناگزیر ہوتا ہے۔لیکن ایک بڑی غلطی بہرحال اپوزیشن اتحاد سے ہوئی ہے۔

 اپنے گذشتہ کالموں میں بھی عرض کرتی رہی تھی کہ پی ڈی ایم کے اندر یکسُو متفقہ حکمت عملی کا فقدان ہے اور لائحہ عمل روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتا رہا ہے۔ سیاسی پہلوانوں پر مشتمل اس اتحاد کو چاہیے تھا کہ چند باتوں پر شروع دن سے ہی اتفاق کرلیا جاتا اور اس کے لیے سیرحاصل بحث کی جاتی۔ پی ڈی ایم کا مقصد تو تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ رہا کہ عمران خان حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے مگر کیسے؟

طریقہ کار پر اختلاف برقرار رہا جو پہلے دن سے موجود تھا اور جس نے اپوزیشن کو آج یہ دن دکھایا۔ جلسے جلوس کی حد تک تحریک کے فیز وَن پر تو سبھی اکٹھے ہوگئے لیکن فیز ٹو، تھری یا حتمی مرحلے کے متعلق ابہام موجود رہا۔ بہتر ہوتا کہ مل بیٹھ کر ڈائیلاگ کے ذریعے اس ابہام کو شروع سے ہی دور کر لیا جاتا اور واضح اور متفقہ حکمتِ عملی پر توجہ مرکوز رکھی جاتی تو آج اپوزیشن کو ایسے جگ ہنسائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

16 مارچ کو بھی پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے دوران اور بعد میں جو کچھ ہوا وہ جذباتیت کے زیرِ اثر نظر آیا۔ میری ناقص رائے میں پی ڈی ایم کو سربراہی اجلاس کا ایک موقع اور دینا چاہیے تھا، اختلافات کی خبروں کو اجلاس کی چار دیواری کے اندر ہی محدود رکھنا چاہیے تھا، مولانا کو اس طرح پریس کانفرنس مختصر چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا، لانگ مارچ کو اول تو ملتوی نہیں کرنا چاہیے تھا اور اگر بصورتِ ناقص و نامکمل تیاری ناگزیر تھا ہی تو اس کے التوا کو منسوخی کا تاثر دینے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔

اجلاس کے بعد نظر آنے والے تمام تاثرات bad optics کا مجموعہ تھے اور اگر سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے ہی زیرِ اثر تھے تب بھی غلط کیلکولیشن پر مبنی تھے۔ البتہ بڑے بڑے مَنجھے ہوئے اور جرّی سیاستدانوں کی موجودگی میں میدانِ سیاست میں نووارد اور نوجوان، مریم نواز نے جس طرح معاملے کو ہینڈل کیا، وہ ان کی دن بدن پرورش پاتی سیاسی بلوغت کا مظہر تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مریم نواز نے ہر ممکن کوشش کی کہ پی ڈی ایم کی گہری دراڑ کی خبروں (جو اجلاس کے دوران ہی میڈیا پر لِیک ہوگئی تھیں) کے تاثر کو زائل کر سکیں لیکن بہرحال یہ ذمہ داری پریس کانفرنس کے لیے باہر آنے والے تمام رہنماؤں کی تھی جو اکیلے مریم نواز نے سنبھالنے کی کوشش کی، یعنی مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا!

 بہرحال حقیقت پسندی پر مبنی تجزیہ کیا جائے تو موجودہ صورتحال میں تمام اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی بقا اسی میں ہے کہ وہ اس اتحاد کی بائیولوجیکل ڈیتھ نہ ہونے دیں۔ اس کا ادراک ظاہر ہے تمام اپوزیشن رہنماؤں کو ہے اور یہی وجہ ہےکہ باوجود تمام تر اختلافات، ناراضی، ماتھے پر پڑی شکنوں اور بیانات/ ٹویٹس پر پڑی سلوٹوں کے، دو ہی دن میں نواز۔ مولانا۔ زرداری رابطے بحال بھی ہونے شروع ہوگئے۔

میری ناقص رائے میں ایک رابطہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کا بھی ہونا ضروری ہے جس سے پی ڈی ایم میں پڑی خلیج پاٹنے میں بڑی مدد ملے گی۔ دوسری اہم بات کہ پی ڈی ایم کی ہیوی ویٹ جماعتوں کو ایک دوسرے کی سیاسی حدود و قیود کا نہ صرف ادراک کرنا ہوگا بلکہ آگے بڑھنے کے لیے ان حدود اور تحفظات کو اہمیت اور احترام بھی دینا ہوگا۔

اپوزیشن اتحاد پر حاوی اور غالب فلسفہ تصوریت و مثالیت جسے عرفِ عام میں آئیڈیل ازم بھی کہا جاتا ہے، اس فلسفے اور نظریے میں کچھ جگہ حقیقت پسندی اور عملیت پسندی کو بھی دینا ہوگی۔ خِرد اور جنوں کی متناسب آمیزش کے ساتھ یہ سیاسی اتحاد اگر آگے بڑھے گا تو دیرپا مقاصد حاصل کر پائے گا۔ یہ درست ہے، بجا ہے کہ  ؂

نکھرنا عقل و خِرد کا اگر ضروری ہے

جنوں کی راہبری میں سفر ضروری ہے

مگر یہ حقیقت و عملیت پسندی اور عقل و خِرد ہی ہے جو مرض کی تشخیص بہتر انداز میں کر سکتی ہے ؂

خِرد نے مجھ کو عطا کی نظرِ حکیمانہ

لہذا لازم ہے کہ اپوزیشن اتحاد مل کر ڈائیلاگ کے ذریعے اس ڈیڈلاک سے نکلنے کی کوشش کریں اور جو جگ ہنسائی اپوزیشن کے حصے آئی ہے اس سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ؂

عشق اب پیروی عقلِ خداداد کرے

آبرو کو چہ جاناں میں نہ برباد کرے

پیپلزپارٹی اگر سمجھتی ہے کہ فی الحال نظام کے اندر اس کے سیاسی سٹیک زیادہ ہیں تو پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کو پیپلزپارٹی کے جمہوری آئینی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔ یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ پیپلزپارٹی استعفے نہیں دے گی، نہ صوبائی اسمبلی سے نہ قومی اسمبلی سے، لہذا استعفوں کو حرفِ آخر نہ بنایا جائے اور موجودہ ڈیڈلاک میں کوئی درمیانی راستہ اور حربہ اپنایا جائے۔

حالیہ انتخابی سیاست میں اپوزیشن نے اپنا ووٹ بینک اور عوام میں اپنی مقبولیت و قبولیت منوائی ہے۔ این اے 75 ڈسکہ اور این اے 249 کراچی اگر اپوزیشن جیت لیتی ہے تو یہ گیلانی کی فتح کے مترادف ہوگا اور اپوزیشن کو مورال بلند کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بیک فٹ پر لے جانے کے بھی قابل ہوگا۔ لیکن ڈسکہ الیکشن فی الحال سپریم کورٹ میں ہے، دیکھیے وہاں سے کیا نتیجہ آتا ہے۔

این اے 249 پر ن لیگ نے مفتاح اسماعیل کی صورت میں ایک انتہائی کمزور امیدوار کھڑا کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے فی الحال تو امیدوار کھڑا نہیں کیا لیکن اگر وہ بھی اپنا امیدوار لے آتی ہے تو مقابلہ پی ٹی آئی بمقابلہ پی پی پی بن سکتا ہے اور جیت کے چانسز پیپلز پارٹی کے بڑھ سکتے ہیں۔

آئندہ بلدیاتی انتخابات بھی آنے والے ہیں جہاں پنجاب میں ن لیگ انتہائی مضبوط اور کلین سویپ پوزیشن میں ہے۔ بلدیاتی الیکشن کا معرکہ اگر پنجاب میں ن لیگ جیت لیتی ہے تو یہ مِنی جنرل الیکشن کے برابر تصور کیا جائے گا اور حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہو سکتی ہے۔ لہذا اس وقت مناسب یہی ہے کہ اپوزیشن اتحاد سسٹم کے اندر موجود رہے اور پارلیمان کے اندر اور باہر ہر جگہ تحریک چلائے۔

اگر پی ڈی ایم اس نکتے پر متفق ہوجاتی ہے تو حکومت کا برقرار رہنا انتہائی مشکل ہو جائے گا وہ بھی ایسی صورتحال میں کہ مہنگائی اور بے روزگاری کا عفریت دن بدن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ اسی لیے وزیراعظم عمران خان مشکل میں ہیں، بہت بڑی مشکل میں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ