بھارتی وزیر اعظم مودی کا عمران خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

وزیر اعظم کی اہلیہ کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آ گیا۔ عمران خان کے ایک معاون خصوصی نے بتایا کہ ان کی طبیعت بہتر ہے اور وہ ہشاش بشاش ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا ہفتے کو کرونا (کورونا) ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت سروسز ڈاکٹر فیصل سلطان نے آج دوپہر میں ایک ٹویٹ کے ذریعے وزیر اعظم کا ٹیسٹ مثبت آنے کی خبر دیتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کر لیا ہے۔

ابتدا میں صرف عمران خان کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق سامنے آئی، جس کے بعد رات کو وزیر اعظم کے قریبی سمجھے جانے والے سینیٹر فیصل جاوید نے ایک ٹویٹ میں بشری بی بی کے کرونا ٹیسٹ مثبت ہونے کی تصدیق کی۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم نے دو دن پہلے (جمعرات) کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی پہلی ڈوز لگوائی تھی۔

ڈاکٹر فیصل نے آج شام ٹی وی پر براہ راست گفتگو میں بتایا کہ وزیر اعظم میں کرونا وائرس کی علامات معمولی نوعیت کی ہیں، ان کی طبیعت بہتر ہے اور وہ ہشاش بشاش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں وزیر اعظم سے ملنے والوں کو ٹریس کیا جائے گا تاکہ ان کے کرونا ٹیسٹ کروائے جا سکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم سے ملنے والی شخصیات سے درخواست کی کہ وہ قرنطینہ اختیار کریں۔

ادھر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عمران خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں امید ظاہر کی کہ عمران خان جلد صحت یاب ہوں گے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ٹوئٹر پر عوام سے درخواست کی کہ ’براہ مہربانی اس کو کرونا ویکسین کے ساتھ لنک مت کریں۔ ویکسین لگنے کے کچھ ہفتے کے بعد قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔‘

انڈس ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر عبدالباری خان نے جیو نیوز سے گفتگو میں واضح کیا کہ ویکیسن لگوانے سے کرونا وائرس نہیں ہوتا اور خدشہ ہے کہ وزیر اعظم کو ویکسین لگوانے سے قبل ہی وائرس لگا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آںے میں پانچ سے سات دن لگتے ہیں۔

وزیر اعظم ان دنوں معمول کی مصروفیات سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد کے علاقے آئی الیون میں ’اپنا گھر ہاؤسنگ سکیم‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی، جس کے بعد متعدد اجلاس منعقد کیے۔ 

انہوں نے جمعے کو خیبرپختونخوا کا دورہ کیا تھا، جہاں وہ ملاکنڈ یونیورسٹی گئے اور نئے اکیڈمک بلاک کا افتتاح کرنے کے بعد طلبہ سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کل سوات موٹروے کا بھی دورہ کیا اور سوات ایکسپریس ٹنل کا افتتاح کیا۔

وزیر اعظم ہاؤس سے ایک ٹویٹ کے ذریعے قرآن میں صحت سے متلق ایک آیت شیئر کرتے ہوئے انہیں کرونا وائرس لگنے کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے کل (اتوار کو) ٹیلی فون پر عوام سے براہ راست رابطے میں ان کے مسائل سننا تھے۔ تاہم سینیٹر فیصل جاوید کے مطابق اب اس پروگرام کے نئے وقت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

 

 
وفاقی وزیر اسد عمر نے نیوز چینل اے آر وائی سے گفتگو میں بتایا کہ وزیراعظم کی طبیعت ٹھیک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں دو سے تین دن لگتے ہیں، انہیں (وزیر اعظم) کو ویکسین لگنے سے پہلے انفکیشن ہو چکا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ قرنطینہ کا اوسط دورانیہ 10 دن ہوتا ہے اور وزیراعظم یہ دن گھر پر گزاریں گے۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ ملک میں کرونا وائرس کی پہلی دو لہروں میں لوگ غیر تبدیل شدہ وائرس کا شکار ہوئے تھے لیکن تیسری لہر میں لوگ برطانیہ سے آنے والے تبدیل شدہ وائرس سے متاثرہ ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیل شدہ وائرس نے موسم سرما میں برطانیہ میں بہت تباہی پھیلائی، اب یہی وائرس پاکستان پہنچا ہے۔ ’ہم نے جو ٹیسٹنگ کروائی اس کے مطابق 50 فیصدل لوگ برطانیہ سے آئے وائرس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔‘

وزیر اعظم کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنماؤں نے ان کی جلد صحت یابی سے متعلق ٹویٹس کی ہیں۔ پاکستان میں کرونا وبا کی تیسری لہر میں اضافہ ہو رہا ہے اور وبا سے نمٹنے کے ذمہ دار این سی او سی نے تشویش ظاہر کی ہے کہ عوام کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھا رہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملک میں کرونا کیسز کی مثبت شرح میں آٹھ فیصد سے زائد ہو چکی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹے میں اس وائرس سے مزید 40  ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ کرونا کے اعداد و شمار بتانے والی قومی ویب سائٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک بھر میں کرونا کے 42845 ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 3449 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ادھر ملک بھر میں 65 سال سے زائد عمر افراد اور طبی عملے میں چین سے منگوائی گئی ویکیسن لگانے کا عمل جاری ہے۔ تاہم این سی او سی نے آج ایک پیغام میں کہا کہ ملک بھر میں کرونا ویکسین لگانے کے تمام مراکز اتوار اور 23 مارچ جیسی سرکاری تعطیلات پر بند رکھے جائیں گے۔

شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ان دنوں میں ویکسینیشن مراکز نہ جائیں۔ این سی او سی کے مطابق یہ فیصلہ ویکسین لگانے والے عملے اور ہیلتھ ورکرز کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت