انڈونیشیا: پاکستانی سمیت 13 منشیات سمگلرز کو سزائے موت

ان افراد کی سزائے موت پر عمل فائرنگ سکواڈ کے ذریعے کیا جائے گا۔

15 دسمبر 2020 کی اس تصویر میں انڈونیشیا کے پولیس اہلکار  انتہائی طاقتور نشہ میتھم فیٹامن  کو تلف کر رہے ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

انڈونیشیا کے پراسیکیوٹرز نے کہا ہے کہ منشیات سمگل  کرنے کے الزام میں 13 افراد کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ جن سمگلروں کو سزا سنائی گئی ہے ان میں تین ایرانی اور ایک پاکستانی شہری کے علاوہ نو انڈونیشین شہری شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ ان افراد کو 400 کلوگرام انتہائی طاقتور نشہ میتھم فیٹامن انڈونیشیا سمگل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ سزائے موت پر عمل فائرنگ سکواڈ کے ذریعے کیا جائے گا۔

انڈونیشیا کی عدالت نے منگل کی شام جزیرہ مغربی جاوا کے شہر سوکابو میں کرونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے ویڈیو لنک پر سزا سنائی۔ منشیات کے سمگلروں کے گروہ سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو گذشتہ جون میں اسی شہر میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سوکابومی پراسیکیوٹرز آفس کے سربراہ بامبانگ یونیانتو نے کہا ہے کہ ایرانی شہری حسین سالاری رشید سمگلر گروہ کے سرغنہ ہیں۔ انہوں نے کہا: ’جرم کے ماسٹر مائنڈ حسین سالاری رشید کے گروہ میں چار غیرملکی شامل ہیں۔ رشید کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کیا گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ منگل کو عدالتی فیصلے کے مطابق منشیات کے سمگلروں کو جتنی بڑی تعداد میں ایک ساتھ موت کی سزا سنائی گئی وہ ایک ریکارڈ ہے۔ انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ تازہ فیصلے کے بعد اس سال انڈونیشیا میں جن لوگوں کو موت کی سزا دی گئی ان کی تعداد 30 ہو گئی ہے جبکہ جن لوگوں کو سزائے موت سنائی گئی ان میں زیادہ تر منشیات کے سمگلر تھے۔

انڈونیشیا میں منشیات کے خلاف قانون بہت سخت ہے، تاہم ملک میں کئی سال سے سزائے موت پر عمل نہیں کیا گیا۔ 2019 میں سزائے موت پانے والے فرانسیسی قیدی کی سزا کو ان کی اپیل پر عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

ایک سال پہلے انڈونیشیا کی عدالت نے تائیوان سے تعلق رکھنے والے منشیات کے سمگلروں کو بھی موت کی سزا سنائی تھی۔ انہیں تقریباً ایک ٹن کرسٹل میتھم فیٹامن انڈونیشیا لانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

انڈونیشیا میں منشیات کے کئی غیرملکی سمگلروں کی سزائے موت پر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے عمل کیا جا چکا ہے، جن میں آسٹریلوی شہری اینڈریوچن اور میورن سوکامارن بھی شامل ہیں، جنہیں 2015 میں فائرنگ سکواڈ کے حوالے کیا گیا۔

یہ کیس سفارتی سطح پر غصے کی وجہ بنا اور انڈونیشیا سے سزائے موت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مذکورہ آسٹریلوی جوڑے پر الزام تھا کہ وہ  ہیروئن کے سمگلروں کے نام نہاد ’بالی نائن‘ گینگ کے سرغنہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا