وادی نیلم: انڈین فوج کے گولوں سے بننے والے مورچنگ کی موسیقی

’پہلے ہم لوہا اور پیتل خرید کر مورچنگ بناتے تھے لیکن اب انڈین آرمی کی طرف سے پھینکے گئے گولے کے پیتل سے بنا رہے ہیں۔ جہاں گولہ گرتا ہے ہم وہاں سے پیتل اکٹھا کر کے لے آتے ہیں۔‘

وادی نیلم کے علاقے کیل میں مورچنگ ثقافت کا حصہ مانا جاتا ہے۔ لیکن اب اس کو بجانے والوں کی تعداد بہت کم رہ گی ہے۔

محمد جاوید اب بھی مورچنگ بناتے ہیں۔ ان کی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔

کیل میں مورچنگ کو تنہائی کا ساتھی مانا جاتا تھا۔ یہاں کے زیادہ لوگ مال مویشی پالتے تھے، جب خواتین ان مویشیوں کو چرانے جنگل جاتی تھی تو وقت گزارنے کے لیے یہ مورچنگ بجاتی تھی۔ 

مورچنگ مرد و خواتین میں یکساں مقبول تھا۔ مورچنگ بجانے والا ہر کوئی اپنی لے میں بجاتا تھا۔ کوئی ذکر اللہ کے ساز پر بجاتا تھا تو کوئی پہاڑی گیت یا ٹپے کے ساز پر !

کیل میں مورچنگ بنانے والے جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہو بتایا کہ ہمارے خاندان میں مورچنگ بنانا ایک ہنر ہے۔ کیل میں مرد و خواتین مورچنگ بجاتے تھے۔ اس سے ہمارا روزگار چلتا تھا۔ جب سے موبائل آیا ہے۔ لوگوں کا رحجان مورچنگ کی طرف کم ہو گیا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مورچنگ لوگوں کی تنہائی کا ساتھی تھا  مرد و خواتین اس کو بجا کر اپنا وقت گزارتے تھے۔ لیکن اب موبائل فون نے اس کی اہمیت ختم کر دی ہے۔ ہمارا روزگار بھی اب بہت کم ہو گیا ہے۔ 

جاوید کا کہنا ہے کہ مال مویشی چرانے والی خواتین یہ بجاتی تھیں۔ مرد اکثر پیار کی نشانی کے طور پر اپنے محبوب کو تحفہ میں دیتے تھے۔ خواتین جنگل میں اکیلی ہوتیں تو مورچنگ بجا کر تنہائی دور کرتی تھیں اور اپنی محبت کو بھی یاد کر لیتی تھی۔ 

جاوید نے ایک حیران کن بات بتائی کہ پہلے ہم لوہا اور پیتل خرید کر مورچنگ بناتے تھے لیکن اب انڈین آرمی کی طرف سے پھینکے گئے گولے کے پیتل سے بنا رہے ہیں۔ جہاں گولہ گرتا ہے ہم وہاں سے پیتل اکٹھا کر کے لے آتے ہیں۔

ایک مورچنگ بنانے میں تین گھنٹے لگتے ہیں۔ پہلے دن میں دس سے زائد مورچنگ فروخت ہوتے تھے لیکن اب تین چار دنوں میں ایک کی ڈیمانڈ آتی ہے۔

سن 2000 میں اس کی قیمت 50 روپے تھی اب 2020 میں اس کی قیمت 400 روپے ہے۔ لوہے والے مورچنگ کی قیمت 200 روپے اور پیتل والے کی قیمت 400 روپے ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا