حماد اظہر: ’وزیرِ خزانہ کوئی بھی ہو، کچھ نہیں کر سکتا‘

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ معاشی صورت حال کے پیش نظر حماد اظہر کو وفاقی وزیر خزانہ کی حیثیت سے پہاڑ جیسے چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن سے نمٹنے کے لیے انہیں وزیر اعظم عمران خان کے بھرپور تعاون اور آشیرباد کی ضرورت رہے گی۔

حماد اظہر سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کے صاحبزادے ہیں اور لاہور سے 2018 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے  (فائل تصویر: روئٹرز)

وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے لاہور سے تعلق رکھنے والے سیاسی خاندان کے سپوت محمد حماد اظہر کو وزیر خزانہ کی حیثیت سے وفاقی کابینہ میں شامل کر لیا ہے، جسے سیاسی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال کے پیش نظر حماد اظہر کو وفاقی وزیر خزانہ کی حیثیت سے پہاڑ جیسے چیلنجز کا سامنا ہو گا، جن سے نمٹنے کے لیے انہیں وزیر اعظم عمران خان کے بھرپور تعاون اور آشیرباد کی ضرورت رہے گی۔

ماہر معاشیات اور استاد پروفیسر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے مطابق: ’حماد اظہر کو ان کے قد سے بڑا چیلنج دے دیا گیا ہے، کیونکہ وہ ایک بیرسٹر ہیں اور انہیں معاشیات کی سمجھ بوجھ اتنی ہی ہے جتنی اخبارات پڑھ کر ہو سکتی ہے۔‘

تاہم ایف بی آر کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق حماد اظہر نے برطانیہ کے مشہور تعلیمی ادارے لندن سکول آف اکنامکس سے ڈیویلمپمنٹ اکنامکس میں بی ایس آنرز کر رکھا ہے۔ 

ڈاکٹر اشفاق خان نے موجودہ معاشی حالات میں پاکستان کی معیشت کو بہتری کی طرف لے کر جانے اور مہنگائی کم کر کے غریب کو ریلیف دینے کو جوئے شیر لانے کے مترادف قرار دیا: ’جب وزیر اعظم بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے کا فیصلہ کر لیں تو وزیر خزانہ کوئی بھی ہو کچھ نہیں کر سکتا، وہ بےبس ہوتا ہے۔‘

دوسری جانب ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم سمجھتے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانا سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں وزارت خزانہ کا کردار بہت غیر اہم ہوتا ہے۔

ان کے خیال میں صرف وزارت خزانہ میں تبدیلیوں کے بعد مہنگائی پر قابو پا لینے کی امید رکھنا ٹھیک نہیں ہو گا۔

معاشی امور پر عبور رکھنے والے صحافی احتشام الحق کا کہنا تھا کہ نئے وزیرخزانہ کو اپنی حکومت اور جماعت کی طرف سے بے پناہ سیاسی حمایت کی ضرورت پڑے گی اور اس کے بغیر ملکی معیشت میں بہتری لانا مشکل ہو گا۔

بقول احتشام الحق: ’حماد اظہر نے کام بہت بڑے بڑے کرنا ہیں، جن کا سیاسی اثر بھی ضرور نکلے گا، اسی لیے انہیں بھرپور حمایت اور تعاون درکار ہو گا۔‘

واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پیر کی شام حماد اظہر کو وفاقی وزیر خزانہ بنائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے اہداف میں مہنگائی کم کر کے غریبوں کو ریلیف دینا سر فہرست رکھا گیا ہے۔

حماد اظہر سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کے صاحبزادے ہیں اور لاہور سے 2018 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

ورلڈ اکنامک فورم نے گذشتہ سال انہیں جنوبی ایشیا سے اپنی ینگ گلوبل لیڈرز کی فہرست میں بھی شامل کیا تھا، جس میں پاکستان سے ان کے علاوہ صحافی عتیقہ رحمان بھی شامل تھیں۔

نئے وزیر خزانہ کیا کر سکتے ہیں؟

ماہرین کے خیال میں پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں سے اسے بہتری کی طرف لے کر جانا اتنا آسان نہیں ہو گا، جتنا سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم ماہرین ملکی معیشت کو بہتر بنانے کا آسان، بہتر اور جلد حل معاشی اصلاحات بتاتے ہیں اور نئے وزیر خزانہ حماد اظہر کو بھی اپنی توانائیاں اسی طرف مرکوز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

احتشام الحق کا کہنا تھا کہ نئے وزیر خزانہ کو آؤٹ آف دا باکس آئیڈیاز متعارف کرواتے ہوئے اپنے حالات کے مطابق پالیسیاں لے کر آنی ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماد اظہر کو ایسی اصلاحات کرنا ہوں گی جن سے ملک میں ٹیکس زیادہ سے زیادہ اکٹھا ہو سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ٹیکس زیادہ کرنے کے علاوہ انہیں ریاستی کارپوریشنز کی تنظیم نو کر کے ان میں اصلاحات بھی کرنا ہوں گی، جس سے ان اداروں میں کرپشن کم ہوگی اور ان کی آمدن بڑھے گی۔‘

ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے نئے وزیر خزانہ حماد اظہر کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے جاری پروگرام کا رخ بھی اصلاحات کی طرف موڑنے کا مشورہ دیا۔

ان کا کہنا تھا: ’انہیں آئی ایم ایف کو قائل کرنا ہو گا کہ جاری پروگرام کے باقی عرصے میں صرف اصلاحات پر توجہ دینا چاہیے، قیمتیں بڑھانے سے اصلاحات نہیں ہو سکتیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک مضبوط مذاکراتی ٹیم کی ضرورت ہے، جس پر نئے وزیر خزانہ کو کام شروع کر دینا چاہیے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن خان سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو اوپر اٹھانے کے لیے زراعت پر توجہ دینے کی بھی اشد ضرورت ہے اور یہ شعبہ حماد اظہر کی ترجیحات میں اوپر ہونا چاہیے۔

انہوں نے نئے وزیر خزانہ کو مشورہ دیا کہ زراعت کے شعبے میں خصوصاً گندم اور کپاس پر زیادہ توجہ دینا ہو گی کیونکہ ماضی میں پاکستان ان دونوں فصلوں میں خود کفیل ہونے کے باوجود اب باہر سے درآمد کرنے پر مجبور ہے۔

ماہر معاشیات نے مزید کہا کہ نئے وزیر خزانہ کو صنعتوں کی ترقی پر بھی توجہ دینا ہو گی جس سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے علاوہ درآمدات میں کمی واقع ہو گی اور زرمبادلہ بچانے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب صحافی ذیشان حیدر کا کہنا تھا کہ نئے وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف کے ساتھ نئی شرائط پر مذاکرات کرنا ہوں گے اور عوام دوست فیصلے لینا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب حکومت آئی ایم ایف سے مختلف شعبوں میں سبسڈیز دینے کی اجازت مانگے گی تاکہ مہنگائی کو کم کیا جا سکے۔

سیاسی فیصلہ

معاشی و سیاسی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین حماد اظہر کی بحثیت وزیر خزانہ تقرری کو ایک سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد عمران خان کی حکومت میں غیر منتخب اور مبینہ طور پر عالمی اداروں کے نمائندوں کی شمولیت کے تاثر کو دور کرنا ہے۔

صحافی ذیشان حیدر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف حکومت سیاسی طور پر ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے، لوگ بھی مہنگائی سے تنگ ہیں، جبکہ آئندہ عام انتخابات بھی آئے کھڑے ہیں۔

’ایسے میں حکومت کے پاس عوام دوست فیصلوں کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور یہ کام سیاسی بندہ ہی کر سکتا ہے اور اسی لیے حماد اظہر کو لایا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ عبدالحفیظ شیخ سے قبل مشیر پٹرولیم ندیم بابر کو ہٹایا گیا، جو ثابت کرتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اب سیاسی لوگوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔

دوسری جانب احتشام الحق نے اس سلسلے میں کہا کہ حماد اظہر نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے سلسلے میں کافی کام کیا اور ان کی محنت کے نتائج بھی اچھے نکلے ہیں، اس لیے ان کا انتخاب بہت برا نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماد اظہر کو وزیر خزانہ بنانے سے حکومت کو سیاسی طور پر فائدہ حاصل ہو گا اور اب زیادہ مقامی قسم کی پالیسیوں کی امید بھی کی جا سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت