سخت گیر تحریک لبیک کے نئے نرم مزاج لیڈر درست انتخاب ہیں؟

پارٹی نے علامہ خادم حسین رضوی کے 35 سالہ دھیمے مزاج بیٹے کو قیادت سونپی ہے لیکن کیا وہ پارٹی کے سخت گیر موقف کو لے کر چل سکیں گے؟

مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد جماعت کے نئے سربراہ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

ہفتے کو علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ سے قبل ان کے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی کی نامزدگی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ وہ اس سے قبل جماعت کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔

جمعرات کو علامہ خادم کے انتقال کے بعد پارٹی رہنماؤں کی ہنگامی مشاورت میں حافظ سعد کو نیا امیر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ سعد سابق سربراہ ٹی ایل پی کے دو بیٹوں میں سے بڑے بیٹے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی تقرری سے تنظیمی ڈھانچہ تو مکمل ہوگیا لیکن ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج جماعت کے سخت گیرمذہبی موقف پرعمل ہوگا۔  تحریک لبیک کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کارکن متحد رہ کر پارٹی منشور کے تحت جدوجہد جاری رکھیں گے۔ 

ٹی ایل پی کا مستقبل کیا ہوسکتا ہے؟

یہ سوال جب صحافی ندیم رضا سے کیا گیا توانہوں نے کہا کہ ماضی کی روایات کو مدنظر رکھیں تو ایسی مثال نہیں ملتی جب کسی مذہبی جماعت کے معروف سربراہ کی وفات ہو تو ان کے بعد جماعت اتنی متحد، موثر یا مشہور رہ پائے۔ 

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سلیم قادری کی سربراہی میں سنی تحریک بنی تھی، انہیں بھی اپنے سخت گیر بیانیے کی وجہ سے شہرت ملی لیکن جب کراچی میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں ان سمیت دیگر پارٹی قیادت قتل کر دی گئی تو اس کے بعد آہستہ آہستہ سنی تحریک غیر متحرک ہوتی گئی۔

’اسی طرح دیگر کئی جماعتیں بھی ماضی کا حصہ بن چکی ہیں یا وہ پہلی جیسی موثر نہیں رہیں۔ ان میں شاہ احمد نورانی کی جماعت، سپاہ صحابہ اور ایم کیو ایم کی مثالیں موجود ہیں۔‘

ندیم رضا کے خیال میں تحریک لبیک پاکستان کو بھی گذشتہ چند سالوں میں غیر معمولی شہرت ملی جس میں سب سے بڑا کردار علامہ خادم حسین رضوی کی شعلہ بیانی، بے خوف خطاب اور سخت گیر موقف تھا۔ ’ان کے خطابات اور ناموس رسالت سے متعلق سخت موقف پر دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں لوگوں کی بڑی تعداد اس جماعت سے منسلک ہوئی۔‘

انہوں نے کہا جس طرح ممتاز قادری کی پھانسی، حلف ناموں میں تبدیلی اور آسیہ مسیح کی رہائی کے خلاف اور اب فرانسیسی صدر کے بیان سے متعلق احتجاج کیا گیا اسی طرح جماعت کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے نئے امیر شاید موثر ثابت نہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سطح کے لیڈر کے انتقال کے بعد موروثی قیادت اور حکمت عملی میں اختلاف پر دھڑے بندیاں بھی دیکھنے میں آسکتی ہیں۔

حافظ سعد رضوی کون ہیں:

تحریک لبیک پاکستان کے رہنما حسن بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ علامہ خادم کی وفات جماعت کے لیے بڑا نقصان ہے لیکن یہ ایک تنظیم ہے جس کا مکمل انتظامی ڈھانچہ اور مجلس شوری موجود ہے۔ ’ہمارے ملک بھر میں لاکھوں کارکن ہیں جو قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہیں لہٰذا نئے امیر کے ساتھ ٹی ایل پی اپنے موقف اور منشور پر پہلے کی طرح ہی قائم رہے گی۔‘

حسن بٹ کے مطابق حافظ سعد پڑھے لکھے اور تجربہ کار ہیں۔ انہوں نے انٹر کے بعد مذہبی تعلیم حاصل کی، قرآن پاک حفظ کیا اور عالم کا کورس مکمل کر رکھا ہے۔ ’وہ پہلے بھی تحریک لبیک کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل جیسے اہم عہدے پر کام کرتے رہے ہیں اور امید ہے وہ جماعت کو بہتر انداز میں چلائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ 35 سالہ حافظ سعد ’سمجھ دار ہیں لیکن وہ اپنے والد کی طرح شعلہ بیان اور سخت لب و لہجہ نہیں رکھتے بلکہ دھیمے مزاج کی شخصیت ہیں، ان کا جوش خطابت بھی سابق امیر جیسا نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر قائم مقام امیر نامزد کردیا گیا ہے مگر حتمی فیصلہ مجلس شوری کرے گی۔ ’جلد ہی مجلس شوری کا اجلاس ہوگا جس میں ملک بھر سے قیادت شریک ہوگی، وہاں ہر پہلو سے حالات کا جائزہ لیا جائے گا پھر فیصلہ ہوگا کہ حافظ سعد رضوی کو مستقل امیر تحریک لبیک کام کرنے دیا جائے یا کوئی ان سے بہتر ہے جو موثر انداز میں تنظیم اور جماعت کو چلا سکے۔‘

علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے دو روز بعد ہفتے کی دوپہر گریٹر اقبال پارک، مینار پاکستان میں نماز جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ یہ جنازہ لاہور کی تاریخ کا بڑا جنازہ شمار کیا جا رہا ہے۔

جنازہ حافظ  سعد رضوی نے پڑھایا جس کے بعد میت کی تدفیق تحریک لبیک کی مرکزی مسجد رحمت العالمین مسجد، ملتان روڑ سے ملحقہ مدرسے میں کر دی گئی۔

جمعرات کو انتقال کے بعد علامہ خادم کی نماز جنازہ کا وقت بعد نمازِ جمعہ رکھا گیا لیکن ملک بھر سے کارکنوں کی آخری دیدار کی خواہش پر جنازے کا وقت ایک دن مزید بڑھا کر ہفتے کی صبح 10 بجے کر دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دوران ان کی میت تحریک لبیک کے مرکز میں موجود رہی جہاں ہزاروں کارکنوں نے ان کا آخری دیدار کیا اور نماز جنازہ میں شرکت کے لیے لاہور ہی قیام کیا۔ نماز جنازہ سے قبل ہی گریٹر اقبال پارک مینار پاکستان کارکنوں اور شہریوں سے بھر گیا۔ ہزاروں کارکن ملتان روڑ سے میت کے ساتھ آئے، فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے میت ایمبولینس میں لائی گئی۔

چند کلو میٹرکا سفر ایمبولینس نے رش کے باعث گھنٹوں میں طے کیا اور 10 بجے کی بجائے نماز جنازہ ڈیڑھ بجے کے قریب ادا کی گئی۔ گریٹر اقبال پارک میں جہاں بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی پنڈال بھرنا مشکل لگتا ہے وہاں نہ صرف پنڈال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا بلکہ اطراف کی سڑکوں، اوپر سے گزرنے والے آزادی چوک فلائی اوور پر بھی لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔

انتظامیہ کی جانب سے اس موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے جبکہ شرکا کی گاڑیوں کی پارکنگ بھی اردگرد شاہراہوں پر دور تک دکھائی دی۔ ملک میں کرونا وبا کی دوسری لہر کے باوجود نماز جنازہ کے موقعے پر ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں دکھائی دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان