ڈیرک شوین مجرم ہے۔ یہ آغاز ہے، اختتام نہیں

 جب میں چھوٹا تھا، میں مدد کے لیے پولیس کے پاس گیا تھا۔ بعد میں، میں نے سیکھا کہ ایسا نہیں کرنا۔

ڈیرک شوین کو فیصلہ سنائے جانے کے بعد ہتھکڑیوں میں لے جایا جا رہا ہے۔ایک جیوری نے 11 گھنٹے فیصلے پر غور کیا اور 45 سالہ شوین کو اس کے خلاف تینوں الزامات کا مرتکب پایا(اے ایف پی) 

ٹیکساس میں ایک سیاہ فارم اور ہم جنس پرست کے طور پر پروش پانے کے دوران میں نے ایک نیلے لباس میں ملبوث شخص کو روکا جب اس نے مجھ پر ’ہم جنس پرست‘ ہونے کی وجہ سے شدید تنقید کی۔ میں گھبرا گیا۔ میری مدد کی بجائے اس نے کہا کہ ’اگر تم ایڈز نہیں پھیلا رہے ہوتے تو تمھیں یہ لات نہ پڑتی۔‘ اس کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا۔

یہ واحد وقت نہیں تھا جب میں پولیس سے بات کرتا تو میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ آیا وہ میرے جیسے لوگوں کی حفاظت اور خدمت کے لیے ہیں یا نہیں۔

کئی سال پہلے، جب میں ہیوسٹن میں اپنی بہن سے ملنے گیا تو ہمیں بندوق کی نوک پر دو افراد نے لوٹ لیا جنہوں نے ہمارے چہروں کے سامنے اسلحہ لہرایا۔ جب وہ اپنی مرضی کے مطابق جو وہ لیجانا چاہتے تھے لے گئے، تو میں اور میری بہن دنگ رہ گئے۔ ہم نے سنجیدہ بحث کی کہ ہمیں پولیس کے پاس جانا چاہیے یا نہیں۔ آخر کار، ہم نے ایسا نہیں کیا۔ ہمیں خوف تھا کہ ہم ڈکیتی سے زیادہ کسی چیز کے شکار ہو جائیں گے۔

اسی لئے ڈیریک شوین کی سزا حیرت کی بات نہیں ہے: آج وہ تمام قتل کے الزامات میں قصوروار پایا گیا تھا اور اب اسے 40 سال کی قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم سفید فام پولیس کو سیاہ اور بھورے لوگوں کو مارنے کے الزامات سے مبرا دیکھنے کے اتنے عادی ہیں کہ ہمارے لیے مشکل ہے ردعمل ظاہر کرنا۔

شوین کی سزا جارج فلائیڈ کو واپس نہیں لائے گی۔ یہ بھی سفید فام افسران کو سیاہ فام افراد کے زیادہ قتل سے نہیں روک سکے گی۔ لیکن یہ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ بلآخر ہم کہیں کہ ’بلیک لائفز میٹر‘اور اس پر یقین کریں، اور امید کریں کہ عوام کی حفاظت کو ان طریقوں سے تبدیل کیا جائے جو واقعی میں تمام برادریوں کے تمام لوگوں کی خدمت کرسکیں۔

ڈیرک شوین نے جارج فلائیڈ کی انسانیت کو اس طرح نہیں دیکھا جیسے افسران بریونا ٹیلر کی انسانیت کو نہیں دیکھا تھا جب وہ کینٹکی میں اپنے گھر میں سوئی تھی، یا سٹیفن کلارک کی انسانیت کو جب وہ کیلیفورنیا میں اپنی دادی کے گھر کے عقب میں کھڑے تھے، یا اوہائیو کے ایک عوامی پارک میں کھیلتے ہوئے 12 سالہ تیمر رائس کی انسانیت۔ انہوں نے سیاہ جلد دیکھی اور بندوق نکال کر جواب دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیاہ فام لوگ امید کرتے رہتے ہیں کہ آخر کار سفید فام امریکی اور منتخب عہدیدار جو ہم دیکھتے ہیں وہ دیکھیں گے: پولیس محکمے ’پہلے گولی مار دیں بعد میں بہانے بنائیں‘ کی ذہنیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں جس سے رنگت والے لوگوں کو خطرہ لاحق ہے۔ یہ احساس کہ پولیس افسر کے ساتھ کوئی بھی ملاقات ایک مہلک غلط موڑ اختیار کرسکتی ہے ہماری اجتماعی ذہنی صحت کو شدید خطرہ لاحق کیا ہے۔ یہ جان کر حیرت ہو رہی ہے کہ ہمارے ٹیکس ڈالر ہمیں نقصان پہنچانے والوں کی تنخواہوں کی ادائیگی میں استعمال ہوتے ہیں۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ صرف چند گندے سیب‘ ہیں جیسے ہم پھلوں کی سلاد کی بات کر رہے ہیں نہ کہ ان لوگوں کی جن کی کمر سے بندوق لپٹی ہوئی ہے اور انہیں استعمال کرنے کا انہیں اختیار ہے۔ اور تاریخ نے ہمیں بتایا ہے کہ یہاں تک کہ جب ایک اچھا پولیس اہلکار طاقت کے زیادہ استعمال کو روکنے کی کوشش کرتا ہے تو انہیں سزا دی جاتی ہے۔ بلیک آفیسر کیریول ہورن کا معاملہ لیں، جنہیں 2008 میں مداخلت کرنے پر برطرف کیا گیا تھا جب ایک اور افسر نے ایک ہتھکڑی بند ملزم پر ایک چوکیولڈ استعمال کیا۔ یہ اس کی ایک مثال ہے۔ 13 سال طویل عدالتی لڑائی کے بعد انہیں اس ہفتے ایک فیصلہ سنایا گیا کہ جس کے تحت انہیں تنخواہ اور پنشن واپس مل جاتی ہے۔ یہ اب بھی منصفانہ نہیں ہے، لیکن یہ ایک شروعات ہے۔

سب منتخب عہدیداروں کو نیویارک کے بلیک اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز کی سفارش پر عمل کرنا چاہیے، تاکہ پولیس محکمہ ٹریفک کے معمول کے معاملات سے نکل جائے اور معمولی واقعات کے پیچھے جاتے ہوئے بے وقوفانہ تشدد کو ختم کریں۔ انہیں ورجینیا جیسی ریاستوں کی پیروی کرنی چاہئیے جنہوں نے ’بریونا کا قانون‘ منظور کیا ہے تاکہ وارنٹ پر پابندی عائد کی جاسکے اور تلاش کے دوران مزید افسران کو جسمانی کیمرے لگانے کی ضرورت ہو۔

دیگر الفاظ میں وہ مزید تبدیلی کے لیے تیار ہوں۔ یہ فیصلہ ایک آغاز ہے ایک تحریک کا اختتام نہیں جو کہتی ہے کہ پولیس اتنے عرصے سے سیاہ فام افراد کی انسانیت کو قبول کرے جس میں وہ ناکام رہے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ