شہر اور ویرانے: ٹرک ڈرائیوروں کے روزے کیسے گزرتے ہیں؟

بلوچستان سے سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سامان پہنچانے والے ٹرک ڈرائیور نذر علی کہتے ہیں کہ رمضان میں روزہ رکھنے اور کھولنے کے وقت گھر کی یاد ان کے ساتھ رہتی ہے۔

کبھی شہر اور کبھی ویرانوں سے گزر کر منزل مقصود تک سامان پہنچانے والے ٹرک ڈرائیور کی زندگی سفر میں ہی گزرتی ہے لیکن مشکل کا سامنا اسے اس وقت کرنا پڑتا ہے جب رمضان کا مہینہ آتا ہے۔

آٹھ نو سالوں سے ٹرک چلانے والے نذر علی بھی کہتے ہیں کہ ڈرائیونگ اور روزہ رکھنا دونوں ہی مشکل کام ہیں جن میں توازن قائم کرنا کبھی ممکن نہیں رہتا ہے۔

نذر علی کہتے ہیں: ’ہم بلوچستان سے سندھ، کرچی، پنجاب اور خیبر پختونخوا جاتے ہیں۔ ہماری اکثر زندگی سفر ہی میں گزرتی ہے۔‘

رمضان جہاں خوشی کا پیغام لاتا ہے وہاں ڈرائیورز کو روزہ کھولنے کے لیے سڑک کنارے مخیر حضرات کے دسترخوانوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

نذر علی نے بتایا کہ اکثر اوقات وہ روزہ پانی سے رکھتے ہیں کیوں کہ رات کے وقت چیزیں بروقت میسر نہیں ہوتی ہیں۔ کبھی ہم کسی شہر کے  اندر پہنچ جاتے ہیں لیکن بعض اوقات نہیں پہنچ پاتے۔

’سفر تو ویسے ہی مشکل کام ہے۔ ہمیں اکثر ایسے ہی مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ پہلے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی ہوٹل کھلا ہے۔ اگر وہ بند ہے تو جو کچھ راستے میں مل جاتا ہے بس اسی پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔‘

نذر علی کہتے ہیں کہ ’رمضان کے دوران بعض اوقات ہم پانچ چھ گاڑیوں کے ڈرائیور اکٹھے ہوکر کہیں رک کر کھانا پکاتے ہیں لیکن یہ بھی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا کیوں کہ میں اگر پہلے نکل جاتا ہوں تو دوسری گاڑی تاخیر سے روانہ ہوتی ہے۔ اس لیے ہم ایک جگہ ایک وقت پر نہیں پہنچ سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اگر ہم کھانا نہ بناسکیں تو پھر راستے میں جو پمپ والے مسافروں کے لیے افطاری کا بندوبست کرتے ہیں وہاں رک کر جیسے تیسے روزہ  افطار کر لیتے ہیں۔‘

اس وقت رمضان کا مہینہ ہے اور کوئٹہ سے کراچی جانے والی شاہراہ پر تمام ہوٹلز بند ہیں۔ اس لیے نذر علی کہتے ہیں کہ وہ کبھی منگیچر سے پکوڑے لے لیتے ہیں اور کبھی کسی ہوٹل جو بند ہوں تو وہاں رک کر اپنے پاس موجود سامان سے روزہ افطار کر لیتے ہیں۔

نذر علی اور دوسرے ان جیسے ڈرائیوروں کو گھر کی یاد تو آتی ہے لیکن رمضان میں روزہ رکھنے اور کھولنے کے وقت گھر ان کی نظروں کے سامنے رہتا ہے۔

’گھر تو گھر ہے روزہ کے دوران وہاں سب کچھ ملتا ہے۔ سفر میں تو بعض اوقات پانی کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا ہے۔‘

نذر علی کہتے ہیں کہ چونکہ گاڑی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا اس لیے ہم ویسے کبھی ٹائر پنکچر ہونے یا کسی اور خرابی کے باعث مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں لیکن ایسی صورت حال رمضان میں زیادہ مسائل لے کر آتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا