جتنی فحاشی بڑھائیں گے اتنا زیادہ جنسی تشدد ہو گا: عمران خان

عوام سے لائیو ٹیلیفونک رابطے کے دوران کالر نے سوال کیا کہ پانچ اگست 2019 کے اقدام کے بعد بھارت کے ساتھ تجارت کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی ہو گی جس پر وزیراعظم نے کہا کہ جب تک کشمیر کی آئینی حیثیت بحال نہیں ہوتی تب تک بھارت سے کوئی تجارت نہیں ہو سکتی۔

(سکرین گریب)

چھ ماہ میں دوسری مرتبہ وزیراعظم عمران خان نے عوام کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ استوار کیا اور ڈھائی گھنٹے پر محیط پروگرام میں بیس سے زائد کالز لی گئیں اور کچھ سوال سوشل میڈیا سے بھی اٹھائے گئے۔

اسلام آباد کی عنبرین نے روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مہنگائی سے گھبرانے کی اجازت چاہی، لیکن وزیراعظم نے کہا کہ انہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانا حکومت کی ترجیحات میں سب سے اوپر ہے اور اس مسئلے کا ہر صورت حل نکالا جائے گا۔ حکومت قیمتوں پر قابو پانے کی پوری کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں کئی اقدامات لیے گئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے میزبان فیصل جاوید نے کہا کہ لائیو ٹیلی فون کالز میں اس نمبر پر 0519224900 سب فون کر سکتے ہیں چاہے اُن کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے مریم نواز اور بلاول بھٹو بھی فون کر سکتے ہیں لیکن اُن کو این آر او نہیں ملے گا۔

روبینہ سہیل راجہ کے سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت تمام پاکستانیوں کو بین الاقوامی صحت کارڈ دینے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس سے پاکستان میں صحت کے شعبے میں انقلاب آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کی موجودگی میں نجی ہسپتال ملک کے دور دراز علاقوں میں قائم ہوں گے اور اس مقصد کے لیے حکومت سرکاری زمین نجی شعبے میں ہسپتال بنانے کے لیے مہیا کرے گی۔

کرپشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں غریب ملکوں سے ہر سال کرپشن سے کمایا گئے ایک ہزار ارب ڈالر امیر ملکوں کے بنکوں میں منتقل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے غریب ممالک مزید غریب ہوتے جا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں کرپشن ختم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کئی اقدامات لیے گئے ہیں۔

عرب ممالک اورسیز ویزہ بند ہونے کی وجہ سے پاکستانی نوجوانوں کو درپیش مشکلات پر ایک کالر کے سوال پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے اس معاملے پر بات کی جا چکی ہے جلد ہی اس مسئلے کو حل کر لیا جائے گا۔

کراچی کے ایک کالر نے بتایا کہ پلاٹ کا مسئلہ تھا پلاٹ پہ قبضہ ہو گیا کالر نے وزیراعظم کے سامنے دہائی دی وزیراعظم نے فیصل جاوید سے کہا کہ ان کا نام پتہ نوٹ فرما لیں ان کا پلاٹ چھڑوانے میں حکومت مدد کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں اربوں کی مالیت کی زمین قبضہ مافیا سے چھڑوائی ہے کس میں سیاست دان بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ لائیو کال سیشن پر ریکارڈ سیشن تھا جبکہ اس مرتبہ وزیراعظم آفس نے تصدیق کی کہ اب کی بار حقیقی معنوں میں لائیو کال سیشن ہے۔ فیصل جاوید نے کہا کہ کابینہ مشورہ دیا تھا کہ پروگرام ریکارڈ کر لیں لیکن وزیراعظم نے کہا کہ وہ قوم سے براہ راست بات کریں گے۔ پروگرام پہلے ڈیڑھ گھنٹے کا تھا لیکن زیادہ کالز آنے کی وجہ سے سیشن کا دورانیہ بڑھا دیا گیا۔

بچوں اور خواتین کے ریپ واقعات پر کالر کے سوال پر وزیراعظم نے کہا یہ چند ایک چیزوں میں سے ہے جو مجھے بہت تکلیف دیتی ہے انہوں نے کہا جتنے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں حقیقت میں کیسز اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اسی مقصد کے لیے ریپ کے خلاف قانون لے کر آئے ہیں۔ وزیراعظم نے پردے کی فضیلت بیان کی کہ معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھاتے جائیں گے اتنے زیادہ واقعات ہوں گے۔ اور اس کا اثر فیملی سسٹم پر بھی پڑے گا اور  طلاق کے کیسز بھی زیادہ ہوں گے۔

گجرات سی میجر صدیق ریٹائرڈ نے بتایا کہ میجر پرویز جو بلوچستان میں ایک بڑے آپریشن میں شہید ہوا۔ سرائے عالمگیر میں ان کے بیٹے کے نام پر اسپتال بننے کے لیے زمین مختص ہوئی لیکن آج تک وہاں اسپتال نہیں بن سکا۔

وزیراعظم نے ملٹری سیکرٹری سے معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عدلیہ اور نیب آزاد ہیں اب ججز کو کوئی فون کر کے من پسند فیصلے کرنے کا نہیں کہہ سکتا۔ حکومت کا نیب یا عدلیہ پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ وزیراعظم نے دوران کال کالرز کوصبر کی بھی تلقین کی۔ ڈھائی گھنٹوں میں وزیراعظم نے بیشتر سوالوں کے جواب میں کرپشن پر لیکچر دیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دریائے راوی کو بچانے کے لیے راوی شہر بنایا جا رہا ہے کیونکہ راوی اب صرف ایک نالہ بن چکا ہے اس لیے  یہ پلان سٹی ہو گا اور مکمل گرین شہر ہو گا جس سے ماحول کو فائدہ ہو گا۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ملک میں کروڑوں زیتون کے درخت لگا رہے ہیں جس سے آنے والے وقت میں زیتون کا تیل درآمد نہیں کرنا پڑے گا۔

صحافی رباب حسین نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا کہ لاہور سے کالر منظور نقوی کی کال کاٹ دی گئی کیونکہ انہوں نے کابینہ میں بیٹھے مافیا کا ذکر کیا تھا۔

منظور نقوی نے کہا کہ آپ کے ساتھ اس لیے چل رہا ہوں کیونکہ وہ خود بھی مافیا کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں موجود مافیا کے خلاف ابھی تک کوئی ایکشن شروع نہیں ہوا۔ ابھی سوال باقی تھا لیکن کال کاٹ دی گئی۔ وزیراعظم نے اس سوال کا جواب گزشتہ حکومتوں کی کرپشن کا ذکر کر کے دیا۔ 

عمران عباسی ایڈوکیٹ نے ایبٹ آباد سے فون کیا کہ تحصیل لورا کی طرف جو سڑک جاتی ہے وہاں کرشنگ سٹون مشینیں لگی ہیں جس کی وجہ سے سڑک تباہ ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا وہ اس پر آج ہی نوٹس لیں گے ۔

شہزادی عنبرین نے گجرات سے پوچھا کہ وہ تحریک انصاف کی ووٹر ہیں لیکن سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کی خبر سُن کر بہت مایوسی ہے۔ وزیراعظم نے جواب دیا کہ قرضہ اس لیے لیا تاکہ ملک ڈی فالٹ نہ کرے۔ جب آئی ایم ایف قرضہ دیتا ہے تو وہ اپنی کچھ شرائط بھی منواتا ہے۔ سٹیٹ بینک اُن میں سے ایک اور یہ سرسری چیز ہے ابھی اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی ہے۔ وزیراعظم نے کالر کو یقین دہانی کرائی کہ سٹیٹ بینک کے حوالے سے ایسا ویسا کچھ نہیں ہو گا۔

دوران نشست وزیراعظم نے کچی آبادی کے لیے پلان کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کچی آبادی میں کمرشل عمارت کھڑی کی جائیں گی اور علاقے ٹرانسفارم کیے جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گڑھی دوپٹہ آزاد کشمیر سے کالر نے سوال کیا کہ پانچ اگست 2019 کے اقدام کے بعد بھارت کے ساتھ تجارت کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی ہو گی۔ اس پر وزیراعظم نے کہا کہ جب تک کشمیر کی آئینی حیثیت بحال نہیں ہوتی تب تک بھارت سے کوئی تجارت نہیں ہو سکتی انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں تھا لیکن ایمرجنسی کی صورتحال میں یہ ایک آپشن کے طور پر زیرغور ہوا تھا۔ 

اسلام آباد این اے 53 سے ایک کالر نے سوال کیا کہ اسلام آباد میں گھر بنانا بہت مشکل کام ہے۔ اور جو پاکستانی اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں سستے پلاٹ لے کر گھر بناتے ہیں وہاں بجلی گیس کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی لہذا حکومت اس پر کچھ نظر کرے۔ وزیراعظم نے جواب دیا کہ شہروں کے ماسٹر پلان نہ ہونا اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اکثر ہاؤسنگ سوسائٹیز بھی بغیر اجازت کے بن رہی ہیں۔ اب اس حوالے سے ریگولرائز کریں گے۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے پوچھا کہ رمضان میں کب ورزش کرتے ہیں وزیراعظم نے اس کا جواب دیا کہ رمضان میں روزہ کھولنے سے پہلے کرتا ہوں۔ روزے میں ورزش نہ کرنا رمضان کا مہینہ ضائع کرنے کے برابر ہے۔

وزیراعظم کی لائیو کالز کے دوران اہم وزرا اور مشیر بھی موجود تھے تاکہ جب کوئی کالر کسی متعلقہ وزارت سے متعلق سوال کرے تو متعلقہ وزیر خود تفصیلی جواب دے۔ حماد اظہر اور شہزاد اکبر نے معیشت اور چینی کی قیمتوں پر تفصیلی جوابات دیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان