’جام صاحب کک اور سوئیپر اساتذہ سے بہتر ہیں؟‘ 

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے تنخواہوں میں اضافے اور مستقبل میں اس کے مضمرات پر ایک بحث چھیڑ دی ہے۔

 (ٹوئٹر/ جام کمال)

بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس نے پیر کو تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہاکی چوک پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے صوبائی حکومت نے ایک طرف دفعہ 144 لگا دی تو دوسری جانب ریڈ زون کی طرف جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ 

دھرنے کے باعث شہر میں بدترین ٹریفک جام ہے، شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے تنخواہوں میں اضافے اور مستقبل میں اس کے مضمرات پر ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ 

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ٹویٹ میں لکھا کہ بلوچستان کے ملازمین کے علاوہ بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اپنا پیٹ محنت اور مزدوری سے بھرتے ہیں۔ ان کے پاس سرکاری تنخواہ، الاؤنس، بونس، صحت اور پینشن نہیں۔ ان کی لاکھوں میں ہے جن کا گھر ترقیاتی منصوبے سے چلتا ہے۔ 

انہوں نے مزید لکھا کہ ’کوئی رقم وفاق کے پاس نہیں گئی۔ پہلے اس کو درست کر لیں اور آپ کی اطلاع کے لیے گذشتہ سال سابقہ ادوار میں سے کسی بھی حکومت سے سب زیادہ ترقیاتی فنڈز پر 70 بلین خرچ ہوئے۔

اس حوالے سے ایک صارف  نے بھی ٹوئٹر پر لکھا کہ ’علاج ایک ہے بہتر اور ڈبل تنخواہ، اس سے زیادہ ملازمتیں سب کے لیے اور ہیلتھ انشورنس اور ہاؤس کے ساتھ ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس ٹویٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’لیکن یہ مستقل طریقہ نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً کنٹریکٹ تاکہ لوگ کام بھی کریں،اچھا کریں اور اس سے ترقی بھی اچھی ہو۔‘ 

اس پر ایک صارف دلاور خان کاکڑ نے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’کاش آپ عوام کے چیف منسٹر ہوتے۔‘ 

ایک اور صارف اکرم بلوچ لکھتے ہیں کہ ’ہیلتھ انشورنس کرپشن کا راستہ ہے۔ بلوچستان جیسا غریب صوبہ اسے برداشت نہیں کرسکتا۔‘ 

وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک اور ٹویٹ میں سوال کیا کہ ’کیا آپ لوگ ڈرائیور، کک، صفائی والا، گارڈ، مزدور یا ورکر رکھتے ہیں۔ کیا اسے مستقل کرتے ہیں اور وہ موصوف پھر کام بھی نہ کرے اور گھر میں بیٹھ کر تنخواہ لے۔‘ 

انہوں نے لکھا کہ ’ایسا نظام ملک کو ترقی نہیں دے سکتا جہاں نوکری اور کام کا کوئی خوف نہ ہو۔‘ 

جس پر صارفین نے مختلف ردعمل دیے جن میں ایک صارف ندیم احمد لکھتے ہیں کہ ’جام صاحب آپ کا مطلب ہے کہ کک اور سوئیپر اساتذہ سے بہتر ہیں؟‘ 

صارف احمد خان گورگیج لکھتے ہیں کہ ’پیارے قائد آپ سو فیصد درست کہتے ہیں۔‘ 

وزیراعلیٰ بلوچستان لکھتے ہیں کہ ’میں اگر چاہتا ایک ڈرامائی بات کرتا کہ ہم سب کو مستقل کریں گے۔ سب کچھ بھریں گے فلاں فلاں پچھلی حکومتیں خالی ملازمتیں بھر نہ سکیں۔‘ 

انہوں نے لکھ: ’الحمداللہ ہم نے 20 ہزار ملازمتیں دی ہیں۔ باقی 15 ہزار بھی پر کریں گے انشااللہ۔‘ 

اس پر ایک صارف حیات اللہ خان اچکزئی نے لکھا کہ ’چلیں مان لیتے ہیں کہ آپ نے 20 ہزار پوسٹوں پر تعیناتی کی ہیں مگر پیسے لے کر لوگوں کی تعیناتی کی گئی۔‘ 

’پوسٹوں کی بولیاں لگیں، چپٹراسی کی چار سکیل پوسٹ پانچ لاکھ روپے پر بیچی جا رہی ہے۔ اس طرح فی سکیل ایک لاکھ روپے بڑھتے ہیں ہر پوسٹ کے چاہے وہ جس بھی محکمے کی ہو۔‘

بحث کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک اور ٹویٹ کردی جس میں انہوں نے لکھا کہ ’اگر حکومتیں تنخواہوں اور آرام الاؤنس اور مستقل آسامیاں بڑھا رہی ہیں تو مزید دو یا تین سال کے دوران ترقی نہیں ہوگی اور حکومتیں تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے قرضے لے گی۔‘

ٹوئٹر صارف لیاقت ملازئی نے صورتحال پر ایک مختلف انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک شخص کو بھینس کے آگے بین بجاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ اس پر لکھتے ہیں کہ ’باپ( بلوچستان عوامی پارٹی) اور عوام۔‘ 

جعفر خان کاکڑ نامی صارف نے لکھا کہ ’محترم جان صاحب جو ڈبل نوکریاں کر رہے ہیں۔ اس کے لیے آپ کی حکومت کا کیا منصوبہ ہے۔ کم ازکم ڈبل نوکریوں کی تحقیقات کریں اور جو کر رہے ہیں انہیں نکال دیں تاکہ لوگوں کو روز گار مل سکے۔‘

بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے کنوینر عبدالمالک کاکڑ نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کا دھرنا پرامن ہے۔ ریلیوں کو روکنے کی کوشش کی گئی تو وہیں دھرنا دیا جائے گا۔ 

یاد رہے کہ سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کی وجہ سے دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ 

دوسری جانب محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے اعلامیہ کے مطابق ضلع کوئٹہ میں کرونا وائرس کی تیسرے لہر کے کیسز میں مزید اضافہ اور کوئٹہ شہر میں کرونا کی تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر 15 دنوں تک دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔ 

دفعہ 144 کے تحت لوگوں کے ہجوم جلسہ، جلوس، ریلیوں، پانچ اور پانچ سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل