میں اور فیصل زندگی کے نئے زاویے تلاش کرنا چاہ رہے ہیں: بلال مقصود

آخر وہی ہوا جس کا خدشہ گذشتہ کئی ماہ سے پاکستانی پاپ میوزک پر نظر رکھنے والے افراد کو تھا کہ ’سٹرنگز‘ کی تاریں اب ٹوٹنے والی ہیں۔

سٹرنگز نام تھا بلال مقصود اور فیصل کپاڈیا کی جوڑی کا، جس نے 90 کی دہائی میں شعور کی منزل پر چڑھنے والی نوجوان نسل میں پاپ میوزک سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا (اے ایف پی)

آخر وہی ہوا جس کا خدشہ گذشتہ کئی ماہ سے پاکستانی پاپ میوزک پر نظر رکھنے والے افراد کو تھا کہ ’سٹرنگز‘ کی تاریں اب ٹوٹنے والی ہیں۔

جب بلال مقصود نے ویلو ساؤنڈ سٹیشن پر تنہا کام کیا تو اسی وقت یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اب یہ میوزک بینڈ شاید اپنا وجود کھو چکا ہے کیونکہ آخری مرتبہ بلال مقصود نے تنہا کام 1999 میں کیا تھا۔

سٹرنگز نام تھا بلال مقصود اور فیصل کپاڈیا کی جوڑی کا، جس نے 90 کی دہائی میں شعور کی منزل پر چڑھنے والی نوجوان نسل میں پاپ میوزک سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اپنے میوزک بینڈ کے خاتمے کے بارے میں بلال مقصود نے انڈیپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور فیصل کپاڈیا اپنی زندگی کے کچھ نئے زاویے تلاش کرنا چاہ رہے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ زندگی میں اس میوزک بینڈ سے آگے ان کے لیے کیا رکھا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو ان کی فیصل کپاڈیا سے کوئی لڑائی ہوئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے اختلافات ہیں۔

سٹرنگز کے فنی سفر کے اختتام کے باضابطہ اعلان سے 90 کی دہائی کی نسل میں تاسف کی کیفیت جنم لے رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ جیسے بچے کا من پسند کھلونا ٹوٹ گیا ہو۔

کراچی سے کوکب جہاں نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 1992 میں جب گانا ’سر کیے یہ پہاڑ‘ آیا تو البم خریدنے کے پیسے نہیں تھے، تو ایک میوزک کی دکان پر پانچ روپے سے ایک پرانی کیسٹ میں یہ گانا ریکارڈ کروایا جسے بجا بجا کر کیسٹ گھس گئی۔

دبئی میں مقیم مہوش اعجاز نے سٹرنگز کا ابتدائی دور یاد کرتے ہوئے کہا کہ 1990 کی ابتدائی دہائی میں میں اور میری کزن سٹرنگز کا گانا ’سر کیے یہ پہاڑ‘ سنتے تھے تو خوب جھومتے۔

’اس گانے میں کچھ الگ سا سوز تھا۔ پاکستانی پاپ کلچر کا ایک خوبصورت دور تھا وہ اور سٹرنگز کا یہ گانا اس دور کا ایک نگینہ تھا۔ پیسے بچا کے وہ کیسٹ خریدتے جس میں یہ گانا ہوتا اور بڑے کزنز سے ٹیپ رکارڈر ادھار مانگ کر یہ گانا ہم گرمیوں کی دوپہر میں بیٹھ کے کیری کا شربت پیتے ہوئے سنتے تھے اور جب بھی یہ گانا ٹی وی پہ آتا سب کو خاموش کروا دیتے۔‘

کراچی کے ہی عمیر علوی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پہلی میوزک البم تو نہیں پر دوسری البم آئی تو جیسے تیسے کرکے پیسے جمع کیے اور البم خریدا۔

’ان دنوں این ٹی ایم پر چلنے والی میوک چینل چارٹس پر سٹرنگز کا گانا لوری دو تین ہفتے ہی میں ڈراپ ہوا تو بہت غصہ آیا تھا مگر سر کیے یہ پہاڑ کی ویڈیو آئی تو وہ بہت مقبول ہوگئی تھی۔‘

گلوکار اور ہدایتکار یاسر اختر اسی کالج میں پڑھتے تھے جہاں 1988 میں سٹرنگز بینڈ وجود میں آیا تھا۔

یاسر بتاتے ہیں کہ ان دنوں کراچی کے تاج محل ہوٹل میں بہت کنسرٹ ہوا کرتے تھے جن میں وہ بھی حصہ لیتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاسر اختر نے میزک چینل چارٹس کے پروگرام میں سٹرنگز کے گانے لوری کی اور کھلونا کی ویڈیوز بنائی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ فیصل کپاڈیا اور بلال مقصود نے اعلان کرکے بینڈ ختم کیا ہے تاکہ افواہیں جنم نہ لیں۔ ان دونوں نے اتنے سال گزارے ہیں، ان دونوں کی عادتیں بھی مختلف ہیں مگر بہت ہی اچھا کام کیا ہے۔

یاد رہے کہ سٹرنگز کا قیام 1988 میں ہوا تھا اور 1993 میں انہوں نے میوزک چھوڑ کر اپنی تعلیم اور دیگر کام پر توجہ دینا شروع کر دی تھی مگر پھر 1999 میں ایک بار پھر بینڈ ایک ساتھ جڑا اور پھر جیسے کامیابیاں ان کے قدم چومتی گئیں۔

سٹرنگز نے جب اپنا کیرئیر شروع کیا تو میوزک کی آڈیو کیسٹ بِکتی تھیں، وہاں سے آج ڈیجیٹل میوزک تک کا سفر جس میں یوٹیوب اور سپاٹی فائی شامل ہیں سب دیکھ لیا۔

ایم ٹی وی پر پہلا پاکستانی گانا جو نشر ہوا وہ سٹرنگز کا ’سر کیے یہ پہاڑ ‘ تھا اور رواں صدی میں ان کے نام پر کوک سٹوڈیو کے کئی کامیاب سیزن ہیں اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بالی وڈ کی تین فلموں میں بھی گانے گائے ہیں جبکہ ان کے نام پر سپائڈر مین 2 کے ہندی ورژن کا ایک گانا ’نہ جانے کیوں‘ بھی ہے۔

اس طرح اس بینڈ کا شمار ان میں ہوتا ہے جو ہالی وڈ، بالی وڈ اور پاکستان تینوں جگہ گانے گا چکے ہیں۔

کوئی بھی شے ہو اسے ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہی ہوتا ہے، تاہم سٹرنگز کا ختم ہونا پاکستانی پاپ میوزک کے لیے اس لیے اہم ہے کہ حالیہ سالوں میں کوئی زیادہ بینڈ مقبول نہیں ہوئے اور جدید ڈیجیٹل دور میں مشکل معاشی حالات نئی نسل کو پاپ میوزک کو باقاعدہ پیشہ بنانے سے روک رہے ہیں۔

ایسے میں صرف یہ امید کی جاسکتی ہے کہ 1999 کی طرح یہ بینڈ ایک بار پھر جڑ جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی