سردیاں بھگانے کے لیے جوتے پھینکنے کا تہوار

13 مارچ سے شروع ہونے والے ’شہشر تراؤ‘ نامی تہوار کا مقصد لوگوں کی جانب سے سردیوں کی مشکلات سے نکلنے اور بہار میں داخل ہونے کی خوشی منانا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں دہائیوں سے سردیوں کے اختتام اور بہار کے شروع ہونے پر جوتے پھینک کر ’شہشر تراؤ‘ تہوار منایا جاتا رہا ہے۔

یہ تہوار 13 مارچ کو موسم بہار کے آغاز پر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد گاؤں کے لوگوں کی جانب سے سردیوں کی مشکلات سے نکلنے اور بہار میں داخل ہونے کی خوشی منانا ہے، کیونکہ وادی نیلم میں موسم سرما کسی آفت سے کم نہیں ہوتا۔

اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ اس تہوار کو منانے والوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے، لیکن اب بھی کچھ گاؤں میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔

سردیوں کو کیسے بھگاتے ہیں؟

شہشر تراؤ تہوار کے آغاز میں گاؤں کے لڑکے اکٹھے ہو کر ایک رسی کے ساتھ کچھ پرانے جوتے باندھتے ہیں، ان جوتوں کو لے کر وہ ہر گھر میں جاتے ہیں اور گھر کے سامنے جا کر یہ نعرے لگاتے ہیں۔

شہشر شہشر تراؤ آ۔۔۔ نئی بھاند آؤو آ

یعنی

سردیاں بھاگ گئیں۔۔۔۔ بہار آ گئی

گھر میں موجود خواتین یا مرد باہر آ کر ان سے پوچھتے ہیں تو یہ لڑکے پھول دے کر موسم بہار کی آمد کی خبر سناتے ہیں۔ جس کے بعد گھر والے ایک پرانا جوتا ان کے پاس موجود جوتوں کے ساتھ باندھ کر سردی کی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرتے ہیں اور بہار کی آمد کی خوشی میں کھانے کی اشیا مثلاً چاول، چینی، گھی، مصالحہ اور چائے کی پتی وغیرہ ان کو دیتے ہیں۔ جس کے بعد یہ نوجوان نعرے لگاتے ہوئے اگلے گھر کا رخ کرتے ہیں اور یہ سلسلہ گاؤں کے آخری گھر تک جاری رہتا ہے۔

شہشر کو خشک جگہ کیوں رکھا جاتا ہے؟

گاؤں کے گھروں سے سامان دیتے ہوئے خواتین یہ بات ضرور یاد کرواتی ہیں کہ اس شہشر کو کسی خشک جگہ رکھنا ہے کیونکہ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر شہشر کو کسی ایسی جگہ پھینک دیا جہاں بارش ہو یا اس کو پانی لگے تو بہار میں بھی بارشوں کا سلسلہ نہیں رکے گا، لیکن اگر یہ کسی خشک جگہ رکھا جائے تو موسم بہار میں بارشیں کم ہوں گی اور موسم خوشگوار رہے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہشر مورا / جوتے رکھنے کی جگہ

گاؤں میں ایک ایسی جگہ شہشر رکھنے کے لیے مخصوص ہوتی ہے جہاں بارش کا پانی نہ داخل ہو سکے۔ گاؤں سے جمع ہونے والے جوتوں کو شہشر مورا میں رکھا جاتا ہے اور شہشر مورا میں جوتے پھینکنے کے بعد لوگ خوشی مناتے ہیں کہ ہم نے سردیوں کا بھگا دیا ہے، اب بہار میں آسانیاں ہیں۔

شہشر کی ماں اور باپ

جوتے پھینک کر واپس آنے کے بعد سارا سامان اکٹھا کرکے اس کو پکانے کے کام شروع ہوجاتا ہے جبکہ شہشر میں حصہ لینے والے نوجوانوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ ہوتا ہے، اس دوڑ میں پہلے نمبر پر آنے والے کو شہشر کا باپ اور آخری آنے والے کو شہشر کی ماں بنا دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ان نوجوانوں کو پورا سال شہشر کی ماں اور شہشر کا باپ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔

شہشر تراؤ تہوار سے مذہب کو خطرہ

کچھ لوگ اس تہوار کی مخالفت کرتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہندوانہ تہوار ہے، اس کو منانا گناہ ہے، لہٰذا اس کو ختم ہونا چاہیے، لیکن مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ تہوار ہمارے باپ دادا مناتے رہے ہیں، یہ ایک خوشی کا تہوار ہے اور اس سے مذہب کو کوئی خطرہ نہ ہے۔

وادی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم جوتے پھینک کر سردی کو بھگاتے ہیں اور پھول دے کر بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

شہشر تہوار میں بدعا کا کیا تصور؟

شہشر والے لوگ جب تمام گاؤں کے گھروں میں گھوم رہے ہوتے ہیں تو اگر کسی گھر سے اشیا یا نقدی نہ ملے تو پھر سب مل کر اس کو بدعا دینے کے لیے نعرہ لگاتے ہیں۔

نیلا تاگہ پیلا پٹ۔۔۔ جیڑا کج نا دیوے اس دا جہگا پٹ

یعنی

کچھ نہ دینے والے کا ککھ بھی نہ رہے۔

لیکن یہ سب کچھ تفریح کے لیے کیا جاتا ہے، کوئی بھی شخص اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ پورا گاؤں اس تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا