تحریک لبیک پاکستان پر پابندی رہے گی یا نہیں؟

تحریک لبیک کے خلاف درج مقدمات کی حد تک حکومت کا کہنا واضح ہے کہ سنگین مقدمات واپس نہیں لیے جائیں گے تاہم جماعت پر پابندی ہٹائی جائے گی یا نہیں اس پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔

کراچی میں تحریک لبیک کے کارکن پولیس پر پتھراؤ کرتے ہوئے (اے ایف پی فائل)

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے گذشتہ دنوں دینی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پرتشدد واقعات کے بعد عائد کی گئی پابندی برقرار رہے گی یا نہیں اس بارے میں سرکاری موقف میں ابہام سامنے آیا ہے۔

حکومت کے ایک وزیر کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعت تحریک لبیک پر لگی پابندی مرحلہ وار طریقے سے ختم کر دی جائے گی۔

یہ بات وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایک نجی ٹی وی ’ڈان نیوز‘ کے پروگرام میں بتائی۔  ان کا کہنا تھا: ’یہ بات (وزیر داخلہ) شیخ صاحب نے ایک اجلاس میں بھی کی ہے کہ یہ پابندی مرحلہ وار طریقے سے ختم کی جائے گی۔ یہ بیک جنبش قلم نہیں ہوسکتا اس میں تھوڑا سا وقت لگے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک کے جن کارکنوں پر سنگین جرائم کا الزام نہیں ان کی رہائی بھی جلد کر دی جائے گی۔ ’حکومت نے ان کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے ہم اس کے پابند ہیں۔‘

تاہم مقامی میڈیا نے گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جس میں وزیر داخلہ اور وزیر مذہبی امور نے پارلیمانی پارٹی کو ٹی ایل پی سے مذاکرات پر بریفنگ دی۔

ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ معاہدے کے مطابق حکومت قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرے گی، تاہم تحریک لبیک پر پابندی ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور ٹی ایل پی کالعدم جماعت ہے اور اس پر پابندی برقرار رہے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹی ایل پی کارکنان پر قتل کے مقدمات بھی واپس نہیں لیے جا رہے تاہم ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کو ایم پی او کے تحت رہا کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے 14 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے رولز 11 بی کے تحت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی سفارش کے بعد تحریک لبیک پاکستان  پر پابندی کی سمری کابینہ کو منظوری کے لیے بھیجی جا رہی ہے۔

شیخ رشید نے ایک پریس کافرنس کے دوران کہا کہ مذہبی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ سیاسی حالات کی بنا پر نہیں بلکہ تحریک لبیک کے کردار کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

تحریک لبیک کے خلاف درج مقدمات کی حد تک حکومت کا کہنا واضح ہے کہ سنگین مقدمات واپس نہیں لیے جائیں گے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے جن ورکرز کے خلاف قتل کے مقدمات ہیں وہ ختم نہیں ہوں گے، ایسے مقدمات ختم کرنا حکومت کے اختیار میں نہیں ہے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی لیکن جن لوگوں کے خلاف مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں انہیں ختم کر دیا جائے گا۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ حکومت نے کالعدم تنظیم کے مطالبات پورے کر دیے ہیں، خوش آئند بات ہے کہ پورے ملک سے دھرنے ختم ہو گئے ہیں، اب ان کے پاس احتجاج کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

حکومت پر پہلے ہی ایک قدامت پسند جماعت کے دباؤ میں آ کر بہت سے مطالبات تسلیم کر کے غیرمعمولی نرمی دکھانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ اچانک پابندی لگانے اور اب ہٹانے کے فیصلے پر اسے اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست