فیفا نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی رکنیت معطل کردی

فیفا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن میں بیرونی عناصر کی مداخلت کے پیش نظر رکنیت معطل کی جارہی ہے۔

فیفا  کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق فیفا کونسل کے بیورو نے تیسری پارٹی کی مداخلت کی وجہ سے فوری طور پر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی رکنیت کو معطل کردیا ہے(فائل تصویر: پکسابے)

پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) میں جاری اختیارات کی جنگ بالآخر پاکستان کی فیفا رکنیت معطل ہونے کا سبب بن گئی۔

فیفا کی جانب سے بدھ کو جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی ایف ایف میں بیرونی عناصر کی مداخلت کے پیش نظر یہ رکنیت معطل کی جارہی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے پی ایف ایف کے لاہور میں مرکزی دفتر ’فیفا ہاؤس‘ پر اشفاق حسین گروپ نے قبضہ کرکے فیفا کمیٹی کے عہدیداروں بشمول ہارون ملک کو بے دخل کردیا تھا، جس کے بعد فیفا کی جانب سے ایک دن کا وقت دیا گیا تھا کہ اگر دفتر کا چارج دوبارہ کمیٹی کے حوالے نہ کیا تو پی ایف ایف کی رکنیت منسوخ کر دی جائے گی۔

لیکن دفتر پر قبضہ کرنے والے گروپ نے فیفا کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث پاکستان فٹ بال کی رکنیت معطل کی گئی۔

پی ایف ایف کی رکنیت معطلی

فیڈریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن (فیفا) کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق فیفا کونسل کے بیورو نے تیسری پارٹی کی مداخلت کی وجہ سے فوری طور پر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی رکنیت کو معطل کردیا ہے کیونکہ یہ فیفا قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

فیفا کے مطابق اس صورتحال کی وجہ مظاہرین کے ایک گروپ کا لاہور میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے ہیڈ کوارٹر پر مخالفانہ قبضہ تھا اور پی ایف ایف کی فیفا سے مقرر شدہ کمیٹی کو ہٹا دیا گیا تھا۔

قابض کنندہ سید اشفاق حسین شاہ کو فیفا نے ایک مراسلہ جاری کیا تھا، جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان فٹ بال فیڈریشن ہیڈ کوارٹر پر ناجائز قبضہ ختم نہیں کیا گیا اور اگر فیفا کے تسلیم شدہ عہدیداروں کو اپنے مینڈیٹ کی انجام دہی کے لیے آفس تک آزادانہ رسائی کی اجازت نہیں دی گئی تومعاملہ فوری طور پر بیورو کو پیش کیا جائے گا۔

چونکہ صورتحال بدستور برقرار ہے، اس لیے کونسل کے بیورو نے پی ایف ایف کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مراسلے کے مطابق یہ معطلی صرف اس صورت میں ختم کی جائے گی جب پی ایف ایف کی طرف سے فیفا کی تعینات کردہ مصالحتی کمیٹی تصدیق کرے گی کہ پی ایف ایف کے احاطے، اکاؤنٹس اور مواصلاتی چینلز ایک بار پھر اس کے مکمل کنٹرول میں ہیں اور وہ مزید رکاوٹوں کے بغیر اپنے مینڈیٹ پر عمل پیرا رہ سکتا ہے۔

قابض گروپ کا ردعمل

پی ایف ایف کے صدر کی حیثیت سے دفتر پر کنٹرول رکھنے والے سید اشفاق حسین شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیفا کمیٹی نے 18 ماہ تک الیکشن نہیں کرائے اور نہ ہی کوئی حکمت عملی طے کی، اس لیے پاکستان کی رکنیت معطل کرانے کے ذمہ دار وہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا: ’ہم نے الیکشن جیتا اور سپریم کورٹ کے حکم پر صدر قرار دیا گیا، لہذا دفتر کا چارج ہمارا حق تھا۔ فیفا عہدیداران پاکستان میں اپنی مرضی تھوپنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے عہدیداروں کا اجلاس بلایا گیا ہے، جس میں طے کیا جاہے گا کہ معاملہ کیسے حل کرنا ہے۔

بقول اشفاق حسین شاہ: ’فیفا یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے۔ ہمارا معاملہ حل کرنے کی بجائے ہمیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کیس کے تمام قانونی پہلووں پر غور کر کے حتمی لائحہ عمل بنایاجائے گا۔‘

دوسری جانب فیفا کی نارملائزیشن کمیٹی کے مقررہ چیئرمین ہارون ملک کے مطابق: ’اشفاق حسین گروپ نے زبردستی پی ایف ایف آفس پر قبضہ کیا اور فیفا کمیٹی کو بے دخل کیا۔ اس کے بعد فیفا کی تنبیہ کے باوجود پرواہ نہیں کی، جو پی ایف ایف کی رکنیت معطلی کی وجہ بنی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اگر یہ فیفا کی ہدایات پر عمل کرتے تو حالات ایسے نہ ہوتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال