پاکستان میں وائلن کی دھنیں بکھیرتی سربیا کی خاتون

فروری میں پاکستان آنے والی صوفیہ اسلام آباد کے علاوہ مالم جبہ میں بھی پرفارم کر چکی ہیں جبکہ ان کا لاہور آنے کا بھی منصوبہ ہے۔

چند روز قبل دفتری کام سے اسلام آباد جانا ہوا تو ایک نجی ہوٹل میں قیام کیا۔ اس ہوٹل کے باہر دالان میں رات کے کھانے کے لیے جاتے ہوئے دل کو چھو لینے والی موسیقی کی آواز سنائی دی۔

آواز کی سمت دیکھا تو ایک خاتون وائلن بجاتی نظر آئیں جبکہ وہاں بیٹھے افراد کھانے کے ساتھ ساتھ وائلن کی دھنوں سے بھی محظوظ ہوتے نظر آئے۔

سربیا سے تعلق رکھنے والی ان خاتون کا نام صوفیہ ہے، جو رواں برس فروری میں پاکستان آئیں، جنہیں اسلام آباد میں مقیم ان کے کچھ دوستوں نے یہاں آنے کی دعوت دی تھی۔ صوفیہ اسلام آباد کے علاوہ مالم جبہ کے ایک معروف ہوٹل میں بھی پرفارم کر چکی ہیں جبکہ ان کا لاہور آنے کا بھی منصوبہ ہے۔

36 سالہ صوفیہ نے بتایا کہ وہ چھ برس کی عمر سے وائلن بجا رہی ہیں اور اس وقت سربیا میں ایک اچھی پرفارمر کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ پاکستان کے بہترین وائلنسٹس سے بھی ملنا چاہتی ہیں اور ان کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں پاکستان بہت پسند آیا، خاص طور پر یہاں کا موسم جو ان کے ملک سے تھوڑا گرم ہے لیکن خوشگوار ہے۔

صوفیہ وائلن کو ’شیطانوں کا ایک آلہ ‘ قرار دیتی ہیں، جو بقول ان کے ’واقعی دل کے جوہر کو چھوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’مجھے وائلن بجاتے 30 برس ہوچکے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے کہ میں اپنی روح ظاہر کرتی ہوں تاکہ میں لوگوں کے دلوں تک پہنچ سکوں۔‘

’میں نے نوٹس کیا ہے کہ لوگ واقعی میں وائلن سے محبت کرتے ہیں اور اسے محسوس کرتے ہیں۔ جب سے میں یہاں وائلن بجا رہی ہوں، لوگ تالیاں بجا رہے ہیں، ایسے جیسے ہر دھن ان کو حیران کر رہی ہو، ان کے دل کو چھو رہی ہو۔ میرے خیال میں وہ اسے پسند کرتے ہیں۔‘

صوفیہ اگرچہ پہلی بار پاکستان آئی ہیں، تاہم انہوں نے بتایا کہ چونکہ وہ دبئی میں کافی عرصہ قیام کر چکی ہیں اس لیے انہیں لگتا ہے کہ وہاں کے اور پاکستان کے لوگوں کی پسند ملتی جلتی ہے اور لوگ وائلن کو پسند کرتے ہیں۔

وائلن کے آغاز کے حوالے سے انہوں نے بتایا: ’کچھ صدیوں پہلے وائلن دراصل ایران سے یورپ پہنچا۔ یہ ایک طرح کا مشرقی میوزک ہے۔ یہ کلاسکل میوزک اس وقت بنا جب یہ اٹلی پہنچا، پھر انہوں نے اس کی مختلف اقسام بنائیں اور فرانس میں اس کی بو بنائی گئی جو کہ مختلف اشکال کی تھی۔ یہ انیسویں صدی کی بات ہے۔ بنیادی طور پر یورپ نے یہ میوزک لے لیا لیکن آیا یہ ایران سے ہی تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی