چار سال پرانی ویڈیو پر امر جلیل کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے

سندھی اور اردو کے معروف مصنف امر جلیل کے مخالفین انہیں مبینہ طور پر توہین مذہب کا مرتکب قرار دے رہے ہیں جبکہ ان کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ مکمل ویڈیو کی بجائے صرف ایک کلپ نکال کر شیئر کیا گیا ہے۔

امرجلیل روہڑی میں آٹھ نومبر 1936 کو پیدا ہوئے۔(تصویر: فلکر/بی وسٹرو/ کری ایٹو  کامنز)

حال ہی میں سوشل میڈیا پر سندھی اور اردو زبان کے معروف مصنف امر جلیل کی ایک چار سال پرانی ویڈیو شیئر ہونے کے بعد صارفین کے دو گروپوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔  

امرجلیل کے مخالف گروپ کے صارفین انہیں توہین مذہب کا مرتکب قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جب کہ ان کے حمایتی سوشل میڈیا صارفین ایسے مطالبے کو سندھ کی صوفی روایت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی قرار دے کر امرجلیل کی حمایت میں پوسٹ کر رہے ہیں۔  

سوشل میڈیا پر امر جلیل کی مخالفت پاکستان کی دائیں بازو کی جماعتوں کے کارکن کر رہے ہیں جب کہ سندھ کے زیادہ تر ادیب، شاعر، لکھاری اور صحافی ان کی حمایت میں لکھ رہے ہیں۔ 

یہ متنازع ویڈیو 2017 میں منعقدہ ’سندھ لٹریچر فیسٹیول‘ کی ہے، جس میں امرجلیل سٹیج پر بیٹھ کر ایک افسانہ پڑھ رہے ہیں اور سننے والے تالیاں بجا رہے ہیں۔

امر جلیل کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ ان کی مکمل ویڈیو کی بجائے اس ویڈیو کا ایک کلپ نکال کر شیئر کیا گیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے مخالفین کو مشورہ دیا کہ وہ پوری ویڈیو دیکھ لیں تو ان کو سمجھ میں آ جائے گا کہ ان کا اصل مطلب کیا تھا۔  

امر جلیل ہیں کون؟

سندھ لینگویج اتھارٹی کی جانب سے شائع کردہ انسائیکلوپیڈیا سندھیانا کے مطابق امرجلیل روہڑی میں آٹھ نومبر 1936 کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبدالجلیل ولد عبدالغنی قاضی ہے، مگر انہوں نے امر جلیل کے قلمی نام سے شہرت حاصل کی۔  

انہوں نے پرائمری تعلیم کراچی میں صدر ٹاؤن کے رتن تلاؤ سرکاری سکول سے حاصل کی اور پھر نواب شاہ سے بی اے کرنے کے بعد وہ دوبارہ کراچی آئے اور جامعہ کراچی سے اقتصادیات میں ماسٹر کیا، بعد ازاں انہوں نے ہسٹری میں بھی ماسٹر کیا۔ 

امر جلیل ایک اچھے کرکٹ کھلاڑی بھی رہے اور وہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں کرکٹ ٹیموں کے کپتان بھی رہے۔  

ان کی تحریر کردہ پہلی کہانی ’اندرا‘ 1956 میں نواب شاہ سے شائع ہونے والے سندھی زبان کے رسالے ’ادا‘ میں شائع ہوئی۔  

بعد میں انہوں نے ریڈیو، ٹیلی وژن اور تھیٹر کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے اور ان کے لکھے ہوئے ڈرامے نیشنل تھیٹر اور ریڈیو پاکستان پر بھی نشر ہوئے۔ انہوں نے سندھی اور اردو زبان میں ٹیلی ویژن کے لیے بے شمار ڈرامے تحریر کیے ہیں۔

امر جلیل نے سندھی زبان کے اخبار ’ہلال پاکستان‘ اور ہفت روزہ ’الفتح‘ اور بعد میں اردو اخبار ’جنگ‘ اور ’ڈان‘ میں بھی کئی سالوں تک کالم لکھے۔ 

ان کی سندھی زبان میں لکھی گئی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’دل کی دنیا‘ 1968 میں شائع ہوا، جس پر انہیں کئی ادبی ایوارڈ دیے گئے اور اس مجموعہ کے کئی ایڈیشن بھی شائع ہوئے۔  

امر جلیل نے متعدد کہانیاں اور ناول بھی لکھے جن میں  ’دل کی دنیا،‘ ’تاریخ کا کفن،‘ ’جب میں نہیں رہوں گا،‘ ’میرا پتہ آسماں سے پوچھو‘ اور ’رنی کوٹ کا خزانہ‘ نے خاصی شہرت حاصل کی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امر جلیل ریڈیو پاکستان کراچی سے بطور ریجنل مینیجر منسلک ہوئے، مگر اپنی تحریروں کے باعث انہیں مستعفی ہونا پڑا، جس کے بعد وہ اسلام آباد میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل ٹیکنالوجی کے بانی ڈائریکٹر اور بعد میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔

امرجلیل سندھ لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین اور بعد میں اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی رہے۔ 

امرجلیل کئی سالوں تک مختلف حکومتوں کے زیر عتاب رہے۔ سندھی زبان کے مشہور رسالے ’سہنی‘ میں ان کی کہانی ’سرد لاش کا سفر‘ شائع ہونے کے بعد ’سہنی‘ پر کئی سال پابندی رہی۔ 

وہ سندھ ٹی وی نیوز پر ’کلاس روم‘ نامی پروگرام کے کئی سال تک اینکر بھی رہے۔  

امرجلیل خود کو ’اروڑ کا مست‘ کہتے ہیں۔ اروڑ ان کے آبائی شہر روہڑی کا قدیم نام ہے جب کہ موجودہ وقت میں روہڑی کے قریب پہاڑی سلسلے کو اروڑ کہا جاتا ہے۔ 

انہیں کئی ادبی ایوارڈز بھی ملے، جن میں پرائیڈ آف پاکستان، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز (پال) کی جانب سے ’کمال فن‘ ایوارڈ اور ہندوستان کے اکھل بھارت سندھی ساہت سبھا نیشنل ایوارڈ سمیت دیگر شامل ہیں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل